کورونا وائرس : پاکستانی امپورٹرز مشکلات کا شکار

کورونا وائرس کی وجہ سے امپورٹرز شدید کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، صنعتکار وائرس کے خدشات کے سبب درآمد کےلیے تازہ آرڈر نہیں دے رہے۔
تفصیلات کے مطابق اس وجہ سے چینی بندرگاہوں پر اشیا کی کلیئرنس متاثر ہوئی ہے جب کہ مقامی بندرگاہوں پر کسی قسم کا مسئلہ سامنے نہیں آیا۔ تاہم صنعتکار چین سے خام مال کی ترسیل میں تاخیر یا معطلی کے پیش نظر دیگر ممالک سے خام مال حاصل کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر ملکی خریداروں نے بھی مقامی برآمدکنندگان کو خام مال کے دیگر ذرائع کی تلاش کی نشاندہی کا کہنا شروع کردیا ہے تاکہ برآمد کی ترسیل میں کوئی تاخیر نہ آسکے۔
دوسری جانب سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری پیٹرن زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ ‘چین میں کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد سے متعدد مسائل سامنے آئے ہیں جن کی وجہ سے ڈائیز اور کیمیکلز سمیت دیگر اشیا کی کلیئرنس میں مسائل پیش آرہے ہیں’۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘ہمارے 3 متبادل ممالک ہیں تاہم ڈائیز اور کیمیکلز کی بھارت سے درآمدات پر پابندی عائد ہے جبکہ کورونا وائرس جنوبی کوریا میں بھی پھیل چکا ہے اور تائیوان ہمیں بہت زیادہ قیمت بتارہا ہے’۔
واضح رہے کہ پاکستان کی چین سے کُل درآمدات 12 ارب ڈالر ہے جس میں سے زیادہ تر حصہ ڈائیز اور کیمیکلز پر منحصر ہوتا ہے جو ملک کے لیے سب سے زیادہ غیر ملکی زر مبادلہ کمانے والے ٹیکسٹائل کے شعبے کے لیے اہم خام مال ہے۔
زبیر موتی والا کا کہنا تھا کہ خام مال کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں کیونکہ چینی بندرگاہوں پر یہ مال پھنسا ہوا ہے جبکہ متبادل سپلائرز نے یا تو سپلائی بند کردی ہے یا پھر 30 سے 35 فیصد زیادہ قیمت بتارہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘اراکین شکایات کر رہے ہیں کہ خام مال کی کمی کی وجہ سے پیداوار بحال رکھنا مشکل ہوگیا ہے جبکہ مقامی مارکیٹوں میں قیمتیں 50 سے 100 فیصد تک بڑھ گئی ہیں’۔
