اگر فوج فریق ہے تو جی ایچ کیو کے سامنے احتجاج ہمارا حق ہے

پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ترجمان کی پیر کو ہونے والی پریس کانفرنس کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے راولپنڈی آنے کے پلان پر ڈی جی آئی ایس پی آر سے جب سوال پوچھا گیا کہ وہ کہتے ہیں کہ جی ایچ کیو کے سامنے دھرنا دیں گے تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ آئیں ہم چائے پانی پلائیں گے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ’میں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ خود تو پاپا جونز کے پیزے کھائیں اور ہمیں چائے پانی پر ٹرخائیں، یہ تو پھر زیادتی ہے، یہ مہمانداری پھر نھیں ہے۔‘
مولانا فضل الرحمان پیر کی شام ملاکنڈ کے مقام بٹ خیلہ میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’کہا گیا کہ نیب کے سامنے مولانا فضل الرحمان کو سرنڈر کرنا ہو گا، میں نے کہا سرنڈر ہونا مولانا فضل الرحمان کا کام نہیں وہ جنرل نیازی کا کام ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ آنے والے وقتوں میں آئین کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں، صوبوں کے عوام کے حقوق کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں اور اس قوم کی ملکیت کے خلاف، اس پر قبضہ کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم ان سازشوں کا مقابلہ کریں گے۔ان کے مطابق فوج ملک کے لیے ناگزیر ہوتی ہے۔ ’ہزار اختلاف کے باوجود اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔‘
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ فوج کو وضاحت دینی ہو گی کہ وہ غیر جانبدار ہیں کہ عمران خان کے ساتھ فریق ہیں۔ اگر وہ فریق ہیں تو پھر ہماری مجبوری ہو گی کہ جی ایچ کیو کے دروازے پر احتجاج کریں۔ان کے مطابق جنرل ضیاالحق اور جنرل مشرف کی طرح کا مارشل لا ہے۔ ان کے مطابق ہم وہ لوگ ہیں جنھوں نے پوری زندگی آمریت کے خلاف جنگ لڑی ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ناجائز حکومت کو سہارا دینے والے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ قوم کے ووٹ پر ڈاکہ ڈال کرآنے والے ناجائز حکمران کو سہارا دینا جرم ہے۔ جلسے سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملک کی معیشت بی آرٹی کی طرح تباہ ہو گئی ہے، بتایا جائے فارن فنڈنگ کیس کو کیوں کئی سالوں سے لٹکایا ہوا ہے ؟ مدعی چیخ رہا ہے کہ بھارت اور اسرائیل سے فنڈنگ کا سارا حساب اس کے سامنے ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ عوام کا سیلاب نالائق حکمرانوں کو بہاکر لے جائیگا، قوم اپنی امانت واپس لے کر رہے گی، ہم خون کی سیاست نہیں مانتے، ہم آپ کو آپ کی ذمہ داری کااحساس دلانا چاہتے ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پی ڈی ایم 19 جنوری کو الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سامنے مظاہرہ کرے گی۔ صوبوں کے عوام اور ان کے حقوق کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے تحریک انصاف کی حکومت کو مخاطب کرکے کہا کہ اس حکومت نے کرپشن کے دروازے کھول رکھے ہیں اور قومی احتساب بیورو (نیب) کو یہ نظر نہیں آتا۔
مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ تمھارا اقتدار اسرائیل، بھارت، قادیانیوں کے پیسوں سے ہے اور پھر کہتے ہو کہ تم محب وطن ہو۔انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم، اسلام آباد میں 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے دفتر کے سامنے مظاہرہ کرے گی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ 21 جنوری کو کراچی میں اسرائیل نامنظور کے لیے ملین مارچ انعقاد کریں گے۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ اس سے پہلے عوام تمھارے اقتدار کی کشتی غرق کردے، چند دن باقی ہے خود استعفیٰ دے کر چلے جاؤ۔ان کا کہنا تھا کہ آئین اور صوبوں کے حقوق کے خلاف سازشیں ہورہی جبکہ معیشت پشاور میں بی آر ٹی کی طرح تباہ ہوگئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج اسلام آباد میں بھی امن نہیں رہا اور اس حکومت میں لاقانیت اتنی بڑھ گئی کہ دن کی روشنی میں نوجوان لڑکے پر گولیاں برسادیں گئیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم خون کی سیاست نہیں مانتے لیکن ہم، آپ کو آپ کی ذمہ داری کا احساس دلانا چاہتے ہیں۔
