کٹھ پتلی کپتان سرکار کا خاتمہ اب نوشتہ دیوار ہے


پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ملاکنڈ کے ہر شہری کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ سلیگٹڈ چلا جائے جو ملک کا معاشی بحران میں دھکیل رہا ہے جبکہ کٹھ پتلی، سلیکٹڈ راج کا خاتمہ اور جمہوریت بحال کریں۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عوام جانتے ہیں کہ یہ حکمران صرف جھوٹ بولتے ہیں، نئے پاکستان میں جینا مہنگا، عوام کا خون سستا ہے۔ عمران خان نے سانحہ مچھ کے متاثرین کو بلیک میلر قرار دیا۔
بلاول بھٹو نے ملاکنڈ جلسے سے خطاب میں کہا کہ ملک پر نااہل اور ناجائز وزیر اعظم اور ناجائز حکمران مسلط ہیں۔ انھوں نے کہا کہ عوام سے مل کر ان کٹھ پتلیوں کو بھگائیں گے، ان کا خاتمہ کریں گے، یہاں عوامی راج قائم کریں گے۔انھوں نے کہا کہ کسی آمر کے آگے سر جھکایا ہے اور نہ ہی کسی کٹھ پتلی کے آگے سر جھکائیں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ تبدیلی والے جھوٹ بولتے ہیں۔ انھوں نے وعدے پورے نہیں کیے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے جس جمہوریت کے لیے کوڑے کھائے یہ وہ جمہوریت نہیں، آج سیاست، صحافت اور عوام آزاد نہیں ہیں۔ ہم مل کر اس کٹھ پتلی کو بھگائیں گے۔انہوں نے وزیراعظم کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کے بجائے لوگوں کو بے روزگار کر دیا گیا۔ چیخ، چیخ کر کہتا تھا کہ 90 دن میں کرپشن کا خاتمہ کر دوں گا لیکن عوام آج تاریخی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ یہ عمران خان کا نیا پاکستان ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اس وقت پورے پاکستان میں بلیک آؤٹ ہے، مگر ان کے پاس جواب نہیں ہے۔ ادویات، بجلی، گیس، آٹا، چینی مہنگی جبکہ گروتھ ریٹ منفی ہو چکا ہے۔ سلیکٹڈ کو عوام پر مسلط کیا گیا جسے معیشت چلانے کا پتا ہی نہیں، نااہل حکومت کی وجہ سے معیشت تباہ ہو چکی، عمران خان نے ثابت کر دیا نیا پاکستان میں جینا مہنگا مگر عوام کا خون سستا ہے، ہمیں عوام کو انصاف دلوانا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اپنے شہدا کی لاشوں کے ساتھ احتجاج کرنے والے سانحہ مچھ کے لواحقین کو عمران خان بلیک میلر قرار دیا، وہ لواحقین کے پاس نہیں گئے بلکہ بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے پاس بلایا۔
انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ کے عوام نے آج پاکستان کو اپنا فیصلہ سنا دیا۔بلاول بھٹو زرداری نے حکومت پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تبدیلی کا نعرہ لگانے والے سارے دھوکے باز ہیں جنہیں حکومت چلانی نہیں آتی لیکن تبدیلی کا نعرہ لگا کر عوام کو دھوکا دیا۔انہوں نے ملاکنڈ کے عوام کو گواہ بنا کر کہا کہ ’کٹھ پتلی اور سلیکٹڈ راج کا خاتمہ کریں گے اور حقیقی جمہوریت بحال کریں گے‘۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ہمیں یاد ہے جب ملاکنڈ کے نوجوان دہشت گردوں کا مقابلہ کررہے تھے جب کون کون آپ کی حمایت اور مخالفت میں کھڑے تھے‘۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک عمران خان تب بھی تھا جو دہشت گردوں کا نام لینے سے گھبراتا تھا اور وہ دہشت گردوں کا وکیل بنا ہوا تھا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ ملاکنڈ کے نوجوانوں نے پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے وقت وزیر اعظم عمران خان اسلام آباد میں ناچ رہا تھا جب ہمارے بچے دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہورہے تھے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ ’اس حکومت میں دہشت گردوں کو رہائی ملی، افسوس کہ ہم شہید ہونے والے اے پی ایس کے بچوں کو ناصاف نہیں دے سکے‘۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے سانحہ مچھ کے لواحقین کو ملیک میلر قرار دے دیا، یہ کس قسم کا انصاف ہے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’آج تک کسی شہید کو انصاف نہیں دلا سکے، دہشت گردوں کو قانون کے دائرے میں نہیں لاسکے، ہم اپنے شہیدیوں اور ان کے لواحقین کے آگے شرمندہ ہیں کہ یہ کس قسم کا انصاف ہے جس کی تکرار وزیر اعظم کرتا رہتا ہے‘۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button