کلبھوشن کو این آر او دینے کے پیچھے چھپی کہانی کیا ہے؟

اپوزیشن جماعتوں نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے لئے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے کی جانے والی قانون سازی کو این آر او قرار دیتے ہوئے عمران خان کو نریندر مودی کا یار قرار دیا ہے تاہم حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ قانون سازی پاکستان کی مجبوری تھی ورنہ اسے جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی کے الزام پر عالمی سطح پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔
یاد رہے کہ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت نے کلبھوشن یادیو کو سزا کے خلاف اپیل کا حق دینے کے کے فیصلے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوسروں کو مودی کا یار قرار دینے والا عمران خان خود مودی کا یار غار ثابت ہوا اور اسے ریلیف دلوانے کے لیے تمام پارلیمانی روایات کو بلڈوز کردیا گیا۔
تاہم دوسری جانب قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ کلبھوشن یادیو سے متعلق قانون سازی پر اعتراضات تو اٹھائے جا رہے ہیں لیکن یہ قانون سازی اشد ضروری تھی اور ایسا خر کے پاکستان نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داری پوری کی ہے۔ 17 نومبر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کئے جانے والے دیگر بلوں کے ساتھ پاکستان میں برسون سے مقید مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو ریلیف دینے کے لیے بھی ایک بل منظور کیا گیا جسے اپوزیشن جماعتوں نے این آر او قرار دیا۔ ان کا اعتراض تھا کہ کلبوشن نے بلوچستان میں دہشتگردی کی ایسی خون آشام کاروائیاں کروائیں جن میں درجنوں معصوم پاکستانیوں کی جان چلی گئی لہذا ایسے شخص کو کسی قسم کی ریلیف دینا مرنے والوں کے خون سے غداری کے مترادف ہے۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت کا موقف ہے کہ اگر یہ فیصلہ ان کی حکومتوں نے کیا ہوتا تو عمران خان کی جماعت نے نے آسمان سر پر اٹھا لیا ہوتا۔
تاہم حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے قانونی ماہرین کے نزدیک ایسا کرنا پاکستان کے لئے ضروری ہوگیا تھا ورنہ عالمی سطح پر اسے قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔ اس معاملے پر فواد چودہری کا کہنا ہے کہ یہ قانون ہم نے بین الاقوامی برادری کے ایک ذمہ دار رکن ملک کی حیثیت سے اپنی بین الاقوامی ذمہ داری پوری کرنے کے لئے منظور کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تصور درست نہیں کہ اس سے کلبھوشن کو کوئی اضافی فائدہ پہنچے گا یا پاکستان نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کو مانتے ہوئے اپنے اقتدار اعلیٰ پر کوئی سمجھوتہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے پہلے اس سلسلے میں آرڈینینس پاس کیا تھا جو چار مہینوں کے لئے ہوتا ہے۔ پھر اس میں ایک بار توسیع بھی کی گئی اور کلبھوشن کو قونصل رسائی بھی دی گئی اور پاکستانی وکلاء اس کا مقدمہ لڑنے کے لئے بھی تیار ہیں۔ لیکن بھارت چاہتا ہے کہ وہاں سے وکلاء آ کر ان کا مقدمہ لڑیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے بھارت میں بار کونسل کے ضوابط کے مطابق کوئی پاکستانی وکیل وہاں لائسنس کی شرائط پوری کئے بغیر مقدمہ نہیں لڑ سکتا اسی طرح پاکستان میں بھی کوئی باہر کا وکیل مقدمہ نہیں لڑ سکتا۔ اسی کشمکش میں صدارتی آرڈی نینس کی چار چار مہینے کی دو مدتیں گزر گئیں اور بات آگے نہ بڑھ سکی۔ فواد کے بقول اسی لئے یہ قانون سازی ضروری ہو گئی تھی اور اسطرح پاکستان نے اپنی بین الاقوامی ذمہ داری پوری کی ہے۔
اس قانون سازی کے حوالے سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کے چیئرمین، تحریک انصاف کے بیرسٹر علی ظفر نے کہا ہے کہ جب کلبھوشن کو گرفتار کیا گیا تھا تو انھیں کونسلر رسائی نہیں دی گئی تھی، یعنی ان کے ملک بھارت کے سفارت کاروں یا قانونی ماہرین سے انھیں ملنے نہیں دیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس بنیاد پر بھارت بین الاقوامی عدالت انصاف میں گیا اور یہ موقف اختیار کیا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے مطابق ایسی صورت میں ملزم تک اس کے ملک کے سفارت کاروں یا قانونی ماہرین کی رسائی کو لازمی قرار دیا گیا ہے، اور چونکہ پاکستان نے یہ رسائی نہیں دی، اس لئے ان کے لئے تجویز کردہ سزا ختم کی جائے۔ بقول بیرسٹر ظفر علی، عالمی عدالت انصاف نے سزا تو ختم نہیں کی اور وہ کر بھی نہیں سکتی تھی، کیونکہ پاکستان یا کسی بھی خودمختار ملک کی کسی بھی عدالت کے فیصلے کو ختم کرنا اس کے دائرہ اختیار میں نہیں۔ لیکن، عدالت نے اتنا ضرور کہا کہ پاکستان نے اگر انھیں ‘کونسل ایکسیس’ نہیں دی تو انھیں ایسی قانون سازی کرنی چاہئیے کہ انھیں یہ رسائی حاصل ہو”۔ انھوں نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کی روشنی میں اپنی بین الاقوامی ذمہ داری کو پورا کرتے ہوئے یہ قانون سازی کی گئی ہے۔ بیرسٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ یہ ایک سادہ سا مسئلہ ہے، جسے درست طریقے سے سمجھنے کی کوشش نہیں کی جا رہی ہے اور اس کی ایک وجہ تو غالباً یہ ہے کہ اس قانون کو جو نام دیا گیا اس سے یہ تاثر لیا جا رہا ہے کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے حکم یا دباؤ کے تحت یہ قانون سازی کر رہا ہے اور اپنے اقتدار اعلیٰ پر سمجھوتہ کر رہا ہے، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اس عدالت کا کوئی حکم پاکستان پر لاگو نہیں ہو سکتا۔ دوسرے، انہوں نے کہا کہ غلط فہمی کا ایک اور سبب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس قانون کے مسودے میں زبان و بیان کی کچھ خامیاں بھی ہیں جن کو لوگ سمجھ نہی پا رہے ہیں، حالانکہ اسے سادہ انداز میں بیان کیا جا سکتا تھا اور ان غلطیوں کو آگے چل کر درست کر لیا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان نے عالمی عدالت میں سماعت کے دوران یہی موقف اختیار کیا تھا کہ پاکستان رسائی دینے کے لئے تیار تھا جسے قبول نہیں کیا گیا۔ لیکن، عالمی عدالت نے پاکستانی موقف قبول نہیں کیا اور کہا کہ رسائی کے لئے جو شرائط ہیں وہ پوری نہیں کی گئیں، اس لئے پاکستان کو نئی قانون سازی کرنی چاہئیے جو کہ اب کی گئی ہے۔
