کورونا وائرس کا پہلا شکار ملتان کے نشتر ہسپتال منتقل

چین میں متعدد افراد کی ہلاکت اور دنیا میں خوف کا سبب بننے والے مہلک کورونا وائرس کا پہلا مشتبہ کیس پاکستان میں بھی سامنے آگیا۔
صوبائی محکمہ صحت کے فوکل پرسن ڈاکٹر عطا کے مطابق کورونا وائرس میں مبتلا ہونے کے شبے میں چینی شخص کو نشتر ہسپتال منتقل کردیا گیا۔فوکل پرسن کے مطابق 40 سالہ فینگ فین کو انڈسٹریل اسٹیٹ ملتان میں موجود چائنیز کیمپ سے نشتر اسپتال لایا گیا۔محکمہ صحت کے عہدیدار نے مزید تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ چینی شخص چند روز قبل چین کے شہر ووہان سے براستہ دبئی اور کراچی سے ملتان پہنچا تھا۔انہوں نے مزید بتایا کہ مشتبہ چینی شخص کو آئی سو لیشن وارڈ منتقل کر کے نمونے لیبارٹری بھجوا دیے گئے۔
ذرائع کے مطابق دنیا میں صرف چند لیبارٹریز ہیں جس میں nCoV2019 وائرس کی تشخیص ممکن ہے ۔امریکا میں سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے علاوہ چین اور ہالینڈ میں کچھ لیبارٹریز ہیں جو اس وائرس کی موجودگی کی تصدیق کرسکتی ہیں۔لہٰذا اگر ملک میں کورونا وائرس کا کوئی مشتبہ کیس سامنے آیا تو وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت نے کہا تھا کہ نمونے تصدیق کے لیے ان ممالک بھیجے جائیں گے۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز ڈاکٹر ظفر مرزا نے چین میں حالیہ کورونا وائرس کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر پاکستان میں اٹھائے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کے لیے خصوصی اجلاس کی صدارت کی تھی۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کرونا وائرس سے عوام کو بچانے کے لیے مربوط اور موثر اقدامات کو یقینی بنا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا تھا کہ اسلام آباد سمیت تمام بڑے ائیرپورٹس پر اسکریننگ کاؤنٹرز قائم کر دیے ہیں اور چین سے آنے والے تمام مسافروں کی سکریننگ کی جا رہی ہے اسکریننگ میں مسافر کی میڈیکل ہسٹری کا جائزہ لیا جاتا ہے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ صورت حال کی مسلسل نگرانی کے لیے چینی سفیر اور عالمی ادارہ صحت سے رابطے میں ہیں پاکستان میں اس وقت 19 انٹری پوائنٹس ہیں سست بارڈر چین میں پاکستان کا اہم انٹری پوائنٹ ہے جس پر نقل و حمل برف باری کے باعث اپریل تک بند ہے۔
واضح رہے کہ 22 جنوری کو وفاقی حکومت کی وزارت قومی صحت سروسز نے چین میں پھیلنے والے کورونا وائرس کے پیش نظر خطرات سے بچنے کے لیے ہدایت نامہ جاری کیا تھا۔وزارت قومی صحت کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا تھا کہ متاثرہ ممالک سے کورونا وائرس دیگر ممالک میں منتقل ہونے کا خدشہ ہے، چین میں کورونا وائرس مچھلی اور گوشت منڈی سے تعلق رکھنے والوں کو ہوا ہے۔لہٰذا وائرس کی منتقلی کے خطرے کے پیش نظر چین سے پاکستان آنے اور جانے والوں کے طبی معائنے اور اس سلسلے میں وائرس سے بچاؤ کے لیے ہوائی اڈوں پر بھی خصوصی کاؤنٹر بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
ہدایت نامے کے مطابق اس وائرس کی علامات میں بخار، کھانسی، سانس لینے میں دشواری شامل ہے، وائرس متاثرہ جانور یا حاصل شدہ غذا سے انسان کو منتقل ہوتا ہے اور یہ کورونا وائرس پھیپھڑوں کو شدید متاثر کرتا ہے۔مذکورہ ہدایت نامے میں کہا گیا کہ دنیا میں کورونا وائرس کی ویکسین تاحال دستیاب نہیں تاہم اس سے بچاؤ کا واحد حل بروقت احتیاطی تدابیر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button