عمران خان جسٹس فائز عیسیٰ کا پیچھا کیوں نہیں چھوڑ رہے؟

وزیراعظم عمران خان کی سفارش پر صدر عارف علوی کی جانب سے دائرکردہ نااہلی کے ایک صدارتی ریفرنس کو شکست دینے والے سپریم کورٹ کے سینئیر ترین جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نہ تو فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ہضم ہو رہے ہیں اور نہ ہی عمران خان کو۔
جسٹس قاضی فائز عیسی کو ایک صدارتی ریفرنس کے ذریعے سپریم کورٹ سے نکالنے کی کوشش میں ناکامی کے بعد بھی وزیراعظم عمران خان جج صاحب سے اپنی پرخاش کا اظہار کرنے سے باز نہیں آتے۔ اپنی حالیہ تقریر کے دوران وزیراعظم نے یہ تک کہہ دیا کہ آج کل پاکستانی اپوزیشن سپریم کورٹ کے ایک جج کو بہت اٹھا رہی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ وہ اس جج کو اوپر چڑھا دے۔ یاد رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کو سپریم کورٹ میں آزاد عدلیہ کی علامت قرار دیا جاتا ہے اور اسی لئے حالیہ دنوں میں اپوزیشن جماعتیں اپنے جلسوں کے دوران حکومت کی جانب سے ان سے جان چھڑوانے کی کوششوں کی مذمت کرتی نظر آئی ہیں۔ عرصہ دراز سے سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرنے والے اور حال ہی میں اغوا ہو کر واپس آنے والے سینئر صحافی مطیع اللہ جان نے بھی اپنی ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ موجودہ حکومت نہیں چاہتی کہ جسٹس قاضی فائز عیسی 2023 میں چیف جسٹس پاکستان بنیں۔ اپنی ٹویٹ میں مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کوشش کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کے جج کو آئین کے برخلاف نیچے دبا دیں اور اسے آئین کے مطابق 2023 میں چیف جسٹس نی بننے دیں۔ مطیع کے مطابق وزیر اعظم کا یہ بیان قانون کی بدنیتی نہیں بلکہ حقائق کی بدنیتی ہے اور جوڈیشل کونسل اہ ی کارروائی پر اثر انداز ہونے والے اس بیان کا نوٹس لے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جسٹس قاضی فائز عیسی کو دوبارہ اس لیے نشانے پر رکھا ہے کیونکہ گزشتہ مہینے وزیراعظم نے تحریک انصاف لائرز فورم کے ایک کنونشن کی صدارت کی تھی جسکا جسٹس فائز عیسی نے سو موٹو نوٹس لیا تھا۔ اس حوالے سے جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا تھا کہ وزیر اعظم پورے ملک کے وزیراعظم ہیں لہٰذا وہ علاقے کسی ایک دھڑے کے سربراہ ہیں نہیں کر سکتے۔ 12 اکتوبر کو سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ بادی النظر میں وزیر اعظم نے اس تقریب میں ذاتی حیثیت میں شرکت کی اور وزیراعظم کی کسی خاص گروپ کے ساتھ الائن نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ پورے ملک کے وزیرِ اعظم ہیں۔جسٹس عیسی نے ریمارکس دیے تھے کہ یہ معاملہ آئین کی تشریح اور بنیادی حقوق کا ہے۔ اگر یہ تقریب کسی پرائیوٹ ہوٹل میں ہوتی تو اور بات تھی ا ور اس تقریب کے لیے عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا استعمال کیا گیا۔ انکا کہنا تھا کہ وزیراعظم ملک کے ہر فرد کے وزیر اعظم ہیں، کسی ایک جماعت کے نہیں۔ بعد ازاں جسٹس عیسیٰ نے یہ کیس چیف جسٹس آف پاکستان کو بھجوا دیا جس پر ابھی تک مزید کاروائی نہیں کی گئی۔
