کپتان کا راوی ڈویلپمنٹ منصوبہ ناقابل عمل کیوں ہے؟

وزیر اعظم عمران خان نے لاہور میں دریائے راوی پر ریور راوی فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت نئے شہر اور جھیل کا سنگ بنیاد تو رکھ دیا ہے لیکن تعمیراتی ماہرین کی جانب سے یہ منصوبہ ناقابل عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سے ملک میں پانچ کھرب کی سرمایہ کاری تو نہیں آئے گی لیکن عوامی ٹیکسوں کے اربوں روپے ضرور ضائع ہو جائیں گے لہذا یہ سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔
قلیل مدتی معاشی پالیسیوں، ناقص حکمت عملی، ماحولیاتی منظوری اور فزیبیلیٹی کے بغیر عمران خان کا افتتاح کردہ دریائے راوی کے کنارے ایک لاکھ ایکڑ پر مشتمل پانچ کھرب روپے کی لاگت سے نیا لاہور شہرتعمیر کرنے کا منصوبہ نا قابل عمل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق 05-2004 میں پاکستان مسلم لیگ ق جبکہ 14-2013 میں مسلم لیگ ن کے دور میں بھی لاہور میں راوی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کی فزیبیلیٹی تیارکرنے کے باوجود اس پر عمل درآمد روک دیا گیا تھا تاہم کپتان سرکار کی طرف سے متروکہ منصوبے پر عملدرآمد کا اعلان سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے علاوہ کچھ نہیں ہے اس سے ملک میں پانچ کھرب تو نہیں آئیں گے لیکن عوامی ٹیکسوں کے اربوں روپے ضرور ضائع ہو جائیں گے۔
7 اگست 2020 کے روز وزیراعظم عمران خان نے لاہور میں راوی ڈویلپمنٹ پروجیکٹ کا افتتاح کیا اور تقریباً چالیس روز بعد 15 ستمبر کوریور راوی فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کے تحت نئے شہر اور جھیل کا سنگ بنیاد بھی رکھ دیا گیا ہے۔ حکومتی اعداد و شمار کے مطابق اس پروجیکٹ کے تحت پنجاب حکومت لاہور میں دریائے راوی کے ایک لاکھ ایکڑ کے قریب رقبے یعنی تقریباً 46 سے 48 کلومیٹر زمیں پر پانچ کھرب روپے کی لاگت سے جدید ترین شہر تعمیر کرے گی،تاہم اس حکومتی منصوبے بارے ماہرین ماحولیات تشویش کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے ایک ایسے منصوبے کا افتتاح کیا گیا ہے جس کی ماحولیاتی منظوری نہیں دی گئی، جبکہ اس پر عملدرآمد کی ذمہ داری ایک ایسی ناتجربہ کاراتھارٹی کو سونپی گئی ہے جو ایک ماہ قبل تشکیل دی گئی ہے جبکہ اس منصوبے کی فزیبیلیٹی کے لیے کنسلٹنٹ سے مشاورت بھی حال ہی میں کی گئی ہے اور تاحال کنسلٹنٹس نے اس منصوبے کی جامع فزیبلیٹی پر کام بھی شروع نہیں کیا۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ وہ تیسری مرتبہ اس منصوبے کا جنم دیکھ رہے ہیں۔ یہ کووڈ اکانومی ہے جس کے اندر پانچ کھرب روپے قطعاً نہیں ملیں گے اس لئے حکومتی منصوبے کی کامیابی کے امکانات معدوم ہیں۔ ان کا مزید بتانا تھا کہ ریور راوی فرنٹ ڈویلپمنٹ پروجیکٹ نیا نہیں ہے۔ پہلے 05-2004 میں پاکستان مسلم لیگ ق کے دور میں اور اس کے بعد 14-2013 میں مسلم لیگ ن کے دور میں بھی اس کی فزیبیلیٹی تیار کی گئی تھی تاہم گذشتہ حکومتوں نے اس منصوبے کوناقابل عمل قرار دیتے ہوئے اس پر عملدرآمد ترک کر دیا تھا اور اب تبدیلی سرکار نے بغیر تازہ سٹڈی کروائے اس متروکہ منصوبے کا افتتاح کر دیا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ اس منصوبے کی تازہ فزیبلیٹی کیلئے کنسلٹنٹس کو تو دعوت دی گئی ہے تاہم ان کنسلٹنٹس میں سے کسی ایک کو چنا جائے گا، پھر وہ لاہور آکر کام شروع کریں گے اور ان کو لاہور ڈویژن کو سمجھنے میں ایک دو سال لگیں گے، پھر وہ اس کی رپورٹ تیار کریں گے اور پیش کرنے میں اور اس رپورٹ کی کنفرمیشن دینے میں چار سے پانچ سال کا عرصہ درکار ہوگا اس لئے اس منصوبے پر کام شروع کرنے میں بھی چار پانچ سال درکار ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف ایل ڈی اے لاہور ماسٹر پلان 2040 پر کام کر رہی ہے دوسری طرف قانون سازی کرتے ہوئے ایل ڈی کے زیر انتظام رقبے میں سے 48 کلومیٹر کا رقبہ ایک ناتجربہ کار اتھارٹی کو سپرد کر دیا گیا جولاہور ڈویژن کے ماسٹر پلان کے ساتھ مربوط نہیں ہوگا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ابھی تو اس منصوبے کی فزیبیلیٹی بھی تیار نہیں ہوئی، نہ اس کی ماحولیاتی منظوری لی گئی، نہ زمین حاصل کی گئی مگر وزیر اعظم نے اس کا افتتاح کر دیا۔’
دوسری جانب انہوں نے اس تشویش کا بھی اظہار کیا 2014 کی فزیبیلیٹی رپورٹ میں درج ہے کہ اگر آپ راوی کے کنارے لوگوں کو گھر دینا چاہتے ہوں تو کوئی نالے کے قریب تو نہیں رہنا چاہے گا، اس لیے اس پانی کو صاف کرنا پڑے گا۔ اس وقت فزیبیلیٹی رپورٹ بنانے والے ماہرین نے کہا تھا کہ لاہور میں 10 سے 12 ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس ہونے چاہییں تاکہ لاہور کا دو ہزار کیوسک گندا پانی جو ہر دن راوی کے اندر پھینکا جاتا ہے اسے ٹریٹ کیا جائے تاکہ وہاں جو لوگ جائیداد خریدیں وہ کم از کم نالے کے قریب نہ رہ رہے ہوں۔ ان ویسٹ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی قیمتیں لاکھوں ڈالرز میں تھی اسی لیے مسلم لیگ ن کی حکومت نے اس منصوبے کو نا قابل عمل قرار دے کر چھوڑ دیا تھا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دنیا بھر میں چند ایسے شہر اور ملک ہیں جہاں نہروں اور ندیوں کو صاف کیا گیا ہے تاہم ان کامیاب منصوبوں میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ منصوبہ بنانے والوں کے پاس ایک ایسی سوچ یا نظریہ تھا جو ہمارے سیاسی سائیکل سے طویل ہے۔ ہمارا سیاسی سائیکل پانچ سال کا ہے جبکہ نہر کو صاف کرنے میں 25 سال لگتے ہیں تو آپ کا وژن بھی 20 یا 25 سال کا ہونا چاہیے۔ طویل مدتی منصوبہ بندی کے ساتھ ہی ایسے منصوبے کامیاب ہوتے ہیں تاہم پاکستان میں ایسی منصوبہ بندی کافقدان ہے’
