کپتان نے اپنا دورہ ڈیووس ایک نجی کمپنی سے سپانسر کیوں کروایا؟
کیا کسی ملک کے وزیراعظم کو اپنے غیر ملکی سرکاری دورے کے اخراجات کسی نجی کمپنی کے کھاتے میں ڈالنے چاہئیں خصوصاجب اس ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن پر بین الاقوامی ادارے وارننگ جاری کر رہے ہوں؟
یہ سوال تب پیدا ہوا جب وزیراعظم عمران خان نے انکشاف کیا کہ انکے سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم اجلاس میں شرکت پر ساڑھے چار لاکھ ڈالرز کے اخراجات اٹھنے تھے جوکہ سرکاری خزانے سے ادا ہونے تھے۔ تاہم ان کے دوستوں اکرام سہگل اور عمران چوہدری نے انکا قیام وطعام سپانسر کیا جس سے قومی خزانے پر صرف 68 ہزار ڈالر کا بوجھ پڑا اور یوں تقریبا 4 لاکھ ڈالرز کی بچت ہو گئی۔
تاہم ملک کے سیاسی، سماجی اور سفارتی حلقوں میں وزیراعظم پر نجی افراد سے سپانسر شپ لینے کی فیصلے پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ اکرام سہگل اور عمران چودھری نے ذاتی فوائد سمیٹنے کے لیے وزیراعظم کے دورے کے اخراجات اٹھائے اور اب اسکے بدلے میں عمران خان سے کوئی نہ کوئی جائز ناجائز کام ضرور کروائیں گے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ویسے بھی مہذب معاشروں میں دنیا کا کوئی بھی حکمران نجی کمپنیوں یا شخصیات سے سرکاری دورہ سپانسر کرانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا خصوصا جب ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل جیسا ادارہ اس ملک میں برھتی کرپشن کی نشاندہی کرتے ہوئے یہ وارننگ جاری کرچکا ہوں کہ حکمرانوں کو نجی افراد اور کمپنیوں سے مالی فائدے نہیں اٹھانے چاہئیں کیونکہ ان سے کرپشن کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
خیال رہے کہ اکرام سہگل کی ایک نجی سیکیورٹی کمپنی ہے اور وہ دفاعی امور کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ سہگل کا نام پاکستان کے سیاسی، سفارتی اور عسکری حلقوں میں بھی جانا پہچانا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اکرام سہگل 1987 سے پاکستان کے فارن مشنز کنٹریکٹس میں سیکیورٹی گارڈز مہیا کرکے دوتہائی رقم کمیشن کی مد میں وصول کرتے ہیں۔ اکرام سہگل نے پاتھ فائنڈر گروپ کے نام سے ایک ادارہ قائم کر رکھا ہے۔ یہ ادارہ ملٹی نیشنل فارماسوٹیکل کمپنی مارٹن ڈاؤ گروپ کے اشتراک سے ڈیووس میں 1992 سے پاکستان کا سافٹ امیج اجاگر کرنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ یہ دونوں ادارے مل کر 2002سے سوئٹزر لینڈ میں پاکستان بریک فاسٹ کے نام سے ایک تقریب منعقد کرواتے ہیں۔
ماضی میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور سابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار پاکستان بریک فاسٹ نامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی اپنے خیالات کا اظہار کرچکے ہیں۔
اسی طرح عمران چوہدری سے وزیراعظم عمران خان کی دوستی عشروں پر محیط ہے۔ کہا جاتا ہے کہ عمران چوہدری نے شوکت خانم میموریل ہسپتال بنانے کے لیے بھی دل کھول کر چندہ فراہم کیا۔ دبئی میں مقیم عمران چوہدری متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب میں کئی منصوبوں میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عمران نے 1996 میں آنجہانی لیڈی ڈیانا کو دورہ پاکستان کروانے اور شوکت خانم میموریل ہسپتال کی فنڈ ریزنگ کے سلسلے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ 2013میں پرنس چارلس اور کمیلا پارکر کی جانب سے دیئے گئے چیرٹی ڈنر میں عمران خان اپنے دوست عمران چوہدری کے ہمراہ شریک ہوئے تھے۔
سفارتی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی حکمران نجی شخصیات سے دورہ سپانسر کرانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا ، ورنہ ہر ملک کے لوگ خرچہ اٹھانے کے لیے لائنیں لگا لیتے۔ کسی بھی سربراہ حکومت کا بیرون ملک کا سرکاری دورہ ہمیشہ سرکاری خرچ پر ہوتا ہے، یہ کوئی عیب کی بات نہیں۔ دوسری صورت یہ کہ وہ اپنی جیب سے خرچ کرے۔ جب کوئی اکرام سہگل یا عمران چوہدری ٹائپ کا بزنس مین لاکھوں ڈالرز کا بوجھ اپنے سر لے گا تو اس کے بدلے ضرور کوئی مفادات بھی حاصل کرے گا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اکرام سہگل نے وزیراعظم پاکستان پر خطیر پیسہ اللہ واسطے نہیں لگایا۔ وہ اپنی رقم پورے کریں گے۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ اس چیز کا ثبوت ہے جس نے حال ہی میں حکومت پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ وہ نجی افراد سے سیاسی و مالی فوائد حاصل نہ کریں، یہ بھی کرپشن کی ایک قسم ہے۔
