کپتان سرکار نئے قرضے لے کر پرانے قرضے کیوں چکا رہی ہے؟


معاشی ماہرین نے تحریک انصاف حکومت کی نئے قرضے لے کر پرانے قرضے چکانے کی پالیسی پر حیرت کا اظہار کیا ہے جس نے پاکستانی عوام کو کو بیرونی قرضوں کے ناقابل برداشت بوجھ تلے دبا دیا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پرانے قرض اتارنے کے لئے نئے قرضے لینے کی روش کے خاتمے کے لئے معیشت کا حجم بڑھانا ہوگا اور ساتھ ہی سول اور عسکری دونوں شعبوں میں غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرنا ہو گا۔صرف یہ دو کام کرنے سے ملک کو سالانہ اخراجات کی مدد میں ایک کھرب روپے کی بچت ہو گی جس سے ملک کا بیرونی قرضوں پر انحصار کم ہوگا۔ وزیر اعظم عمران خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ڈھائی سالہ دورِ حکومت میں پاکستان نے 20 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ واپس کیا ہے جو بیرونی قرضوں کی ریکارڈ واپسی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے اپنے ڈھائی سالہ دور حکومت میں 20 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے تو واپس کیے ہیں تاہم سچ یہ یے کہ ان کے دور اقتدار میں ملک کا مجموعی بیرونی قرضہ تاریخ کی بلند ترین سطح تک پہنچ چکا ہے۔پاکستان کے ذمے واجب الادا مجموعی رقم اس وقت 115 ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 31 دسمبر 2020 تک ملک کا مجموعی قرض 115.756 ارب ڈالر تھا۔ایک سال پہلے یعنی 31 دسمبر 2019 کو 110.719 ارب ڈالر تھا یعنی پاکستان کے ذمے مجموعی طور پر واجب الادا قرض میں ایک سال میں پانچ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا۔
پاکستان کی فنانس ڈویژن میں قائم ڈیبٹ آفس کے ڈائریکٹر جنرل عبد الرحمن وڑائچ کے مطابق بتایا کہ سٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار میں ملک کے مجموعی طور پر بیرونی قرض کی بات کی گئی ہے۔اس قرض میں حکومت پاکستان کی جانب سے لیے جانے والے قرضے کے علاوہ حکومتی تحویل میں چلنے والے اداروں کی جانب سے لیا گیا قرض بھی شامل ہے تو اس کے ساتھ ملک کے نجی شعبے میں کام کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے بیرون ملک سے لیا گیا قرض بھی شامل ہے۔ یہ رقم صرف حکومت نہیں بلکہ پورے پاکستان کی واجب الادا رقم ہے۔عبد الرحمان وڑائچ نے بیرون ملک سے لیے جانے والے حکومتی قرضے پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قرضہ اسی ارب ڈالر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت بیرونی اور داخلی ذرائع سے قرض حاصل کرتی ہے۔ حکومتی قرضے کو دیکھا جائے تو اس میں سے ایک تہائی قرض بیرونی ذرائع سے حاصل کیا گیا اور دو تہائی قرضہ داخلی ذرائع یعنی مقامی بینکوں سے لیا جانے والا ادھار ہے۔انھوں نے کہا کہ ملک کے جی ڈی پی اور قرض کے درمیان تناسب پر بات کی جائے تو یہ تقریباً تیس فیصد ہے۔عبد الرحمان وڑائچ نے بتایا کہ واپس کیے جانے والے قرضے میں نوے فیصد سے زائد حصہ تو پرنسپل اماونٹ یعنی اصل رقم ہے اور سود کی ادائیگی بہت کم ہے۔انہوں نے بتایا کہ بیرونی ملک سے حاصل کیے گئے قرض پر شرح سود بہت کم ہوتا ہے اور یہ دو تین فیصد تک ہونے کے ساتھ اس کی واپسی بھی طویل مدتی ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کی پاکستان کی بیرونی قرض کی واپسی کا میچورٹی دورانیہ اوسطاً سات سال بنتا ہے جو بہت اچھا دورانیہ سمجھا جاتا ہے اور بیرون ملک قرضے دینے والے ادارے بھی اسی وجہ سے پاکستان پر اعتماد کرتے ہیں کہ ملک قرض لینے اور واپس کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے۔
