کپتان نے کرسی کے لیے لوٹوں کو گلے لگا کر NRO دے دیا

اپنے سیاسی مخالفین کو مرتے دم تک این آر او نہ دینے کا ورد کرنے والے وزیراعظم عمران خان نے حالیہ سینیٹ الیکشن میں اپنے امیدوار کی شکست کا سبب بننے والے 16 بکاؤ ایم این ایز کو این آر او دیتے ہوئے
ایک مرتبہ پھر ایک بڑا یوٹرن لیا اور اپنی لڑکھڑاتی ہوئی وزارت عظمی وقتی طور پر بچا لی۔ لہذا ناقدین کی جانب سے یہ کہنا بجا ہے کہ عمران خان نے محض کرسی کی خاطر لوٹوں کو این آر او دیکر اپنی ہی زبان سے پھر گے اور اپنا ضمیر بیچنے والے لوٹوں کی مدد سے اقتدار بچا لیا۔ عمران خان کی جانب سے اعتماد کا ووٹ لیے جانے کو جہاں وزیراعظم کے حامی ’بولڈ سٹیپ‘ قرار دیتے ہوئے اسے ان کی بہادری سے تعبیر کرتے رہے وہیں سیاسی مخالفین یہ کہتے پائے گئے کہ جن امیدواروں نے وزیراعظم کی جانب سے حفیظ شیخ کے حق میں چلائی گئی مہم کے باوجود ان کے امیدوار کی بجائے یوسف رضا گیلانی کا ساتھ دیا، اب انہی بکاؤ ایم این ایز سے اعتماد کا ووٹ لینا وزیراعظم کے اپنے اصولی موقف کی شکست ہے۔ اپوزیشن والوں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے ثابت کیا کہ وہ بھی ایک موقع پرست سیاستدان ہیں اور اصولی موقف کا ڈھنڈھورا ایک ڈھکوسلہ ہے۔
واضح رہے کہ حکومتی امیدوار ڈاکٹر عبد الحفیظ شیخ کے مقابلے میں پی ڈی ایم کے مشترکہ امیدار سید یوسف رضا گیلانی کی فتح میں تحریک انصاف کے ناراض اراکین کا واضح ہاتھ ہے جو نجی محافل میں عمران خان کی شخصیت اور پالیسیوں پر پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ تحریک انصاف کے وزرا دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں اپنی جماعت کے لوٹوں کا پتہ ہے اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی لیک شدہ ویڈیو میں بھی تحریک انصاف کے چار ایم این ایز کا معلوم ہو چکا ہے۔ تاہم اگر عمران خان ان لوگوں کے خلاف کاروائی کرتے تو پھر ان کے لیے 6 مارچ کو قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینا مشکل ہو جاتا۔ لہذا یہی بہتر سمجھ آگیا کہ لوٹوں کے خلاف ایکشن لینے کی بجائے ان کا ووٹ حاصل کیا جائے اور اقتدار بچایا جائے۔
وزیر داخلہ شیخ رشید پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ حکومت کے پاس اُن ارکان کی معلومات موجود ہیں جنہوں نے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا تھا یا انکی خاطر اپنا ووٹ ضائع کیا۔ تاہم، نہ تو پی ٹی آئی اور نہ ہی وزیراعظم ایسے ارکان کو بے نقاب کرنے کے متحمل ہو سکتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنا مشکل ہو جاتا ہے جس کا مطلب عمران حکومت کا خاتمہ ہوتا۔ 6 مارچ کے روز قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے والے وزیراعظم عمران خان کو اپنی حکومت بچانے کیلئے کم از کم 172 ووٹ درکار تھے۔ پی ٹی آئی اور اس کی اتحادی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی کی مجموعی تعداد 181 ہے لہذا حکومتی بینچوں پر اتنی تعداد میں بیٹھے ارکان کی تعداد کو مد نظر رکھتے ہوئے واضح تھا کہ عمران خان کو اپنی حکومت بچانے کیلئے مذکورہ 16 ضمیر فروش ارکان اسمبلی کے ووٹ درکار تھے اس لئے انہیں این آر او دے کر حکومت بچا لی گئی۔
اس سے قبل 4 مارچ کو ٹیلیویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ الیکشن خفیہ رائے شماری کے ذریعے کرانے پر الیکشن کمیشن کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ووٹنگ خفیہ نہ ہوتی تو انہیں اپنا ضمیر بیچنے والے پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کا پتہ چل جاتا۔ انہوں نے کہا، جب سپریم کورٹ نے آپ کو موقع دیا تھا اور کہا تھا کہ ووٹ کی شناخت کو یقینی بنائیں، تو ایسا کیوں نہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آج اگر ہم اُن 15-16 لوگوں کے نام جاننا چاہیں جنہوں نے اپنے ضمیر بیچے تو ایسا کیسے ہوگا؟ وزیراعظم نے الیکشن کمیشن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اُن لوگوں کو بچایا اور خفیہ رائے شماری کرائی۔ آپ نے جمہوریت اور اخلاقیات تباہ کر دی۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جہاں ایک سینیٹر پیسے دے کر کامیاب ہو جاتا ہے؟
