کپتان اور نیب شوگر سکینڈل پر چپ سادھے کیوں بیٹھے ہیں؟

شوگر کمیشن کی جانب سے چینی سکینڈل فرانزک رپورٹ میں حکومتی لوگوں کے نام آنے کے بعد یہ توقع ظاہر کی جا رہی تھی کہ اب نیب حکومتی ملزمان کے خلاف ایکشن لے گی تاہم ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم کے زیر سایہ کام کرنے والے نیب نے کپتان کی سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر ایک بار پھر اپوزیشن پر ہی چڑھائی کا فیصلہ کیا ہے۔ شوگر سکینڈل کے ملزمان کو گرفتار کرنے کی بجائے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو گرفتار کرنے کی نئی کوششوں سے نیب نیازی گٹھ جوڑ کھل کر سامنے آگیا ہے۔
سیاسی حلقے کپتان حکومت کے اس دوغلے پن پر حیران پریشان ہیں کہ اپوزیشن جماعتوں اور میڈیا سے تعلق رکھنے والے افراد کو تو نیب محض الزامات کی بنیاد پر ہی گرفتار کر لیتا ہے لیکن چینی سکینڈل میں شوگر تحقیقاتی کمیشن کی ٹھوس رپورٹ اور ذمہ داران کے نام سامنے آنے کے باوجود تاحال ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا رہی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ شوگر سکینڈل میں جن بڑے مگرمچھوں کے نام آئے ہیں ان کا تعلق حکومتی بینچوں یا اتحادی جماعتوں سے ہے اس لئے تحریک انصاف حکومت نے اپنا اقتدار بچانے کی خاطر اصولی سیاست کی بجائے کمپرومائز کرلیا ہے۔
چند مہینے قبل جب ملک میں چینی کی قلت ہوئی اور اس کی قیمت آسمان پر پہنچ گئی تو وزیراعظم عمران خان کی خصوصی ہدایت پر چینی کی قلت پیدا کرکے مال کمانے والوں کے خلاف انکوائری کا حکم دیا گیا۔ اس حوالے سے ابتدائی رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ چینی کی مصنوعی قلت پیدا کرکے مال کمانے والوں میں جہانگیرترین، مخدوم خسرو، بختیار اور مونس الہی شامل ہیں جبکہ شوگر ملز کو غیرقانونی سبسڈی دینے میں وفاقی وزیر اسد عمر اور وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار مرکزی ملزم ہے۔ اس ابتدائی انکوائری کے بعد وزیراعظم نے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے معاملے کی فرانزک تحقیقات کرنے کا حکم دیا اور یہ دعوی کیا کہ فرانزک رپورٹ میں جس کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا ان کے خلاف مثالی کارروائی کی جائے گی۔
خیال رہے کہ چینی سکینڈل کے بارے میں تفصیلی فرانزک رپورٹ کی بنیاد پر کارروائی کرنے کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں ایک انوکھا فیصلہ تھا کیونکہ اس سے قبل اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے کسی بھی شخصیت کے خلاف نیب یا ایف آئی اے کسی فرانزک رپورٹ یا تفصیلی جائزے کا انتظار کیے بغیر محض الزامات اور ابتدائی انکوائری کی بنیاد پر انہیں گرفتار کرتی رہی ہے۔ حتی کہ جنگ جیو گروپ کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمان کو تین ماہ قبل 34 برس پرانے ایک کیس میں کسی فرانزک رپورٹ کے بغیر ہی نیب نے حراست میں لیا اور تاحال ان کے خلاف ریفرنس بھی دائر نہیں کیا جا سکا۔ بہرحال چینی سکینڈل میں فرانزک رپورٹ کے معاملے کو پہلے تو لٹکایا گیا اور اس کے بعد جب اپوزیشن کے بھرپور دباؤ پر فرانزک رپورٹ منظر عام پر آئی تو اس نے سب کا کچا چٹھا کھول دیا۔ رپورٹ میں واضح طور پر بتادیا گیا کہ حکومتی بینچوں پر بیٹھے کس شخص نے چینی اسکینڈل میں کتنا مال کمایا اور عوام کی جیبوں سے کتنے ارب روپے مہنگی فینے بیچ کر نکالے گئے۔ خیال رہے کہ فرانزک رپورٹ نے وزیراعظم کے سابق قریبی ساتھی جہانگیر خان ترین وفاقی وزیر مخدوم خسرو بختیار یار اور اتحادی جماعت کے ایم این اے مونس الہی کے حوالے سے انکشاف کیا کہ انہوں نے چینی سکینڈل میں بھرپور مال کمایا۔ یہی نہیں بلکہ چینی کی ایکسپورٹ پر سبسڈی دینے کے معاملے میں بھی وفاقی کابینہ میں شامل اسد عمر کے علاوہ مشیروں اور معاونین خصوصی کے نام بھی رپورٹ میں سامنے آ چکے ہیں۔ اسی طرح وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار پر بھی یہ الزام ہے کہ انہوں نے غیر قانونی طور پر شوگر ملز کو سبسڈی دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان تمام فیصلوں کی منظوری وزیراعظم عمران خان نے خود دی لیکن افسوس کی بات کے شوگر کمیشن نے نہ تو ان سے کوئی تفتیش کی اور نہ ہی رپورٹ میں کہیں ذکر کیا ہے۔
چنانچہ اپوزیشن کی جانب سے بار بار یہ مطالبہ کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو بھی شوگر کمیشن کی تحقیقات میں شامل تفتیش کیا جائے۔
ان سب حقائق کے باوجود تاحال نیب نے کسی بھی حکومتی شخصیت کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا۔ اگرچہ فرانزک رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر اعظم نے ببانگ دہل کہا کہ ذمہ داران کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا تاہم کئی ہفتے گزرنے کے باوجود کسی قسم کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی اور حیران کن طور پر اس معاملے میں نیب اور ایف آئی اے بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی نظر آتی ہیں۔
اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب شوگر سکینڈل میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی اس لیے نہیں کر رہا کہ بالآخر معاملہ وزیراعظم ہاؤس تک جائے گا اور کپتان کے خلاف کسی قسم کا کوئی ایکشن کرنے پر نیب خود مشکل میں آسکتا ہے۔
اس سے پہلے وزیراعظم عمران خان کو ان کے معتمد اور خفیہ ایجنسی کے سربراہ نے یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی حکومت بچانے کے لئے جہانگیر ترین، اسد عمر، خسرو بختیار، عثمان بزدار، رزاق داؤد اور اتحادی رہنما مونس الٰہی کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائی سے گریز کریں بصورت دیگر خفیہ اداروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود تحریک انصاف حکومت مشکلات کا شکار ہوکر ختم ہو سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان چینی سکینڈل میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کرنے سے اسی لئے گریزاں ہیں کہ اس طرح ان کی حکومت کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔
