کنگال کپتان حکومت کا شاہراہیں گروی رکھنے کا فیصلہ


معاشی محاذ پر ناکام ہونے والی کپتان حکومت نے اب آئندہ مالی سال میں بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے کو پورا کرنے کے لیے وفاقی کابینہ سے بڑے ائیرپورٹس اور شاہراہوں کو رہن رکھنے کی اجازت مانگ لی ہے۔ حکومتی اندازے کے مطابق اس اقدام سے 18کھرب روپے کا قرض حاصل ہوگا۔ 
ذرائع کے حکومت جو اثاثے بین الاقوامی اور مقامی قرض دہندگان کو بطور رہن دینا چاہتی ہے، ان کی فہرست میں سے اسلام آباد کلب اور اسلام آباد کے فاطمہ جناح پارک کو خارج کردیا گیا ہے۔ تاہم تین موٹر ویز، تین بین الاقوامی ہوائی اڈے اور  اسلام آباد ایکسپریس وے کو گروی رکھنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ وزارت خزانہ نے وفاقی کابینہ سے استدعا کی ہے کہ حکومت کی بجٹری پوزیشن کو سپورٹ کرنے اور اسلامی بینکاری  کی صنعت کے فروغ کے لیے مقامی اور عالمی مارکیٹوں میں اجارہ سکوک بانڈ جاری کیے جائیں۔ بتایا گیا ہے کہ اثاثے گروی رکھنے کے عوض لیا گیا قرض روایتی قرض کے مقابلے میں سستا ہوتا ہے۔ وزارت خزانہ نے کابینہ سے استدعا کی ہے کہ  ملکی و غیرملکی مارکیٹوں میں اجارہ سکوک  کا مسلسل اجرا یقینی بنانے کے لیے  نئے اثاثوں کی شناخت کرے۔ سکوک بانڈز کے اجرا کے ذریعے اور اثاثے رہن رکھ کر حاصل کیا جانے والا قرض روایتی بانڈز کے ذریعے حاصل کیے گئے قرض کی نسبت سستا ہوا ہے۔  ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے ایم ون موٹروے یعنی اسلام آباد پشاور موٹر وے اور ایم تھری موٹروے یعنی پنڈی بھٹیاں فیصل آباد موتر وے اور اسلام آباد ایکسپریس وے کی قابل رہن اثاثوں کے طور پر شناخت کی ہے۔ وزارت خزانہ  نے نیشنل ہائی  وے اتھارٹی اور سول ایوی ایشن اتھارٹی سے درخواست کی ہے کہ ان اثاثوں  کی بنیاد پر قرض لینے  کے سلسلے میں این او سی جاری کیا جائے۔ اس حوالے سے سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ابھی کوئی جواب نہیں دیا ہے جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے اپنے اثاثوں کے استعمال کا معاوضہ مانگ لیا۔ تاہم وزارت خزانہ نے وفاقی کابینہ سے درخواست کی ہے کہ وہ کسی  بھی  محکمے کو معاوضے کی ادائیگی کے بغیر اثاثے رہن رکھنے کی اجازت دے۔
ذرائع کے مطابق وزات خزانہ نے گروی رکھنے کے عوض لاہور ایئرپورٹ کی ویلیو  کا اندازہ 980 بلین روپے، اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کا 230 بلین روپے اور ملتان ایئرپورٹ کی ویلیو کا اندازہ 320 بلین روپے لگایا ہے۔ اسلام آباد ایکسپریس کی ویلیو کا اندازہ 470 بلین روپے لگایا گیا ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت لاہور کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو گروی رکھ کر پہلے ہی 700 بلین روپے قرض لے چکی ہے۔
اسکے علاوہ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے مزید قرضے حاصل کرنے کیلئے پی ٹی وی کے اثاثے رہن رکھنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے جن کی مالیت اربوں میں ہے مگریہ پتہ نہیں چل سکا کہ حکومت نے ان اثاثوں کی کتنی مالیت طے کی ہے۔ پی ٹی وی کی ہی طرح قرضے لینے کیلئے ریڈیو پاکستان کے اثاثے بھی بطور گارنٹی استعمال کیے جانے کا امکان ہے اور اس سلسلے میں حکومت نے پورے ملک میں ریڈیو پاکستان کی 61 عمارتوں کی مالیت کا تخمینہ صرف 72 کروڑ روپے لگایا ہے۔ بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ رقم اسلام آباد میں ریڈیو پاکستان کی صرف ایک عمارت کی مالیت کے برابر ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ حکومت یہ قرضے برآمدات کے خلاءکو پورا کرنے، بیرونی زرمبادلہ کے زخائر میں اضافے، اور بجٹ کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے لے رہی ہے جن کے بدلے قومی اثاثوں کو داﺅ پر لگایا جا رہا ہے۔

Back to top button