اس حوالے سے مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما مریم نواز نے بھی وزیراعظم عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یکم نومبر کو لاہور میں نون لیگ کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مریم نواز نے کہا کہ حکومت کو جسٹس فائز عیسیٰ سے اس بات کی تکلیف ہے کہ انھوں نے چند برس قبل فیض آباد دھرنا کیس میں خفیہ ایجنسیوں کے کردار پر سوالات اٹھائے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور کپتان حکومت مل کر قاضی فائز عیسیٰ کو سپریم کورٹ سے نکالنا چاہتے ہیں تاکہ 2023 میں وہ سنیارٹی کے لحاظ سے چیف جسٹس پاکستان نہ بن سکیں۔ واضح رہے کہ موجودہ چیف جسٹس جسٹس گلزار احمد دوسال ایک ماہ تک چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدے پر فائر رہیں گے۔ سنیارٹی کے اعتبار ست اگلا نمبرجسٹس عمرعطا بندیال کا ہوگا جو 2فروری 2022سے ایک سال سات ماہ 15دن کے لیے اس عہدے پرفائز رہیں گے۔ موجودہ جج صاحبان میں سے جسٹس قاضی فائز عیسی 17ستمبر 2023 کو ایک سال نوماہ اور نو دن کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کا عہدہ سنبھالیں گے۔
جسٹس فائز عیسی کے خلاف اسٹیبلشمنٹ اور حکومت کا گٹھ جوڑ ماضی میں ان کی جانب سے دی گئی رولنگزاورسخت ریمارکس کی وجہ سے ہے۔ معاملہ صرف فیض آباد دھرنا کیس یا عمران خان کو نوٹس بھجوائے جانے تک محدو د نہیں ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے جب 2016 کے کوئٹہ سول ہسپتال خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا تو اس کی سربراہی جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دی گئی تھی۔ اس کمیشن نے اپنی رپورٹ میں سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے اور ساتھ میں کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا۔کمیشن نے نیشنل ایکشن پلان کو مناسب طریقے سے ترتیب دینے کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ انسدادِ دہشت گردی کے ادارے نیکٹا کی ناقص کارکردگی پر تنقید کی تھی۔جسٹس عیسیٰ کی سربراہی میں قائم اس کمیشن نے اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار سے کالعدم تنظیم اہل سنت و الجماعت کے سربراہ علامہ یوسف لدھیانوی سے ملاقات پر بھی سوال اٹھایا تھا۔چوہدری نثار نے الزامات کو ذاتی قرار دیا تھا جبکہ حکومت نے کمیشن کی رپورٹ پر نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔سپریم کورٹ کی فل کورٹ نے جب 2015 میں چیف جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں فوجی عدالتوں کے قیام کے حق میں فیصلہ دیا تو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ان چھ ججوں میں شامل تھے جنھوں نے فوجی عدالتوں کی مخالفت کی تھی۔سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سب سے زیادہ از خود نوٹس لیے اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اس کارروائی پر بھی اعتراض کیا تھا۔
قانونی ماہرین کا ماننا ہے کہ چونکہ جسٹس فائز عیسیٰ ایک قانون پسند جج کے طور پر جانے جاتے ہیں اور ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کو کھلی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں اس لئے تحریک انصاف حکومت اور مقتدر ادارے ہرگز نہیں چاہیں گے کہ 2023 یہ جسٹس فائز عیسیٰ چیف جسٹس پاکستان کی کرسی پر بیٹھیں۔ یہی وجہ ہے کہ چند ماہ قبل ان کے خلاف ایک ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کو بھجوا گیا جسے کئی مہینوں کی سماعت کے بعد بدنیتی پر مبنی قرار دے کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا تاہم ان کی اہلیہ کی غیر ملکی جائیدادوں کے حوالے سے ایف آئی اے تحقیقات کر رہی ہے۔ تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ حکومت اور اسٹیبشمنٹ و جسٹس فائز عیسی پر اصل پر اصل غصہ فیض آباد دھرنا کیس سے متعلق حق سچ پر مبنی فیصلہ دینے کے حوالے سےہے جس کی زد میں آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ جنرل فیض حمید آتے ہیں۔