تاہم حقیقت یہ ہے کہ یہ سب کچھ کہنے کے باوجود اور پھر اپنی پارٹی کے لوٹوں کا پتہ چل جانے کے باوجود عمران خان نے ضمیر فروشوں کو پارٹی سے نکالنے کی بجائے انہیں سے اعتماد کا ووٹ لے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ابھی انہیں ایوان کا اعتماد حاصل ہے حالانکہ اصل میں ایسا نہیں ہے اور اگر خفیہ رائے شماری کی آپشن موجود ہوتی تو عمران خان کا انجام یقینا حفیظ شیخ والا ہوتا۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کے امیدوار کو قاف۔لیھ اور جنوبی پنجاب کے اراکین اسمبلی نے بھی ووٹ نہیں دیے کیونکہ کپتان نے نہ تو جنوبی پنجاب صوبہ محاذ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو سینیٹ کا امیدوار بنایا اور نہ ہی ان کے کہنے پر اسحاق خاکوانی اور معروف صنعتکار جلال الدین رومی کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا گیا۔ ہاں انہوں نے یہ ضرور کیا کہ اپنے ایک سیاسی کارکن عون عباس بپی کو ٹکٹ دے کر بلا مقابلہ منتخب کروایا جس کا غصہ جنوبی پنجاب کے ایم این ایز نے سینیٹ الیکشن میں حفیظ شیخ کی بجائے یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دے کر نکالا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 5 مارچ کو ہونے والی تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں عمران خان اور ساتھ ہی وزیر دفاع پرویز خٹک نے پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ کو بتایا ہے کہ جن لوگوں نے سینیٹ کے حالیہ الیکشن میں پارٹی کو دھوکا دیا ان کے حوالے سے ’معاف کرو اور بھول جاؤ‘ کی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔تاہم ان سے کہا گیا کہ تمام ارکان اعتماد کے ووٹ کی کارروائی میں ضرور شرکت کریں گے بصورت دیگر انہیں نا اہلیت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ واضح رہے کہ ہفتہ 6 مارچ کے دن وزیراعظم عمران خان کو اعتماد کا ووٹ اُنہی 15-16 ارکان کے ذریعے ہی ممکن ہوا ہے جنہوں نے پارٹی سے بغاوت کرتے ہوئے سینیٹ کے حالیہ الیکشن کے دوران پی ڈی ایم کے امیدوار یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا تھا۔ ایسی صورتحال میں، وزیراعظم کا اعتماد کا ووٹ پی ٹی آئی کے اُن ارکان اسمبلی کیلئے این آر او قرار دیا جا رہا ہے جنہوں نے کچھ ہی دن قبل اپنے ووٹ مبینہ طور پر فروخت کر دیے اور حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کو شکست ہوئی۔ دیکھا جائے تو وزیراعظم عمران خان اپنی پارٹی کے ان ارکان سے بہت ناراض ہیں اور چاہتے تھے کہ الیکشن کمیشن ان افراد کو بے نقاب کرے، انہوں نے کہا کہ ایسے امیدواروں نے اپنا ضمیر بیچا، تاہم کرسی بچانے کی خاطر عمران خان نے انہی ضمیر فروشوں سے اعتماد کا ووٹ لے کر سرخرو ہونے کا ڈھونگ رچایا ہے۔ اگر پی ٹی آئی کے یہی ارکان وزیراعظم کیلئے اعتماد کا ووٹ نہ ڈالتے تو اس سے عمران خان کی حکومت ختم ہو جاتی۔ توقع کے عین مطابق پی ٹی آئی 157ارکان کے علاوہ ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق ، بی اے پی، جی ڈی اے، عوامی مسم لیگ اور جمہوری وطن پارٹی کے اراکین نے وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دیا۔ چونکہ اعتماد کے ووٹ کے لئے خفیہ رائے شماری نہیں بلکہ ہاتھ اُٹھا کر ووٹنگ ہوئی اس لئے پی ٹی آئی کے ناراض اراکین مجبور تھے کہ عمران خان کو ووٹ دیں بصورت دیگر انہیں پارٹی پالیسی کی خلاف ورزی پر نااہل قرار دیا جاسکتا تھا۔ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے سے قبل 5 مارچ کو وزیراعظم کی جانب سے اپنے ایم این ایز کے نام خط میں واضح کیا گیا تھا کہ 6 مارچ کو دوپہر 12 بج کر 15 منٹ تک تمام اراکین اسمبلی ہال پہنچ جائیں، بتائے گئے وقت کے بعد کسی رکن کو اسمبلی ہال میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ملے گی، اسمبلی نہ پہنچنے والے رکن کو ڈی سیٹ کروانے کی کاروائی شروع کی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے اپنے اراکین کو نااہلی کی دھمکی دے کر زبردستی اعتماد کا ووٹ لیا ہے جس سے ان کی ساکھ صفر رہ گئی ہے۔
