کورونا کی روک تھام سمیت 7 ترمیمی آرڈیننس اسمبلی میں پیش

پنجاب اسمبلی میں حکومت پنجاب نے ذخیرہ اندوزی اور کورونا وائرس کی روک تھام سمیت 7 ترمیمی آرڈیننس اسمبلی میں پیش کردیے۔ پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 40 منٹ تاخیر سے شروع ہوا جس دوران اپوزیشن نے نیب اور کورونا وائرس کے حوالے سے حکومتی اقدامات کو ناکافی قرار دیا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ سلمان رفیق کا کہنا تھا کہ تمام ہیلتھ ورکرز کو حفاظتی کٹس دی جائیں۔ وزیر قانون راجہ بشارت نے ایوان میں متعدی امراض کی روک تھام، مقامی حکومتیں، دیہی پنچائتیں اور نیبر ہڈ کونسلز سمیت 7 ترمیمی آرڈیننس پیش کیے جنہیں اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے متعلقہ اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو بھجوادیا۔ وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کا کہنا تھا کہ حکومت کورونا سے نمٹنے کےلیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔
ن لیگ کی عظمی بخاری نے کہا کہ ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اور نرسز میں کرونا کیسز سامنے آرہےہیں، اس لیے ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن میں نرمی نہ کی جائے، ان کا کہنا تھا کہ شہبازشریف متحرک ہونے پر نیب کے بلاوے بھی شروع ہو گئے ہیں، آٹا اورچینی کی چوری پر نیب خاموش ہے۔
بعد ازاں ایجنڈا مکمل ہونے پر اجلاس پیر صبح ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button