کپتان کا سمارٹ لاک ڈاؤن لڑائی کے بعد یاد آنے والا مکا ہے


مشہور کہاوت ہے کہ وہ مکا جو لڑائی کے بعد یاد آئے اسے اپنے ہی منہ پر مار لینا چاہیئے۔ ملک کے تمام حصوں میں کرونا وباء کے مکمل طور پر پنجے گاڑھنے اور اسکے پھیلاؤ میں تیزی آنے کے بعد کپتان حکومت کی جانب سے سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ کوایسا ہی ایک مکا قرار دیا جا رہا ہے جس کی یاد حکومت کو کرونا پھیلنے کے بعد آئی ہے۔
پاکستان میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈیڑھ لاکھ کے قریب افراد کورونا کا شکار ہو چکے ہیں اور اس وائرس کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 3000 سے تجاوز کر چکی ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ مریضوں کی تعداد اور اموات میں ریکارڈ اضافہ سامنے آ رہا ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق کرونا کے فرنٹ پر ھکومت کی نا اہلی اور غفلت سےحالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ ہسپتالوں میں کرونا مریضوں کیلئے بیڈز ختم ہو چکے ہیں۔ آکسیجن سلنڈر سمیت ساری چیزوں کی قیمتیں شہریوں کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔ حالات بگڑنے کے بعد حکومت کی طرف سے مختلف علاقوں کو بند کرنے کے اقدامات کا اب کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
ڈاکٹرز ایسوسی ایشنز کا ماننا ہے کہ اب جب ہر دوسرے گھر میں کرونا وائرس کی علامات موجود ہیں، اس مرحلے پر اسمارٹ لاک ڈاؤن کا کوئی خاص نتیجہ سامنے نہیں آئے گا۔ ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن یعنی وائی ڈی اے کے سرپرست ڈاکٹر معروف کا کہنا ہے کہ ’جب ہم رمضان میں لاک ڈاؤن کو ختم کرنے کے خلاف حکومت سے مطالبات کررہے تھے تو کسی نے بھی ہماری بات نہیں سنی تھی‘۔ اب حکومت کرونا وائرس کی صورتحال بہتر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگی۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے سبب ڈاکٹر برادران اور عوام کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے کیونکہ مریضوں میں اضافہ ہورہا ہے اور اب ’اسمارٹ‘ یا ’سلیکٹڈ‘ لاک ڈاؤن کا موثر انداز میں فائدہ نہیں ہوگا۔
ملک میں شروع کئے گئے سمارٹ لاک ڈاؤن بارے پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے رہنما ڈاکٹر اشرف نظامی کا کہنا ہے کہ اس طرح کے لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں سکتی۔ ان کے بقول اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے اور وہ ہے مکمل لاک ڈاؤن۔ ان کے مطابق بدقسمتی سے حکومت کرونا کے حوالے سے غیر سنجیدہ ہے کرونا سے اموات بڑھ رہی تھیں اور وزیر اعظم نہ گھبرانے کی تلقین کر رہے تھے۔ وزیر اعظم عمران خان متضاد بیانات دے کر لوگوں کی کنفیوژن بڑھاتے رہے۔ حکومت کی طرف سے بروقت اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے صورتحال بہت سنگین ہو گئی ہے، پاکستان کا کوئی ضلع اب اس وبا سے محفوظ نہیں رہا ہے بلکہ اب تو اس کے اثرات تحصیل لیول پر بھی محسوس کيے جا رہے ہیں۔ بڑے شہروں کے ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی قلت پیدا ہونا شروع ہو چکی ہے۔ خدشہ ہے کہ اگر حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ واضح طور پراہم فیصلے نہ کيے تو جولائی کے آخر تک کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد پینتیس لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آزمائش کی اس گھڑی میں سب سے تکلیف دہ بات یہ ہے کہ حکومت کے پاس اپنے فیصلوں کو نافذ کروانے کے ليے رٹ بھی موجود نہیں ہے، اعتماد کے فقدان کا یہ عالم ہے کہ عوام حکومتی اعلانات یا اعدادو شمار پر اعتبار نہیں کرتے۔ حکومت کی نا اہلی کی سزا عوام بھگت رہے ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن فیصل آباد چیپٹر کے سیکریٹری ڈاکٹر محمد عرفان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ’غیر منحرف’ پالیسیوں سے ڈاکٹروں اور عوام کے لیے پریشانیوں میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ متعدد ڈاکٹرز بھی اس وائرس کا شکار ہوچکے ہیں۔ان کا مزید کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن اب مشکل کام ہے کیونکہ انتظامیہ کو مریضوں کو گھروں میں آئی سولیٹ کرنا ہوگا اور اگر گھروں میں گنجائش کا فقدان ہے تو پھر انتظامیہ کو دوسروں کو محفوظ رکھنے کے لیے مریضوں کو ہسپتالوں میں لے جانا پڑے گا اور ہسپتالوں میں پہلے ہی مریضوں کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
دوسری طرف یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلرڈاکٹر جاوید اکرم کے مطابق کرونا کے حوالے سے پاکستان کے مستقبل کے منظر نامے کی نشاندہی کرنا آسان نہیں۔ آنے والے دنوں میں وائرس کتنا پھیلے گا اس کا انحصار عوام کے رویے پر بھی ہوتا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اسمارٹ لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤکو روکنے میں مدد ملے گی۔ ڈاکٹر جاوید اکرم کے خیال میں ملک میں کورونا وائرس کو روکنے کے ليے ایس او پیز کا سختی سے نفاذ ایک بڑا چیلنج ہے۔
یاد رہے کہ نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول اتھارٹی نے ملک کے چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے شدید متاثرہ حصوں میں لاک ڈاون کی سفارش کی تھی۔ ان علاقوں میں اسلام آباد، کراچی، لاہور، گھوٹکی، سوات، پشاور، کوئٹہ اور گوجرانوالہ کے مختلف علاقے شامل ہیں۔ اس لاک ڈاؤن کے تحت وبا سے شدید متاثرہ علاقوں کو پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کی نگرانی میں پندرہ دنوں کے لیے بند کیا گیا ہے، لوگوں کی آمدورفت پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے۔ البتہ ان علاقوں میں کھانے پینے کی اشیا اور ادویات والی دوکانیں کھلی رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button