کورونا وائرس سے اٹلی میں مقیم پہلا پاکستانی شہری جاں بحق

کورونا وائرس نے ایک پاکستانی کی بھی جان لے لی ہے۔ متاثرہ شخص اٹلی کے شہر میلان میں مقیم تھا۔ میت کو واپس لانے کیلئے رابطے شروع کر دیئے گئے۔
کورونا وائرس کے باعث اٹلی میں مقیم پاکستانی شہری جاں بحق ہو گیا ہے۔ 65 سالہ پاکستانی شہری میلان میں گزشتہ کئی برسوں سے رہائش پذیر تھا۔ پاکستان اور اٹلی کی حکومتیں شہری کی میت واپسی سے متعلق رابطے میں ہیں۔
کورونا وائرس سے پہلے پاکستانی کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔ 61 سالہ پاکستانی شخص اٹلی کے شہر میلان میں ہلاک ہوا ہے۔ ترجمان پاکستانی دفتر خارجہ عائشہ فاروقی نے اسلام آباد میں گفتگوکرتے ہوئے تصدیق کی کہ کورونا وائرس سے پاکستانی شخص میلان کے قریب ہلاک ہوا ہے۔ ہمارا قونصل خانہ اطالوی حکام اور ہلاک ہونے والے شخص کے اہل خانہ کے ساتھ رابطے میں ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن معاونت فراہم کی جائے گی۔‘
واضح رہے کہ یہ کسی بھی پاکستانی کی ملک کے اندر یا ملک کے باہر کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہے۔ کورونا وائرس سے اب تک دنیا کے 110 ممالک میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایک لاکھ 18 ہزار 554 ہوگئی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دسمبر 2019 میں کورونا کی تشخیص کے بعد سے آج بدھ 11 مارچ تک دنیا بھر میں کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چار ہزار 281 ہوگئی ہے۔ بدھ 11 مارچ کے روز دنیا بھر میں اس وائرس کے 12 سو 14 نئے کیسز سامنے آئے ہیں۔
چین، جہاں سے یہ وائرس پوری دنیا میں پھیلا، میں متاثرین کی تعداد 80 ہزار 778 ہو گئی ہے جبکہ تین ہزار 158 افراد اب تک ہلاک ہو چکے ہیں۔ بدھ 11 مارچ کو چین میں 24 نئے کیسز سامنے آئے جب کہ 22 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ چین سے باہر کورونا سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 37 ہزار 776 ہوگئی ہے جبکہ وائرس سے اموات کی تعداد ایک ہزار 123 ہو گئی ہے۔ چین سے باہر کورونا سے سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں اٹلی 10 ہزار 149 کیسز اور 631 اموات کے ساتھ سرفہرست ہے جبکہ ایران 9 ہزار کیسز اور 291 اموات کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے۔ جنوبی کوریا میں کورونا سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 7 ہزار 755 اور 54 ہلاکتیں جب کہ فرانس میں ایک ہزار 784 کیسز اور 33 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ بدھ 11 مارچ کو برونائی اور ترکی میں کورونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ایشیا میں بدھ 11 مارچ تک رپورٹ ہونے والے کیسز کی تعداد 90 ہزار 511 اور ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 230 ہوگئی ہے۔ یورپ میں کورونا کے متاثرین 18 ہزار 110 اور ہلاکتیں 716، مشرق وسطیٰ میں آٹھ ہزار 566 کیسز، 299 ہلاکتیں، امریکہ اور کینیڈا میں 989 کیسز اور 29 ہلاکتیں، لاطینی امریکہ اور کیریبین میں 138 کیسز اور دو ہلاکتیں اور افریقہ میں 111 کیسز اور دو ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔
خیال رہے ایران میں بدھ 11 مارچ کے روز ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 63 ہو گئی ہے جو کہ ایک دن میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔ تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب میں ایران کے وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہانپوری کا کہنا تھا کہ ملک میں 958 نئے کیسز سامنے آئے ہیں اور کل متاثرین کی تعداد 9 ہزار ہو گئی ہے۔
دوسری جانب ایک برطانوی خاتون انڈونیشیا کے سیاحتی شہر بالی میں کورونا وائرس سے ہلاک ہو گئی ہے۔ بالی میں برطانوی خاتون کی وائرس سے ہلاکت انڈونیشیا میں اس وبا سے ہونے والی پہلی موت ہے۔ اے ایف پی نے مقامی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ 53 سالہ برطانوی شہری کی موت بالی کے ایک ہسپتال میں ہوئی ۔ رپورٹ کے مطابق وہ گذشتہ مہینے بالی پہنچی تھی اور یہ واضح نہیں کہ وہ بالی میں وائرس کا شکار ہوئی یا اس سے قبل ہی وہ کورونا سے متاثر ہوئی تھی۔
دوسری جانب بیلجیم میں بھی کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہوئی ہے۔ بیلجیم کے وزیر صحت میگی ڈی بلاک نے بتایا کہ متاثرہ شخص کی عمر 90 سال ہے۔ اب تک بیلجیم میں کورونا کے 314 کیسز سامنے آئے ہیں۔
چین سے باہر دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک اٹلی نے اس وائرس سے نمنٹنے کے لیے 25 ارب یوروز کے پیکیج کا اعلان کیا ہے۔
اٹلی کے وزیر اعظم نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ’25 ارب یوروز کے پیکیچ کو فوری استعمال نہیں کیا جائے گا۔‘ اٹلی کے وزیر خزانہ کے مطابق ’پیکچ کا آدھا حصہ فوری طور پر استعمال کیا جائے گا اور باقی کو ریزرو میں رکھا جائے گا۔‘
خیال رہے کہ اٹلی میں کورونا کے وبائی صورت حال اختیار کرنے کے بعد اٹلی کی حکومت نے اپنے 6 کروڑ شہریوں سے کہا ہے کہ وہ ’گھروں میں رہیں‘ اور صرف انتہائی ضرورت کے وقت اور طبی وجوہات کی بنا پر ہی گھر سے باہر نکلیں۔
اطالوی حکومت نے ملک میں فٹ بال لیگ بھی تین اپریل تک معطل کر دی ہے۔
یاد رہے کہ اٹلی میں جاپان کے بعد بزرگ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے جنھیں بچانے کیلئے انتہائی سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ کرونا وائرس سے یورپ کا سب سے متاثرہ ملک اٹلی ہے۔ اٹلی میں چھ کروڑ سے زائد افراد کو لاک ڈاؤن کا سامنا ہے۔ حکومت کی جانب سے پیر کو رات گئے پورا ملک بند کرنے کے اعلان کے بعد عوام سے کہا گیا ہے کہ وہ ایمرجنسی کے علاوہ گھر سے باہر نہ نکلیں۔ اٹلی میں ہر قسم کی تمام تقریبات ملتوی کر دی گئی ہیں۔ لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے سے تین فٹ دور رہ کر بات کریں۔ اٹلی کے دارالحکومت روم کی سڑکیں سنسان اور ویران ہیں۔ چین اٹلی کی مدد کیلئے ماہرین کی ٹیم بھیجے گا۔
