عوام کی کمر توڑنے والی مہنگائی کیوں بڑھ رہی ہے؟

وزیراعظم عمران خان کی سونامی سرکار کے ساتھ آنے والی مہنگائی کی اونچی لہر میں غوطے کھانے والے عوام کی قوت برداشت اب جواب دے گئی ہے لیکن وہ نااہل اور نالائق حکومت کو بد دعائیں دینے کے علاوہ اور کچھ کرنے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔ پٹرول، بجلی اور گیس کے ماہانہ بنیادوں پر بڑھتے ہوئے بلوں نے تو پہلے ہی عوام کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے لیکن اب تیل، چینی، آٹا، دالیں، سبزیاں، انڈے اور گوشت جیسی روزمرہ اشیا کی چیزیں بھی ان کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہیں۔
اس کمر توڑ مہنگائی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی اور سرمایہ دارانہ نظام کے درمیان ایک گہرا اور لازمی رشتہ دیکھنے کو ملتا ہے۔
ماضی میں ڈالر، پاؤنڈ اور فرانک کی طرح روپیہ بھی کسی قیمتی دھات کی بنیاد پر جاری ہوا کرتا تھا۔ ڈالر کی صورت میں وہ قیمتی دھات سونا ہوتی تھی جبکہ روپے کی صورت میں وہ چاندی ہوا کرتی تھی۔ کرنسی کا یہ نظام مالیاتی نظام ناصرف اس خطے میں اندرونی طور پر بلکہ بین الاقوامی تجارت میں بھی استحکام فراہم کرنے کا باعث ہوتا تھا۔
لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے تحت جاری ہونے والے سودی قرضوں اور سٹاک مارکیٹ نے کرنسی کی اس قدر طلب پیدا کی جس کو سونے اور چاندی کی رسد یا سپلائی پورا نہیں کر سکتی تھی۔ اس کے علاوہ جنگ عظیم اول اور دوئم بھی کرنسی کی طلب میں بے پناہ اضافے کا سبب بنیں۔ لہٰذا ریاستوں نے قیمتی دھات کی بنیاد پر جاری ہونے والی کرنسی کے نظام کو چھوڑ دیا اور زیادہ سے زیادہ نوٹ چھاپنے شروع کردیے جن کے پیچھے سونے اور چاندی کے ذخائر موجود نہیں تھے اور اس طرح ہر چھاپے جانے والا نوٹ پچھلے نوٹ سے قدر و قیمت میں کم ہوتا ہے جس وجہ سے اشیاء کی قیمتیں پہلے کے مقابلے میں زیادہ ہو جاتی ہیں۔ یوں اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس سرمایہ دارانہ نظام کا طرہ ٔامتیاز ہے، لہٰذا اس نظام میں ہر ملک افراط زر کے پیمانے کا حساب رکھتا ہے کہ وہ کس قدر تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی کاغذی کرنسی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا افراطِ زر، مہنگائی پیدا کرنے والی چار بنیادی وجوہات میں سے ایک بہت بڑی وجہ ہے۔
مہنگائی کی دوسری وجہ حکومت کی جانب سے ڈیمانڈ سپلائی کے میکینزم کی نگہداشت میں نااہلی اور کرپٹ حکومتی عہدیداروں کا اس عمل کی نگہداشت میں بڑے بڑے سرمایہ داروں کو سپورٹ کرنا ہے، جس سے مارکیٹ میں اشیائے ضرورت کی کمی کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام کے جمہوری حکمران عالمی طاقتوں اور مقامی سرمایہ داروں کے فرنٹ مین بن کر سپلائی چین کو ہائی جیک کرنے کی کوششوں میں کوئی مداخلت نہیں کرتے بلکہ الٹا ان کی بلیک میلنگ میں آ کر ان کے سامنے سر جھکاتے ہیں۔ یہ سرمایہ دار ذخیرہ اندوزی کر کے اور کارٹیل بنا کر سپلائی کی قلت پیدا کرتے ہیں تاکہ اشیاء کی قیمت بڑھا کر دن دوگنا، رات چوگنا منافع کما سکیں۔
دوسری جانب حکومت آئی ایم ایف کو ڈالر کی قسطیں پوری کرنے کے چکر میں ضروری اشیاء درآمد ہی نہیں کرتی یا تاخیر سے درآمد کرتی ہے خواہ و تیل، LNG ہو یا گندم، چینی اور دیگر اجناس، تاکہ ڈالر کو بچا کر کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ کم کیا جا سکے اور بین الاقوامی سود خوروں کی قسطیں پوری کی جا سکیں خواہ عوام کے پاس دو وقت کے کھانے کی روٹی ہی کیوں نہ ختم ہو جائے۔ یوں سپلائی کی قلت قیمتوں کے بڑھنے پر منتج ہوتی ہے اور مہنگائی کا سبب بنتی ہے۔
کلبھوشن کو این آر او دینے کے پیچھے چھپی کہانی کیا ہے؟
معاشی ماہرین کہتے ہیں کہ مہنگائی میں اضافے کی تیسری بڑی وجہ توانائی کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہے جس سے کاروباری اور تجارتی سرگرمیوں کی لاگت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بجلی بنانے کے کارخانوں کی نجکاری سے انرجی انفراسٹرکچر عوامی اور ملکی کنٹرول سے نکل کر چند ملٹی نیشنل سرمایہ داروں کے قابو میں آ جاتا ہے جو توانائی کی فراہمی اور اس کی قیمتوں پر بڑی حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔ مہنگائی میں اضافے کی چوتھی بڑی اور بنیادی وجہ سرمایہ دارانہ معیشت میں ٹیکس کا نظام ہے جو بلواسطہ اور بلا واسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے۔ ان میں سے اکثر ٹیکس خصوصی طور پر بلا واسطہ ٹیکس، تمام اشیاء اور خدمات پر بالعموم لاگو کیے جاتے ہیں جس وجہ سے اشیاء اور خدمات کی قیمتیں اپنی اصل قیمتوں سے بہت زیادہ بڑھ جاتی ہیں۔ اس کی ایک مثال پٹرولیم مصنوعات کی اصل قیمتوں پر لاگو کیا جانے والا جنرل سیلز ٹیکس اور پٹرولیم لیوی ہیں جن سے ان کی قیمت دوگنی سے بھی زیادہ ہو جاتی ہے اور سارا بوجھ عوام پر آجاتا ہے۔
