کپتان کی حمایت کے باوجود نیب عثمان بزدار کے پیچھے ہے

وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب کی کھلی حمایت کے باوجود قومی احتساب بیورو نے عثمان بزدار کے خلاف کرپشن کا ایک اور کیس کھول دیا ہے اور تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
نیب نے عثمان بزدار کیخلاف 5 کروڑ روپے رشوت کے عوض لاہور کے ایک ہوٹل کو شراب کی فروخت کا لائسنس جاری کرنے کے الزام کے بعد اب اپنے پیاروں کو فوجی شہدا کے لیے مختص 4 ارب روپے مالیت زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کرنے کے الزام کی انکوائری شروع کر دی ہے۔ نیب نے زمین کی الاٹ کرنے کے حوالے سے تمام ریکارڈ چیف سیکرٹری پنجاب سے طلب کرلیا ہے اور فوجی اراضی کی سویلین حکام کو الاٹمنٹ کی ‘غیر قانونی’ توثیق کی تفتیش شروع کردی ہے۔ اس حوالے سے نیب نے حکومت پنجاب کے اعلی حکام سے بھی تحریری موقف مانگ لیا ہے۔ نیب کے جاری کردہ نوٹس میں چیف سیکریٹری پنجاب کوفوجی زمین سویلین حکام کو دینے کی توثیق کے نوٹیفکیشن پر وضاحت کرنےاورجلد مجاز حکام کی پیروی کے لیے متعلقہ قواعد و ضوابط کے ساتھ جواب جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ نیب نے زمین آلاٹ کرنے کے حوالے سے تمام تر ریکارڈ فراہم کرنے کے علاوہ چیف سیکرٹری کو زمین کی الاٹمنٹ کرنے کے طریقہ کار پر مشتمل مفصل رپورٹ فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
نیب ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت نے جنوبی پنجاب میں موجود تقریبا 4 ارب مالیت کی سینکڑوں ایکڑ اراضی سرکاری آفسران کو الاٹ کرنے کی منظوری دی۔ یہ بھی الزام ہے کہ کابینہ اراکین کی مخالفت کے باوجود وزیر اعلی پنجاب نے بیوروکریٹس کو زمین الاٹ کرنے کی منظوری دی۔ نیب کی طرف سے شروع کی جانے والی تحقیقات میں بزدار انتظامیہ پر آرمی ویلفیئر اسکیم کے تحت جنگ میں حصہ لینے والے اور شہید فوجیوں کے اہل خانہ کو دی جانی والی 25 ایکڑ سرکاری زمین 47 حکومتی عہدیداران کو الاٹ کرنے کی توثیق کا الزام ہے۔ قبل ازیں مبینہ طور پر سابق آمر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے احکامات پر میرٹ اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بغیر کسی قانونی اجازت کے یہ الاٹمنٹس کی گئی تھی۔ آرمی ویلفیئر اسکیم کی 837 ایکڑ زمین صوبائی حکومت نے وزیر اعلی کی منظوری سے بہاولپور، پاک پتن، بہاولنگر اور رحیم یار خان اضلاع میں الاٹ کیں۔ اس سے پہلے مشرف دور میں بھی ان زمینوں کو غیر قانونی طور پر الاٹ کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے یہ الاٹمنٹس منسوخ کردیں۔ تاہم بزدار حکومت نے مئی 2019 میں اس الاٹمنٹ کو بحال کیا اور اس کی توثیق کردی۔ اس زمین کی الاٹمنٹ سے فائدہ اٹھانے والے نمایاں اشخاص میں ڈی ایم جی افسران، احمد نواز سکھیرا، ڈاکٹر فیصل ظہور، سید امتیاز حسین شاہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پنجاب سول سروس کے سابق افسران جو اس فیصلے سے مستفید ہوئے ان میں محمد زاہد اکرام، سکندر علی بخاری، سید نجب عباس بخاری، ملک محمد رمضان، محمد اشرف یوسفی، عبدالغفور ورک، دور محمد خان اور ارشاد محی الدین شامل ہیں، زیادہ تر افسران کا تعلق محکمہ ریونیو سے ہے۔ اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے والوں میں دیگر اعلیٰ افسران کے علاوہ وزیراعلیٰ پنجاب کے پرسنل اسٹاف افسر عامر کریم بھی شامل ہیں۔
