NFC ایوارڈ ناقابل عمل، 18 ویں ترمیم پر نظرثانی ناگزیر ہے

وزیراعظم عمران خان نے 18 ویں ترمیم پر نظرثانیکرنے اور قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کو ناقابل عمل قرار دے دیا۔
کراچی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ 18ویں ترمیم میں جلدبازی میں کئی ایسی چیزیں ڈال دی گئی ہیں جنہیں ختم کرنا ہوگا، اختیارات صوبوں کو پہنچ گئے لیکن صوبوں نے اختیارات بلدیات کو نہیں دیے جب کہ وزیراعلیٰ کے پاس وہ اختیارات ہیں جو کسی آمر کے پاس بھی نہیں تھے۔این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ کیسا سسٹم بنایا ہے کہ وفاق صوبوں کو پیسے دے دیتا ہے اور خود 700 ارب خسارے میں چلا جاتا ہے، این ایف سی ایوارڈ میں بھی خامیاں ہیں، یہ ناقابل عمل ہے۔
وزیراعظم کا چینی انکوائری کمیشن رپورٹ کے حوالے سے کہنا تھا کہ چینی مہنگی ہونے پرکمیشن کی رپورٹ آئی تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کردیا گیا،کبھی سنا ہے کہ کسی کمیشن کی رپورٹ پر عدالت نے اسٹے دے دیا ہو؟ کمیشن کی رپورٹ پر اداروں نے کارروائی کر نی ہے، مگر پہلے ہی اسٹے آگیا، یہ ان کی طاقت ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی اشرافیہ شوگر انڈسٹری میں موجود ہے جو حکومت کی ساری پالیسیز ہائی جیک کر بیٹھے تھے، ملک میں خراب کوالٹی کی چینی دنیا سے مہنگی بیچی جاتی ہے اور سبسڈی لے کر ٹیکس چوری کی جاتی ہے، 4سال میں 29 ارب روپے کی سبسڈی لی گئی جب کہ 80 شوگر ملز نے ٹوٹل ٹیکس 9 ارب روپے دیا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلاف ہوگالیکن پیسے کے معاملے پر یہ سب اکٹھے ہیں، قوم سے وعدہ ہے آخری حد تک جائیں گے اور ان کو ایکسپوز کریں گے، ان پر جرمانہ ہوگا،ان سے پیسے لیں گے ان سے کسانوں کے پیسے واپس کرائیں گے۔لاک ڈاؤن کے حوالے سے وزیراعظم نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بلاول کو تو پتہ ہی نہیں غریب لوگ رہتے کیسے ہیں، لاک ڈاؤن بلاول ہاؤس میں ہوسکتا ہے،اس کمرے میں نہیں جہاں 10 غریب موجود ہوں، مراد علی شاہ اجلاس میں ہماری بات مانتے ہیں، بعد میں بلاول کوئی اور بیان دے دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک کو بڑے عذاب سے بچایا جس میں آج بھارت پھنس گیا ہے، دو تین ہفتے مجھ پر دباؤ ڈالا گیا کہ ملک بند کردیں،ڈھائی کروڑ لوگ جو دیہاڑی پر ہیں ملک بند کردیں تو وہ بھوک سے مرنا شروع ہوجائیں گے، ہمارے لیے دہرا مسئلہ ہے کورونا سے بھی لوگوں کو بچانا ہے اور بھوک سے بھی۔
ٹڈی دل کے حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل پر 31 جنوری سے ایمرجنسی نافذ کر رکھی ہے،جولائی میں بھارت کی جانب سے ٹڈی دل کا حملہ ہوسکتا ہے، اس مسئلے پر وفاق سندھ حکومت کی مکمل مدد کررہا ہے، اسپرے کے لیے موجود تمام جہاز خراب تھے ، ایک کو چلانے کی کوشش کی کریش ہوگیا۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ترمیم سے صوبائی وزرائے اعلیٰ کو آمروں کے برابر اختیارات دیے گئے ہیں لیکن وہ اختیارات مقامی حکومت کو منتقل نہیں کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہر جگہ نظام تین سطحوں پر قائم ہوتا ہے لیکن پاکستان میں دو سطحوں کی بنیاد پر ہے’۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کا کورونا وائرس کے بعد کراچی کا پہلا دو روزہ دورہ ہے، جس میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اراکین اسمبلی اور دیگر افراد سے ملاقاتیں کیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘میں واضح کرچکا ہوں کہ جہاں اچھی حکومت ہوتی ہے وہاں معاشرے میں اختیارات کی منتقلی ہوتی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی حکومت نے اٹھارویں ترمیم میں چند چیزیں جلدی میں شامل کی تھیں جس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے’۔عمران خان نے کہا کہ ‘اس کی ایک مثال فضائی آلودگی ہے جس سے تمام صوبے متاثر ہوتے ہیں، معیاری ادویات کی ضرورت پڑتی ہے لیکن انہوں نے کئی چیزیں غلط کی ہیں’۔وزیراعظم نے دعویٰ کیا کہ پی ٹی آئی اگلے انتخابات میں مقامی حکومتوں کا نظام لائے گی جو دنیا کا بہترین نظام ہوگا، پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا میں بااختیار یونین کونسل بنادی اور ایسا نظام والا پہلا صوبہ بن گیا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے تحصیل کی سطح پر براہ راست انتخابات کروائے جس کا مقصد کرپشن کو کم کرنا تھا کیونکہ ناظم کے انتخاب میں بڑے پیمانے پر کرپشن ہوتی تھی’۔