مالا کنڈ میں پی ڈی ایم کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر جمہوری لوگوں کا الیکشن سے کیا کام؟ الیکشن دیانتداری سے نہیں کرائے گئے دیانتداری سے دھاندلی کروائی گئی۔ عمران کہتا ہے قوم میری پشت پر ہے یہ تو اعتراف ہے پشت پر کون ہے۔ فوج ایک ادارہ ہے اور غیر جانبدار ادارہ ہے۔فوج ریاست کے لیے ناگزیر ہے۔عسکری قیادت کو وضاحت کرنا ہوگی کیا وہ فریق ہے اور اگر فریق ہے تو پھر احتجاج ہمارا حق بنتا ہے۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ملاکنڈ کا سیلاب حکمرانوں کو بہا لے جائے گا۔ ہمیں ناجائز حکمرانوں سے واسطہ ہے جنہوں نے قوم کے حق پر ڈالا ہے اور قوم اپنی امانت واپس لے گی۔ یہ تحریک جاری رہے گی ساری قوم ایک ہو کر اسلام آباد اور پنڈی جائے کا فیصلہ کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ جعلی وزیراعظم کہتا ہے کہ ہزارہ قوم کے متاثرین بلیک میلنگ کررہے ہیں ۔کسی سے ہمدردی تعزیت نہیں کی۔ ملک میں جمہوریت نہیں ہے ضیاء الحق اور مشرف کا مارشل لاء تھا اسی طرح کا مارشل لا ہے۔ ہم م آمریت کے خلاف قوم کے ساتھ کھڑے ہیں اور حقیقی جمہوریت لائیں گے۔ آئین پامال کیا گیا ہے۔ صوبے کے آئینی حقوق کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں ۔اب سازشوں کو ناکام بنائیں گے صوبے کے حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑیں گے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت تباہ ہوگئی ہے جیسے بی آر ٹی تباہ ہوگئی ہے ۔127 ارب روپے پر بی آر ٹی کا منصوبہ پہنچ چکا ہے۔فنی ماہرین کہتے ہیں اتنا ناکام منصوبہ ہے اسے دوبارہ توڑ کر بنانا ہوگا۔کرپشن کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ بی آر ٹی کا حساب کون دے گا، انھیں یہ نظر نہیں آتا۔ آٹا چینی میں جو کرپشن کی ہے 3سو سے چھ سو ارب روپے کا نقصان دیا گیا اور سوال نامہ مجھے بھیجنے کی بات کی جاتی ہے ، یہ سوال نامہ بھیج کر تو دیکھیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسپتالوں میں دوائیاں نہیں مل رہی چار سو فیصد دوائیاں مہنگی ہوچکی ہیں۔ ایسے حکم رانوں کو سہارا دینا جرم ہے۔ جو سہارا دے رہے ہیں وہ بھی اس جرم میں شریک ہیں۔ فارن فنڈنگ کیس لٹکایا گیا ہے پیسا کہاں سے آیا کس نے بھیجا انڈیا، اسرائیل سے آیا کس نے بھیجا۔ یہ اسرائیل، ہندوستان اور قادیانیوں کے پیسے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرنڈر کرنا فضل الرحمان کا کام نہیں۔ پی ڈی ایم 19 جنوری کو الیکشن کمیشن کے سامنے مظاہرہ کرے گی۔ 21 جنوری کو کراچی میں ملین مارچ کریں گے۔ بجائے اس کے قوم اٹھا کر کشتی کو سمندر برد کردے حکمران استعفی دے کر چلے جائیں۔
سربراہ پی ڈی ایم نے کہا کہ اسلام آباد میں ایک نوجوان کو پولیس نے قتل کیا اسے انصاف نہیں ملا۔ حکمرانوں کے شہر میں امن نہیں۔ اگر دہشت گردی ختم ہوگئی ہے تو فوج کو قبائلی علاقوں سے واپس بلایا جائے۔ امریکی پالیسی ہے مذہبی حلقے کو نشانہ بنایا جائے۔ عزت کے ساتھ زندگی گزارنا ہر کسی کا حق ہے۔ قوم کو عزت کے ساتھ زندگی گزارنے کیوں نہیں دی جارہی۔ علما،کارکن،سیاسی لوگ، عوام شہید ہورہے ہیں۔ حکمران کہاں ہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں۔ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کو صوبے بنانے کی بات کی جارہی ہے لیکن قبائل کو صوبہ نہیں بنایا جارہا۔ چین افغانستان ناراض ہیں۔ پاکستان سے چھوٹے ممالک ترقی کررہے ہیں اورڈوب رہا ہے تو پاکستان ڈوب رہا ہے۔ ایسے نااہل حکمرانوں کو حکمرانی کا حق نہیں۔ پارلیمنٹ کو لونڈی بنادیا گیا ہے اور ایک لونڈی پی ٹی آئی جماعت ہے۔سربراہ پی ڈٰی ایم نے مزید کہا کہ یہ تحریک کامیاب کریں گے۔ایسی حکومت کے خلاف جدوجہد جہاد ہے ہم نے قربانی دینی ہے۔ عوام کا جذبہ پیغام ہے کہ ہم تھکے نہیں ہیں۔ جب تک حکمران ظلم کرتے رہیں گے جہاد جاری رہے گا۔
پی ڈی ایم کی مالاکنڈ میں ریلی سے چیئرمین پیپلزپارٹٰی بلاول بھٹو زرداری، ن لیگ کے صوبائی صدر امیر مقام، محمود اچکزئی اور دیگر نے خطاب کیا۔ مالاکنڈ کے اجتماع میں مسلم لیگ ن کی مرکزی نائب صدر مریم نواز شرریک نہیں ہوئیں۔
