50 سینئر پولیس افسران کی CCPO لاہور کے خلاف بغاوت


پنجاب پولیس کے 50 سے زائد سینئیر افسران نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے داغدار کردار کے حامل عمر شیخ کو سی سی پی او لاہور لگانے کے فیصلے کے خلاف بغاوت کرتے ہوئے ان کے تبادلے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ پولیس کے 50 افسران نے مشترکہ طور پر دستخط شدہ ایک اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عمر شیخ کے خلاف سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دینے پر تادیبی کارروائی کی جائے اور انہیں سی سی پی او لاہور کے عہدے سے فوری ہٹایا جائے۔ یہ پنجاب کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ پچاس سے زائد سینئر پولیس افسران نے اپنے سی سی پی او کے خلاف بغاوت کر دی ہو۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ سی سی پی او عمر شیخ کے خلاف کارروائی کے خواہاں افراد میں لاہور میں تعینات سپرنٹنڈنٹ آف پولیس رینک کے سنیئر پولیس افسران بھی شامل ہیں۔ یہ تمام افسران 9 ستمبر کو سنٹرل پولیس آفس لاہور میں جمع ہوئے اور سبکدوش کیے جانے والے آئی جی پولیس شعیب دستگیر کے خلاف سی سی پی او کے نازیبا ریمارکس پر احتجاج کیا۔ سی پی او میں جمع ہونے والے اس غیر معمولی اجتماع میں ایس ایس پیز اور ایس پیز کے علاوہ ایڈیشنل انسپکٹر جنرل کے عہدے کے گریڈ 21 کے اعلیٰ پولیس افسران اور ڈپٹی انسپکٹر جنرل بھی شامل تھے۔ سینئر پولیس افسران نے ناقابل قبول رویہ اختیار کرنے پر نئے سی سی پی او کے خلاف ناراضگی اور غم کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ پولیس افسران کی پوسٹنگ اور تبادلوں کے حوالے سے میرٹ اور کارکردگی کی بنیاد پر فیصلے ہونے چاہیے نہ کہ ذاتی خواہشات اور پسند ناپسند کی بنیاد پر۔
ذرائع نے بتایا کہ عمر شیخ کے خلاف بغاوت پر مبنی اعلامیہ وہاں موجود تمام پولیس افسران کی رضامندی سے تیار کیا گیا اور سی سی پی او کے خلاف کارروائی کے لئے نئے آئی جی کے ریکارڈ پر اپنااحتجاج’ لانے کے لیے اس پر دستخط کیے گئے۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ ‘پنجاب پولیس کے افسران 8 ستمبر کو براہ راست اور آن لائن سی پی او میں اکٹھے ہوئے اور افسران نے سی سی پی او عمر شیخ کی جانب سے بدانتظامی پر مبنی رویے اور محکمہ پولیس میں کمانڈ ڈھانچے اور نظم و ضبط پر پڑنے والے سنگین اور منفی مضمرات پر تبادلہ خیال کیا۔ اعلامیہ کے مطابق سی سی پی او کے عہدے پر فائز ہونے کے بعد عمر شیخ نے 3 ستمبر کو لاہور پولیس کے افسران کا اجلاس بلایا جس میں عمر شیخ نے اپنے آئی جی پی کی مذمت کرنے کے ارادے کا اظہار کیا اور لاہور پولیس کے متعدد پولیس افسران کی موجودگی میں اپنے اور دیگر افسران کے خلاف توہین آمیز اور گستاخانہ زبان استعمال کی’۔ افسران کے مطابق مذکورہ اجلاس میں عمر شیخ نے سراسر ‘بیہودہ’ رویہ اختیار کیا اور کہا کہ آئی جی پی نے انہیں ‘سی’ گریڈ دیا تھا اور انہیں ایک بدعنوان پولیس افسر قرار دیا تھا لہذا اب حساب برابر کرنے کا وقت آگیا ہے۔
پولیس افسران کے اعلامیے کے مطابق ‘عمر شیخ نے دعویٰ کیا کہ اب وہ آئی جی پنجاب کی مخالفت کے باوجود ‘ڈنڈے کی طاقت’ کے ذریعے سی سی پی او لاہور تعینات ہو چکے ہیں جس کے بعد اب آئی جی کے حکم پر تب تک عمل درآمد نہیں ہوگا جب تک کہ سی سی پی او ہدایت نہ کریں۔اعلامیے کے مطابق ‘عمر شیخ نے دوسرے سینئر افسران کے دفاتر کے بھی قابل اعتراض اور توہین آمیز انداز میں بات کی کیونکہ ان کی رائے میں شعیب دستگیر نے ان کی ترقی میں رکاوٹ ڈالی تھی’۔ 50 سے زائد پولیس افسران کے مشترکہ بیان میں کہا کہ عمر شیخ پر آئی جی پی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے اپنے ارادے کو ظاہر کیا، بے ضابطگی کا ارتکاب کیا، افسران کو آئی جی پی کے احکامات کی خلاف ورزی کرنے کے لیے اکسانے سے اجاگر کیا۔ عمر شیخ پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ مسلح افواج کے افسران کی اہلیت اور طرز عمل کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس دے کر حکومتی قواعد اور پولیس ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلح افواج کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔ اعلامیے میں متنبہ کیا گیا کہ اگر سی سی پی او کے خلاف تادیبی کارروائی نہ کی گئی تو ‘محکمہ پولیس کے نظم و ضبط کو مشکلات کا سامنا ہوگا، پولیس کے کمانڈ کا ڈھانچہ خراب ہوجائے گا اور جونیئر افسران سینئر افسران کے احکامات پر عمل درآمد نہیں کریں گے’۔ چنانچہ سینئر پولیس افسران نے مطالبہ کیا کہ لاہور کے سی سی پی او عمر شیخ کو فوری طور پر ان کے موجودہ عہدے سے ہٹایا جائے قواعد کے تحت ان کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی جائے۔
واضح رہے کہ 9 ستمبر کو 5ویں مرتبہ تحریک انصاف کے دور حکومت میں انسپکٹر جنرل پنجاب پولیس کو تبدیل کردیا گیا تھا اور شعیب دستگیر کی جگہ انعام غنی کو اس عہدے کی ذمہ داریاں سونپ دی گئیں۔ شعیب دستگیر کی آئی جی کے عہدے سے تبدیلی حال ہی میں تعینات ہونے والے سی سی پی او لاہور عمر شیخ سے اختلافات کے بعد سامنے آئی۔ آئی جی شعیب دستگیر کو صرف اسلیے تبدیل کر دیا گیا کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے اپنے عہدے کا چارج لینے کے بعد آئی جی کے خلاف گفتگو کی اور اپنے ماتحت افسران کو ان کے احکامات ماننے سے منع کیا۔ شعیب دستگیر نے حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ اس حرکت پر عمر شیخ کے خلاف تادیبی کارروائی کی جائے۔ تاہم وزیراعظم عمران خان نے اپنا ووٹ عمر شیخ کے پلے میں ڈالتے ہوئے شعیب دستگیر کو فارغ کر دیا۔ بعد ازاں شعیب دستگیر پر یہ الزام لگایا گیا کہ وہ نون لیگ کے لیے ہمدردیاں رکھتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سی سی پی او لاہور عمر شیخ نے جیو ٹی وی پر شاہزیب خانزادہ کے پروگرام میں تسلیم کیا ہے کہ ان کو تیسرے درجے کا افسر ہونے کی وجہ سے اگلے گریڈ میں پرموشن نہیں ملی تھی انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ چارج لینے کے بعد انہوں نے اپنے ماتحت عملے کو آئی جی پنجاب کا حکم ماننے سے منع کیا تھا۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سینٹرل سلیکشن بورڈ کے روبرو عمر شیخ کی رپورٹ پیش کرنے والے ادارے انٹیلی جنس بیورو نے وزیر اعظم کو عمر شیخ کی ساکھ کے متعلق انتہائی منفی ریمارکس دیے تھے۔ عمران خان نے عمر شیخ کو پروموشن اس لیے بھی نہیں دی تھی کی سینٹرل سلیکشن بورڈ نے انہیں ایک ’’داغدار‘‘ کیریئر والا افسر قرار دیا تھا۔ دلچسپ بات ہے کہ وزیر اعظم نے آئی جی پنجاب کو تبدیل کر دیا اور اپنا وزن ایک ایسے افسر کی حمایت میں ڈال دیا جسے انہوں نے چند ماہ قبل ہی سلیکشن بورڈ کی سفارش کو مد نظر رکھتے ہوئے ترقی کا اہل نہیں سمجھا تھا۔ سینٹرل سلیکشن بورڈ کی سفارش کا کہنا تھا کہ ایسی داغدار شہرت کا حامل افسر نہ صرف اہم عہدے حاصل کرنے کیلئے سرکاری عمل میں ہیرا پھیری کرتا ہے بلکہ ایولیوشن سسٹم میں بھی بچ نکلتا ہے۔
چنانچہ 15 جون 2020ء کو اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے باضابطہ طور پر عمر شیخ کو بتایا کہ سی ایس بی کی سفارش پر وزیراعظم نے ان کے پروموشن کا کیس منسوخ کر دیا اور اسلئے آپکو 21 گریڈ میں ترقی نہیں دی جا رہی۔ تاہم اپنے سابقہ فیصلے پر ایک بڑا یوٹرن لیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے اسی شخص کو سی سی پی او لاہور لگا دیا ہے جس کو ماضی میں انہوں نے داغدار کیریئر کا حامل ہونے کی وجہ سے پرموشن نہیں دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button