مقامی نظام حکومت پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنی ابھر میں میئر نظام کامیاب ہے، ‘کراچی مسائل اس وقت تک حل نہیں ہوسکتے جب تک براہ راست انتخابات نہیں ہوتے، میں کوئی نئی بات نہیں کررہا ہے بلکہ یہ نظام پوری دنیا میں رائج ہے’۔انہوں نے کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں صوبوں کو 65 فیصد حصہ دیا گیا ہے جبکہ دفاع اور قرضوں کے لیے بھی رقم مختص ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘وفاقی حکومت کو شروع میں ہی 7 فیصد بجٹ خسارہ کا سامنا ہوتا جو معقول نہیں ہے، اس پر جائزہ لینے اور بحث کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا میں کہیں بھی بجٹ خسارے پر نہیں بنایا جاتا’۔
وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان واحد ملک ہے جس نے کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے اور معیشت کو بچانے میں توازن پیدا کیا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘کورونا عالمی وبا ہے، شکر ہے پاکستان بچ گیا، ہم کسی طرح انتہا کو پہنچیں گے کیونکہ ہم لاک ڈاؤن کے متحمل نہیں ہوسکتے’۔بھارت کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جب لوگ بھوک سے مرنا شروع ہوئے تو لاک ڈاؤن ختم کردیا، ‘پاکستان واحد ملک ہے جس نے ان دونوں پہلووں پر توازن رکھا، بھارت میں 4 فیصد افراد غربت کی لکیر سے نیچے گئے’۔انہوں نے کہا کہ ‘جرمنی اور سویڈن جیسے ممالک جہاں وائرس پر قابو پایا گیا وہاں شہریوں نے اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس اوپیز) پر عمل کیا’۔پاکستان کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اب حکومتی قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘ہم معلوم ہے کہ ہاٹ اسپاٹ کہاں ہیں اور ان علاقوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کریں گے’۔انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے خلاف اقدامات کے لیے وفاقی حکومت نے قومی مفاد کو زیر نظر رکھا اور ‘ہم نے پورے ملک کے مفاد کو مقدم جانا، ہم ایک نظام بنایا جہاں تمام صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور ڈاکٹر ہرروز حالات پر تبادلہ خیال کرسکتے ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں معاملات پر اتفاق کرتی تھی اور ‘ایک گھنٹے بعد وزیراعلیٰ مراد علی شاہ ایک پریس کانفرنس کرتے اور اس کے برعکس بات کرے ہیں’۔
وزیراعظم نے کہا کہ ‘سندھ نے شروع میں سخت لاک ڈاؤن کیا، ایک ایسے ملک میں جہاں ڈھائی کروڑ لوگ روزانہ اجرت پر گزارا کرتے ہوں اگر اس کو بند کردیا جائے تو لوگ بھوک سے مرناشروع ہوجائیں گے’۔انہوں نے کہا کہ ‘اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گاڑیوں پر حملے ہوئے اور لوگوں کو لوٹا گیا کیونکہ لوگ بھوکے تھے اسی لیے ہم نے اسمارٹ لاک ڈاؤن شروع کیا کیونکہ تمام شہریوں کو بند نہیں کیا جاسکتا’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے تمام صوبوں کی رائے لی، مراد علی شاہ نے اتفاق کیا لیکن بلاول بھٹو نے کچھ اور کہا، بلاول بھٹو کو اندازہ نہیں ہے کہ غریب لوگ کیسے زندہ رہتے ہیں’۔
وزیراعظم عمران خان نے ملک کے مختلف علاقوں میں ٹڈی دل کے حملوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘پاکستان ٹڈی دل کے حملوں سے اکیلے نہیں لڑ سکتا’۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایران سے رابطے میں ہے کیونکہ ایران بھی اس سے متاثر ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ تشویش ہے کہ جولائی میں افریقہ یا بھارت سے ٹڈی دل کا نیا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے، اس پر ہم نے اجلاس بلایا تھا اور تبادلہ خیال کیا ہے۔عمران خان نے کہا کہ ‘اگر کورونا کی طرح اس معاملے پر سیاست کی گئی تو یہ بدقسمتی ہوگی، ہم کوششیں کررہے ہیں لیکن کچھ چیزیں ہمارے قابو میں نہیں ہیں، ہم خوراک و زراعت کی تنظیم سے مسلسل رابطے میں ہیں’۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے مرکز اور صوبوں کی ذمہ داریوں سے بالاتر ہوکر ان حملوں سے نمٹنے کے لیے فنڈ مختص کیا ہے اور حکومت نے 31 جنوری کو ٹڈی دل کے حملوں پر ایمرجنسی نافذ کردی تھی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ‘بدقسمتی سے ٹڈی دل کے خلاف 1990 سے ہونے والا اسپرے پرانا اور غیرفعال ہے’۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button