کم عمرمیں عورت کی طرح جسامت ہوجانےپرڈپریشن ہوگئی

گزشتہ ماہ 27 جنوری کو موسیقی کی دنیا میں آسکرایوارڈ جیسی اہمیت رکھنے والےگریمی ایوارڈز جیتنے والی امریکی پاپ گلوکارہ بلی آئلش نے پہلی باراپنی جسمامت، خواہشات اورخود کو پیش آنے والے ذہنی مسائل پر کھل کربات کی ہے۔
بلی آئلش نے محض 3 سال قبل اس وقت شہرت حاصل کی تھی جب 2017 میں ان کا پہلا گانا سامنے آیا تھا، ان کا پہلا میوزک ایلبم ’وین وی آل فال اسلیپ، ویئرڈو وئی گو‘2019 کےآغازمیں ریلیزہوا تھا جو دیکھتے ہی دیکھتے امریکا اور یورپ میں بے حد مقبول ہوا۔ بلی آئلش کو یہ اعزازحاصل ہے کہ وہ پہلی گلوکارہ گزشتہ سال وہ پہلی گلوکارہ بنی تھیں جنہیں گریمی ایوارڈز کے لیے منتخب کیا گیا تھا اوراس سال وہ پہلی گلوکارہ بنی ہیں جنہوں نے بیک وقت پانچ گریمی ایوارڈزجیتے۔
بلی آئلش بیک وقت پانچ ایوارڈزجیتنے والی کم عمرترین گلوکارہ بھی بنیں، گلوکارہ کو27 جنوری 2020 کو گریمی ایوارڈز تقریب میں ’سال کے بہترین گانے، سال کے ایلبم، بہترین پہلے میوزک ایلبم، بہترین پاپ ووکل اوربہترین ریکارڈ‘ کے ایوارڈز دیے گئے۔ انتہائی کم عمری میں شہرت کی بلندیوں کوچھونے والی بلی آئلش نے متعدد ایوارڈ ایک ساتھ جیتنے کے بعد پہلی باراپنی ماضی کی زندگی کے بارے میں کھل کربات کرتے ہوئےاعتراف کیا ہے کہ وہ بھی ذہنی مسائل کا شکار ہوئیں۔
ذرائع کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں بلی آئلش نے نہ صرف اپنی ماضی کی زندگی میں کھل کربات کی بلکہ انہوں نے کیریئرمیں پیش آنے والی مشکلات کا ذکربھی کیا۔ بلی آئلش فروری کے ووگ میگزین کے سرورق کی زینت بھی بنیں اورانہوں نے کھل کراپنے بولڈ اندازپربھی بات کی۔ بلی آئلش نےانٹرویو کے دوران انکشاف کیا کہ وہ ابتدائی طورپر گلوکارہ نہیں بلکہ ایک ماڈل بننا چاہتی تھیں مگراپنی جسمانی تبدیلیوں کی وجہ سے وہ اپنے خواب پورے کرنے میں ناکام ہوگئیں۔
گلوکارہ نے بتایا کہ ہارمونزمیں تبدیلیوں کی وجہ سے انتہائی کم عمری میں ان کی جسامت بالغ خواتین کی طرح ہوگئی تھیں۔ بلی آئلش کا کہنا تھا کہ محض 11 سال کی عمرمیں انہیں حیض آگیا تھا اورمحض 9 سال کی عمرمیں ان کی جسامت بڑی عورتوں کی طرح بن گئی تھی۔ پاپ گلوکارہ کے مطابق چوں کہ ہارمونزکی وجہ سے وہ جلد بلوغت کو پہنچیں توان کا قد چھوٹا رہ گیا اوران کا وزن بھی کافی بڑھ گیا، جس وجہ سے وہ ماڈل نہیں بن پائیں۔
بلی آئلش نے بتایا کہ جسمانی تبدیلیوں اورکم عمری میں خواتین کی طرح بن جانے کی وجہ سے وہ ذہنی تناؤ کا شکار بھی رہیں اورانہیں ڈپریشن ہوگیا۔ انٹرویو کے دوران بلی آئلش نے خود سے پہلے کم عمری میں شہرت حاصل کرنے والی گلوکاراؤں کے حوالے سے بھی بات کی۔ لمبے ترین انٹرویومیں گلوکارہ نے میوزک انڈسٹری سمیت دیگر مسائل پربھی بات کی اوربتایا کہ انہیں یقین نہیں تھا کہ وہ اتنی کم عمری میں اتنی جلدی شہرت حاصل کرلیں گی۔