ڈارسن سیکورٹیز کے ہیڈ آف ریسرچ یوسف سعید نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے واپس کیے گئے بیرونی قرض کی واپسی کی تصدیق سرکاری اعداد و شمار سے ہوتی ہے۔انھوں نے بتایا کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو پتا چلے گا کہ موجودہ حکومت کی مدت شروع ہونے سے لے کر 31 دسمبر 2020 تک اس حکومت نے 20.454 ارب ڈالر کا بیرونی قرض واپس کیا ہے۔ یوسف سعید کے مطابق اگر پاکستان مسلم لیگ نواز کے پہلے ڈھائی سالہ دور حکومت میں بیرونی قرض کی واپسی کو دیکھا جائے تو اس کی مالیت محض 9.953 ارب ڈالر تھی۔ ان کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت کے پہلے ڈھائی برسوں میں اس سے کہیں کم یعنی 6.454 ارب ڈالر کا بیرونی قرض واپس کیا تھا۔ماہر معیشت قیصر بنگالی نے اس سلسلے میں کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے 20 ارب ڈالر قرضے کی واپسی کی تصدیق اگر سرکاری اعداد و شمار سے ہوتی ہے تو اسے جھٹلانے کی کوئی ضرورت نہیں تاہم یہ دیکھنا ہوگا کہ یہ بیرونی قرضہ پاکستان نے اپنے وسائل پیدا کر کے ادا کیا یا پھر بیرون ملک سے نیا قرض اٹھا کر پرانا قرض ادا کیا۔قیصر بنگالی نے کہا کہ اب تک یہی ہوتا آرہا ہے اور اب بھی یہی ہوا کہ بیرونی قرضوں کی واپسی کے لیے نیا قرض اٹھایا گیا جو حکومتی اعداد و شمار سے ظاہر ہے کہ بیرون ملک سے لیے جانے والے قرض کی مالیت مسلسل بڑھ رہی ہے۔
ملک پر لدے ہوئے بیرونی قرضے سے نجات حاصل کرنے کے لیے کیا طریقہ کار ہو سکتا ہے، اس کے بارے میں عبد الرحمن وڑائچ نے کہا اس کے لیے ملکی کی آمدنی بڑھانا سب سے ضروری ہے جو زیادہ سے زیادہ ٹیکس حاصل کر کے ہی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے مسائل کی وجہ ریونیو کا نہیں بڑھنا ہے۔اگر ملک میں زیادہ ٹیکس اکٹھا ہو گا تو حکومت کو بیرون ملک سے بجٹ خسارے کے لیے رقم ادھار نہیں لینا پڑے گی۔قیصر بنگالی نے اس امکان کو مسترد کیا کہ فی الحال ملک کی آمدنی بڑھا کر بیرون ملک قرضے پر انحصار کم کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ملک کی معیشت سکڑ رہی ہے اور اس میں اتنی جان نہیں ہے کہ وہ زیادہ ٹیکس ادا کر سکے۔ انہوں نے کہا فی الحال ملک میں ایسی پالیسی اپنانی ہو گی جس میں غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کرنا ہو گا۔انھوں نے کہا کہ یہ غیر ترقیاتی اخراجات سول اور عسکری دونوں شعبوں میں کم کرنا ہوں گے۔ مثال کے طور پر وفاقی سطح پر 40 ڈویژن کو گھٹا کر انہیں 20 تک لانا ہو گا اور اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبوں کو منتقل کیے جانے والے محکموں کو ایک نئے نام سے وفاقی سطح پر برقرار رکھنے کی روش کو ختم کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا ہے کہ اسی طرح دفاعی شعبے میں غیر جنگی اخراجات کو کم کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا صرف یہ دو کام کرنے سے ملک کو سالانہ اخراجات کی مدد میں ایک کھرب روپے کی بچت ہو گی جس سے ملک کا بیرونی قرضے پر انحصار کم ہو ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button