کپتان حکومت کے جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف حملے جاری

وفاقی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف جاری حملے رکتے دکھائی نہیں دیتے حالانکہ پچھلے ایک برس میں اسے ہر حملے میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔
اب وفاقی حکومت نے ایک چیمبر اپیل دائر کرتے ہوئے سپریم کورٹ رجسٹرار آفس کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں نظر ثانی کی درخواستوں کی سماعت سے انکار کے فیصلے کو چیلنج کردیا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ رجسٹرار آفس نے اس بنیاد پر جسٹس عیسی کے خلاف حکومتی درخواستوں کو مسترد کردیا تھا کہ ان میں گستاخانہ زبان استعمال کی گئی تھی۔ اس کے علاوہ یہ بھی اعتراض کیا گیا تھا کہ قانون کے تحت نظرثانی درخواست پر کسی فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے دوسری نظرثانی درخواست دائر نہیں کی جا سکتی۔ اس کے علاوہ بھی حکومتی درخواستوں میں بہت سی دیگر خامیاں بتائی گئی تھیں۔
باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت کی جانب سے 175 صفحات پر مشتمل اپیلیں سپریم کورٹ کے اسٹیٹیوشن برانچ میں دائر کی گئی ہیں جن میں رجسٹرار آفس کے حکومت کی جانب سے نظر ثانی کی درخواستوں کو واپس کرنے کے فیصلے پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ سپریم کورٹ رولز 1980 کے مطابق رجسٹرار آفس کے فیصلے کو چیلنج کرنے کی اپیل ان کے چیمبر میں چیف جسٹس آف پاکستان کے نامزد جج کے ذریعے کی جاتی ہے جو یا تو اپیل کو قبول کرتا ہے یا سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو یہ بھجوا دیتا ہے جو آخر کار فیصلہ کرتا ہے کہ آیا اپیل سماعت کے لیے مقرر کی جانی چاہیے یا نہیں۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ رجسٹرار آفس نے حکومت کو کاغذی کارروائی کو مکمل کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی ہے کیونکہ 90 کتابچوں کو، جن میں سے ہر ایک 175 صفحات پر مشتمل ہے، دائر کرنا مقصود تھا، حکومتی سائڈ کا کہنا ہے کہ وہ پوری کوشش کرے گی کہ کاغذی کارروائی 15 دن کے اندر مکمل کی جائے۔ اس سلسلے میں جسٹس فائز عیسیٰ سمیت کیس میں ملوث مدعا علیہ اور فریقین کو بھی نوٹسز جاری کیے گئے تھے کیونکہ قواعد کے تحت یہ ضروری ہے کہ اپیل یا کسی معاملے کے بارے میں فریقین کو آگاہ کیا جائے۔
اس سے قبل 25 مئی کے رجسٹرار آفس کے فیصلے میں ایک اعتراض یہ تھا کہ درخواستوں کو داخل کرتے ہوئے مدعا علیہ کو کوئی مناسب نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا لہذا اسے کوئی مہلت نہیں مل سکی جس وجہ سے مقدمہ اصل حالت میں قابل سماعت نہ ہونے کی بنا پر واپس کیا جارہا ہے۔ حکومت کی طرف سے اپیلوں کا سیٹ 24 جون کو دائر کیا گیا ہے کیونکہ 24 مئی کو نظرثانی کی درخواستیں دائر کی گئیں اور قواعد کے مطابق رجسٹرار آفس کے فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے کسی بھی اپیل کو 30 دن کے اندر دائر کرنا ہوتا ہے۔ اس سے پہلے 24 مئی کو وفاقی حکومت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر کی جانب سے دائر نظرثانی درخواستوں پر 26 اپریل 2021 کے اکثریتی فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواستیں دائر کی تھیں۔
خیال رہے کہ 26 اپریل 2021 کو سپریم کورٹ کے 10 رکنی فل کورٹ بینچ نے صدارتی ریفرنس پر حکم کے خلاف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی نظرثانی درخواستیں 6، 4 کے تناسب سے منظور کی تھیں۔ اکثریتی فیصلے میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ اور ان کے بچوں کی جائیدادوں سے متعلق ایف بی آر سمیت تمام فورمز کی قانونی کارروائی کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ایف بی آر کی مرتب کردہ رپورٹ سپریم جوڈیشل کونسل سمیت کسی عدالتی فورم پر چیلنج نہیں ہوسکتی۔
