کپتان بزدار کو نہ ہٹانے پر کیوں بضد ہیں؟

کپتان کی جانب سے مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کو سیاسی آکسیجن فراہم کرنے والی مسلم لیگ قاف کے ساتھ معاملات طے نہ کرنے کی وجہ ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا یہ روحانی مشورہ ہے کہ جب تک عثمان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں تب تک وہ وزیراعظم پاکستان ہیں اور یہ کہ اگر پنجاب میں اقتدار کا ھما کسی اور کے سر بٹھا دیا گیا تو اسی روز انکی مرکزی حکومت کے خاتمے کا آغاز ہو جائے گا۔
باخبر ذرائع کے مطابق ملکی سیاست میں پیر اور پیرنیوں کا عمل دخل اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اکیسویں صدی میں بھی عمران خان جیسا فارن کوالیفائیڈ شخص جو کہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہے، اپنے بڑے حکومتی اور سیاسی فیصلے عقل اور فہم کی بجائے اعتقاد کی بنیاد پر کر رہا ہے جو کہ اندھا ہوتا یے۔ قاف لیگ کے ساتھ تعلقات اور انکے مطالبات کے معاملے میں بھی سیاسی بصیرت اور معاملہ فہمی کی بجائے کپتان بشری بی بی کے مشورے پر چکتے ہوئے اعتقاد اور روحانیت کی بنیاد پر فیصلے کر رہے ہیں۔ دوسری طرف قاف لیگ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پیری فقیری پر تو چودھری برادران بھی یقین رکھتے ہیں لیکن انکے پیر صاحب ہمیشہ عقل و فہم پر مبنی مشورہ دیتے ہیں اور مشورہ وہی اچھا ہوتا ہے جس میں کسی انسان کی بھلائی ہو۔
چوہدری برادران کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اب اگر خان صاحب کو کسی روحانی شخصیت نے یہ مشورہ دے دیا ہے کہ سامنے والی کھائی میں کودنے سے فائدہ ہوگا تو خان صاحب کو اس میں چھلانگ لگانے سے کون روک سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی جانب سے مرکز اور پنجاب میں اہم ترین اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کے مطالبات اور وعدوں پر سرد مہری کی بڑی وجہ یہ ہے کہ کپتان عقلیت اور عملیت پسندی کی بجائے روحانی اعتقاد اور عملیات کی بنیاد پر ملک کے سیاسی اور انتظامی امور چلانے پر بضد ہیں اور اسی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ بھی کپتان کے ساتھ اپنے مستقبل کے حوالے سے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے۔
کپتان کا مسئلہ یہ ہے کہ بشریٰ بی بی نے ان کے ذہن میں یہ بات بٹھا رکھی ہے کہ جب تک عثمان بزدار پنجاب کی وزارت اعلیٰ پر برقرار ہے تب تک ہی عمران خان ملک کے وزیراعظم رہیں گے یعنی اگر عثمان بزدار کو گھر بھجوایا گیا کپتان کو بھی کرسی سے ہاتھ دھونا پڑے گا۔ عمران خان کو بشری بی بی کی جانب سے روحانی حساب کتاب لگا کر یہ یقین بھی دلوا دیا گیا ہے کہ نون اور مسلم لیگ قاف پنجاب میں کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے لہذا چوہدری برادران کی جانب سے اتحاد کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کوئی معنی نہیں رکھتا۔
عمران خان یہ بھی سمجھتے ہیں کہ چوہدری برادران صرف خود وزارت اعلی سنبھالنے کے لیے ان کے منتخب کردہ عثمان بزدار کو وزیراعلی پنجاب کی کرسی سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز قاف لیگ کی جانب سے کپتان کو چارج شیٹ کرنے کے باوجود وہ چوہدری برادران سے ملاقات سے انکاری ہیں۔
بشری بی بی ہی کے مشورے ہر کپتان نے ماضی میں قاف لیگ کے ساتھ معاملات طے کرنے والے جہانگیر ترین کو بھی مذاکراتی کمیٹی سے فارغ کر کے گورنر چوہدری محمد سرور کی سربراہی میں وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار اور وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود پر مشتمل تین رکنی نئی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ لیکن قاف لیگ نے نئی کمیٹی کے ساتھ معاملات طے کرنے سے صاف انکار کردیا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ روحانیت پر اندھا دھند یقین رکھنے والے عمران خان نے زمینی حقائق کو یکسر نظر انداز کر کے اپنی اہلیہ کی جانب سے کی گئی پیش گوئی پر من وعن یقین کرتے ہوئے قاف لیگ کے ساتھ معاملات کو لٹکانا شروع کردیا ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ قاف لیگ والے سازشی عناصر ہیں اس لیے وہ ان سے بلیک میل نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب قاف لیگ کی قیادت نے چوہدری سرور اور عثمان بزدار پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان کے ساتھ مذاکرات نہ کرنے کا واضح پیغام بھجوایا ہے۔ حالیہ دنوں مسلم لیگ قاف کے ہنگامی اجلاس میں یہ فیصلہ ہو چکا ہے کہ جب تک تحریک انصاف ماضی میں طے پانے والے تحریری معاہدے پر سو فیصد عمل درآمد نہیں کرتی تب تک ان کے ساتھ کوئی بات نہیں ہوگی اور نہ ہی جہانگیر ترین کے بغیر مذاکرات ہوسکتے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ ایک طرف وزیراعظم عمران خان اپنی اہلیہ بشری بی بی المعروف پنکی پیرنی کے پڑھائے ہوئے سبق کے مطابق سیاسی معاملات طے کرنا چاہتے ہیں تو دوسری جانب چوہدری برادران بھی اپنے روحانی مرشد کی رہنمائی کے مطابق پنجاب کے اقتدار پر قبضے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ چودھریوں کے مرشد نے تو انہیں دو سال پہلے ہی یہ خوشخبری سنا دی تھی کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ ان کی جھولی میں گرنے والی ہے اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اب اس پشینگوئی کے سچا ثابت ہونے کا وقت قریب ہے۔ لہذا چودھری برادران اب کھل کر کپتان سے اظہارناراضی کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پنجاب کی وزارت اعلی کے لیے عثمان بزدار کا نام کپتان کو پنکی پیرنی نے دیا تھا۔ بزدار دراصل بشریٰ بی بی کی بہترین دوست فرح خان کے خاوند احسن جمیل گجر کے سب سے اچھے دوست ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ملک کی سیاسی قسمت کے فیصلے پنکی پیرنی، احسن جمیل گجر اور فرح خان کی خواہش کے عین مطابق ہو رہے ہیں لیکن عقل کی بجائے عقیدے کی بنیاد پر لیے گئے فیصلے کپتان کے لیے تباہ کن نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں۔ چند ووٹوں کی اکثریت پر قائم مرکزی اور پنجاب حکومت کو گرانے کے لیے قاف لیگ کی ناراضی غیر معمولی اور گیم چینجر ثابت ہوگی لیکن کپتان کو لگتا ہے کہ عثمان بزدار وہ طوطا ہے جس میں ان کی جان ہے یعنی جب تک عثمان بزدار ہے تب تک عمران خان ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button