یاد رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے نومبر 2017 میں فیض آباد کے مقام پر دیے گئے دھرنے کے خلاف از خود نوٹس کے فیصلے میں جہاں ایک جانب سرکاری اداروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں وہیں دوسری جانب عسکری حکام پر بالخصوص کافی تنقید کی گئی تھی۔جسٹس فائز عیسی اور جسٹس مشیر عالم پر مبنی دو رکنی بینچ نے اپنے 43 صفحات پر مشتمل فیصلے میں مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان، ان کے دھرنے کے پس منظر، الیکشن کمیشن آف پاکستان، میڈیا کے نگران ادارے پیمرا، سینسرشپ اور خفیہ اداروں پر مبنی کئی مختلف عوامل سے متعلق رولنگ دیں۔اس فیصلے کا خاص نکتہ خفیہ اداروں کے بارے میں تھا جہاں ان کی کارکردگی کو آڑے ہاتھ لیا گیا۔پاکستان کی سب سے اہم خفیہ سروس، آئی ایس آئی کے بارے میں عدالت نے کہا کہ عام تاثر ہے کہ آئی ایس آئی ایسی سرگرمیوں میں ملوث ہے جو کسی خفیہ ادارے کے دائرہ کار میں نہیں آتا، جیسے سیاست، اور ایسے اقدامات نہیں لیے گئے جس سے یہ آئی ایس آئی کا سیاست میں ملوث ہونے کا تاثر زائل ہو سکے۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں یہ بھی کہا کہا گیا ہے کہ’تمام خفیہ اداروں بشمول آئی ایس آئی، آئی بی اور ایم آئی اور پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کو اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ اظہار رائے کی آزادی کو سلب کر سکتے ہیں اور نہ ہی انھیں چینلز اور اخبارات کی نشرواشاعت اور ترسیل میں مداخلت کا اختیار ہے۔فیصلے میں کہا گیا کہ ملک کے عسکری اداروں اور خفیہ اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسا تاثر نہ دیں کہ ان کی کسی سیاسی جماعت سے ہمدردی ہے اور ایسا کرنے والا کوئی بھی شخص سیاسی معاملات میں ملوث ہوتا ہے یا میڈیا پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتا ہے تو وہ عسکری اداروں کے نظم و ضبط کی خلاف ورزی ہے۔ فیصلے کے آخر میں دی گئی تجاویز میں عدالت نے آرمی چیف، اور بحری اور فضائی افواج کے سربراہان کو وزارتِ دفاع کے توسط سے حکم دیا ہے کہ وہ فوج کے ان اہلکاروں کے خلاف کارروائی کریں جنھوں نے اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی سیاسی جماعت یا گروہ کی حمایت کی۔
یہ بھی یا درہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے اپریل 2019 میں عدالت عظمیٰ میں پٹیشن دائرکی جس میں انھوں نے سپریم کورٹ کے جج قاضی فائز عیسی پر جانبداری کا الزام لگاتے ہوئے نومبر 2017 کے فیض آباد دھرنے کے خلاف سنائے گئے ان کے فیصلے کو کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے دائر کی گئی نظرثانی کی اپیل میں فیض آباد دھرنے کا فیصلہ لکھنے والے جج جسٹس قاضی فائز عیسی کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں 2014 میں پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک کی جانب سے دیے گئے دھرنے کا ذکر کر کے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں اور رہنماؤں کے ساتھ تعصب کا مظاہرہ کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ماضی میں جسٹس فائز عیسی کے حوالے سے تلخ تجر بات اور حال ہی میں وزیراعظم کو نوٹس جاری ہونے کے بعد ہر صورت انہیں چیف جسٹس بننے سے روکنا چاہتی ہے لیکن ساتھ ہی خبردار کیا ہے اگر حکومت نے اس مقصد کے حصول کے لئے پھر کوئی سازش کی تو 2007 کے مقابلے میں کہیں بڑی وکلا تحریک چلنے کا بھی خدشہ ہے۔
