کورونا کے نئے کیسز، کراچی میں عوامی اجتماعات پر پابندی

کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے بعد محکمہ صحت نے کراچی میں عوامی اجتماعات پر پابندی لگانے اور تعلیمی ادارے لمبے دورانیے تک بند رکھنے کی سفارش کردی۔صوبائی وزیر صحت کی سربراہی میں محکمہ صحت سندھ کا اجلاس ہوا جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے حکام بھی شریک ہوئے، اجلاس میں کورونا وائرس کے کیسز کی تعداد میں اضافے کے بعد کی صورتحال پر غور کیا گیا اور اس دوران بعض اہم فیصلے بھی کیے گئے۔
محکمہ صحت نے ائیرپورٹ پورٹ پر ہیلتھ ڈیسک قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے ذریعے کراچی آنے والے تمام مسافروں کی اسکریننگ کی جائے گی۔اس کے علاوہ تمام نجی و سرکاری اسپتالوں میں فرنٹ لائن ڈیسک بھی بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، فرنٹ لائن ڈیسک کورونا وائرس کے حوالے سے معلومات بھی فراہم کرے گی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شہر میں عوامی اجتماعات نہ کرانے سے متعلق ایڈوائزری جاری کی جائے گی جب کہ پی ایس ایل کی طرز پر ہونے والے عوامی اجتماعات پر بھی پابندی لگانے کی تجویز دی گئی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ حکومت کی جو بھی ہیلتھ ایڈوائزری ہو گی اس پر پی سی بی مکمل عملدر آمد کرے گا۔پی سی بی حکام کے مطابق پی ایس ایل انتظامات کا جائزہ لینے کے لیے ڈاکٹر خان آج کراچی پہنچیں گے مگر فی الحال میچز شیڈول کے مطابق ہوں گے۔واضح رہےکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ اب تک 4 ہزار ہلاکتیں رپورٹ کی جاچکی ہیں۔
پاکستان میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 16 ہے جن میں کراچی سے مزید 9 کیسز سامنے آگئے جس کے بعد صوبہ سندھ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 13 ہے۔ترجمان محکمہ صحت نے بتایاکہ وزیراعلیٰ سندھ سے تمام تعلیمی اداروں کو لمبے دورانیے تک بند رکھنے کی سفارش کی جائے گی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس میں مبتلا مریضوں کو گڈاپ میں قائم اسپتال میں طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
فوکل پرسن نے محکمہ صحت سندھ کے دفتر میں عام شہریوں کے داخلے پر پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ سیکریٹریٹ میں محکمہ صحت کے دفاتر میں ملازمین کےعلاوہ دیگر افراد کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔فوکل پرسن نے کہا کہ ہم ہنگامی حالت میں ہیں جس کی وجہ سے دروازے بند کیے گئے ہیں۔حفاظتی اقدامات کے تحت ملک کے تمام داخلی راستوں پرکورونا وائرس کے خطرے کے باعث اسکریننگ جاری ہے جس کے لیے خصوصی مشینیں لگائی گئی ہیں، اسکریننگ میں جسم کے درجہ حرارت اور کیس ہسٹری کے مطابق مشتبہ قرار دیا جاتا ہے۔
انٹرنیشنل ائیرپورٹس اور بارڈرز پر ہر آنے والے مسافر کو محکمہ صحت کے 3 سے 4 ماہرین بھی چیک کرتے ہیں۔محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ داخلی راستوں پر وزارت صحت اور این آئی ایچ سے تربیت یافتہ عملہ تعینات ہے۔حکام کے مطابق اب تک تقریباً 9لاکھ افراد اسکریننگ کے عمل سےگزر چکے ہیں، مختلف لیبارٹریز میں اب تک کوروناکے 360 افراد کے نمونے بھی چیک کیے جا چکے ہیں۔واضح رہےکہ دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد ایک لاکھ 10 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے جب کہ اب تک 4 ہزار ہلاکتیں رپورٹ کی جاچکی ہیں۔پاکستان میں کورونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 16 ہے جن میں کراچی سے مزید 9 کیسز سامنے آگئے جس کے بعد صوبہ سندھ میں کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 13 ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button