کپتان کیلئے 17 ارب کے کرتارپور راہداری منصوبے میں NRO

سترہ ارب روپے کی لاگت سے تیار ہونے والی کرتار پور راہداری کے تعمیری منصوبے میں کرپشن کے الزامات کے بعد پیپرا رولز کے تحت آڈٹ اور انکوائری سے استثنیٰ دلوانے کی درخواست وفاقی کابینہ نے منظور کرتے ہوئے فوج کے ادارے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن اور منصوبے کی منظوری دینے والے وزیراعظم عمران خان کو این آر او دے دیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ اس این آر او کی درخواست وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزارت مذہبی امور نے وفاقی کابینہ کو بھجوائی تھی جسے اپنی صدارت میں منظور کرتے ہوئے وزیراعظم نے کرتارپور راہداری منصوبے کو پیپرا رولز سے استثنیٰ دینے کی اصولی منظوری دے دی۔
وزارت مذہبی امور نے یہ درخواست بھجواتے ہوئے موقف اختیار کیا تھا کہ چونکہ یہ قومی مفاد کا معاملہ ہے اس لیے اسے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیپرا آرڈیننس کے آرٹیکل 21 کے تحت استثنیٰ دے دیا جائے۔ پیپرا رولز سے استثنیٰ ملنے کے بعد اس پروجیکٹ کے تعمیراتی تفصیلات منظرعام پر نہیں آسکیں گی اور ان کا آڈٹ بھی نہیں ہو سکے۔
یاد رہے کہ 17 ارب روپے کی مالیت کے کرتار پور راہداری منصوبے کو بغیر ٹینڈر فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کو دیے جانے کے غیر قانونی اقدام پر انگلیاں اٹھ رہی تھی اور بڑے پیمانے پر گھپلوں کے الزامات عائد ہو رہے تھے لہازا ایف ڈبلیو او اور عمران خان کو احتساب سے بچانے کے لیے وفاقی کابینہ نے اس منصوبے کو پاکستان پبلک پروکیورمنٹ آرڈیننس کی شرائط سے استثنیٰ دے دیا ہے تا کہ اس معاملے میں کسی بھی قانونی کاروائی سے بچا جا سکے۔
دوسری جانب وزارت مذہبی امور کا موقف ہے کہ اس اہم منصوبے کی جلد تعمیر مکمل کرنے کا ہدف حاصل کرنے کے لئے ٹھیکے دیتے ہوئے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی آرڈیننس مجریہ 2002 کی شرائط کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جا سکا تھا۔ ان شرائط کے مطابق کوئی بھی ٹھیکہ دینے کے لئے شفافیت کو یقینی بنانا اور اس کام کے لئے اشتہار دے کر دلچسپی لینے والی تمام کمپنیوں کو برابر کے مواقع دینا ضروری ہے۔ یاد رہے کہ اس منصوبے پر کم و بیش 17 ارب روپے کی لاگت آئی تھی مگر لاگت کی اصل رقم کا کسی کو علم نہیں۔ حیرت انگیز طور پر چونکہ اس معاملے پر سرکاری سطح پر کوئی منظوری نہیں لی گئی تھی اس لئے پاکستان پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی اور قومی احتساب بیورو اس پر ایکشن لے سکتے ہیں لہازا قانون کے شکنجے سے بچنے کے لئے وفاقی کابینہ نے اسے آڈٹ اور انکوائری سے استثنیٰ دے دیا ہے۔
خیال رہے کہ اس منصوبے کی منظوری وزیراعظم عمران خان نے دی تھی اور اس میں اسٹیبلشمنٹ کی رضامندی شامل تھی لہذا کسی قانون اور ضابطے کی پاسداری کئے بغیر اس کی تعمیر کے ٹھیکے دیئے گئے۔ نومبر 2019 میں کھلنے والی کرتار پور راہداری کا منصوبہ ن لیگ کے دور میں 2015 میں تجویز کیا گیا تھا تاہم اس وقت اسٹیبشلمنٹ نے اسے ملکی سلامتی کے منافی قرار دے کر نواز حکومت کو پیشرفت سے روک دیا تھا۔ بعد ازاں 18 اگست 2018 کو جب بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو نے عمران خان کی تقریب حلف برداری میں آرمی چیف قمر باجوہ کو جادو کی جپھی ڈالی تو اس متروک منصوبے کو وسیع تر قومی مفاد میں شروع کرنے کا نہ صرف اعلان کیا گیا بلکہ قواعد وضوابط کے برخلاف اربوں روپے خرچ کر دیئے گئے۔ ان اخراجات کو قانوی جواز دینے کے لئے اب وفاقی کابینہ نے وزیراعظم عمران خان اور ایف ڈبلیو او دونوں کو این آر او دے دیا ہے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا دعوی ہے کہ چونکہ کرتار پور راہداری منصوبے کو قومی مفاد میں ہنگامی بنیادوں پر تعمیر کرنا تھا لہذا بغیر ٹینڈر ایف ڈبلیو او کو ٹھیکہ دیا گیا اور اب اسی وجہ سے اسکو پیپرا رولز کے تحت آڈٹ اور انکوائری سے استثنی دلوایا گیا ہے۔
جب پوچھا گیا کہ منصوبہ مکمل ہونے کے بعد استثنیٰ دلوانے کا کیا فائدہ ہے تو ذرائع نے بتایا کہ فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشین کا اندرونی آڈٹ تو ہوتا ہے لیکن اب اس منصوبےکی پبلک تحقیقات نہیں ہوں گی اور نہ ہی نیب سمیت کوئی ادارہ اس پر سوال اُٹھا سکے گا۔ یاد رہے کہ پیپرا رولز کے تحت کوئی بھی حکومتی منصوبہ شروع ہونے سے پہلے ٹینڈر کے مرحلے سے گزرتا ہے جس کے بعد تعمیراتی کمپنیوں کی جانب سے بولی لگائی جاتی ہے۔ کامیاب بولی لگانے والی کمپنی کو پیپرا رولز اور سینٹرل پلاننگ کمیشن فار ورکنگ پروجیکٹ کی جانب سے اجازت نامہ مل جاتا ہے، جس کے بعد لاگت طے ہوتی ہے اور رقم جاری کی جاتی ہے۔ منصوبے کی شفافیت کے لیے اس رقم کا آڈٹ بھی پروجیکٹ مکمل ہونے پر جمع کرایا جاتا ہے۔
تاہم کرتارپور منصوبہ مکمل ہونے کے بعد گذشتہ برس جنوری میں یہ معاملہ سامنے آیا تھا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کرتار پور راہداری منصوبے کا ریکارڈ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو فراہم نہ کرنے پر فوج کے ذیلی تعمیراتی ادارے ایف ڈبلیو او، جسے منصوبے کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا گیا تھا، سے وضاحت طلب کی تھی۔آڈیٹر جنرل پاکستان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو بتایا تھا کہ ’ایف ڈبلیو او کے مطابق منصوبہ اب تک قومی اقتصادی کمیٹی سے منظور نہیں ہوا اس لیے ہم اس منصوبے سے متعلق کرتارپور کی تفصیلات فراہم نہیں کرسکتے۔‘
ذرائع کے مطابق کرتارپور راہداری منصوبے کو وزیر اعظم کی سربراہی میں قومی اقتصادی کونسل نے بغیر ٹینڈر کے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے ایف ڈبلیو او کو سونپا تھا۔
