کیا کپتان اپنی حکومت بچانے کے لئے PPP سے ہاتھ ملائیں گے؟

پنجاب میں کلیدی اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کی بلیک میلنگ سے تنگ کپتان نے اب چوہدریوں سے چھٹکارے کے لیے پیپلزپارٹی سے مدد مانگنے پر غور شروع کر دیا ہے۔
کپتان کے قریبی ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے بزدار حکومت کی ڈوبتی کشتی کو بھنور سے نکالنے کے لیے پیپلز پارٹی کے سات ایم پی ایز اور چار آزاد اراکین کی مدد سے سپیکر چوہدری پرویز الہی کو ہٹا کر قاف لیگ سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑانے کے منصوبے پر کام شروع کردیا ہے۔ باخبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ مرکز اور پنجاب میں تحریک انصاف کی اتحادی جماعت مسلم لیگ قاف کی جانب سے آئے روز وزیراعظم کو چارج شیٹ کرنے، تحفظات کا اظہار کرنے، براہ راست فنڈز مانگنے اور وزارتوں کے معاملے پر بلیک میل کرنے سے تنگ آ کر ایک اور بڑا یوٹرن لیتے ہوئے پیپلزپارٹی کے قائد آصف علی زرداری کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عمران خان مرکز اور پنجاب میں قاف لیگ سے جان چھڑانے کے لئے پیپلزپارٹی کو شراکت اقتدار کی دعوت دے سکتے ہیں۔ تاہم آصف علی زرداری کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اگر کوئی آفر ہوئی تو اس پر بہت سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔
کپتان کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب میں قاف لیگ سے جان چھڑانے کے لیے نون لیگ کے ناراض اراکین کی مدد مانگنے سے بہتر ہے کہ پیپلز پارٹی کی مدد کی جائے۔ اگر پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے سات اراکین اور چار آزاد ارکان تحریک انصاف کا ساتھ دیں تو مسلم لیگ قاف سے ہمیشہ کے لئے جان چھڑائی جاسکتی ہے۔ اس حوالے سے وزیراعلی عثمان بزدار اور گورنر پنجاب کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ پنجاب اسمبلی میں جوڑ توڑ پر غور شروع کریں۔ اندر کی خبر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ کپتان کی جانب سے پیپلز پارٹی کو اس حمایت کے بدلے تمام جائز مراعات دی جا سکتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب میں مسلم لیگ قاف کو فارغ کروا کر پیپلزپارٹی کے سید حسن مرتضی کو اسپیکر پنجاب اسمبلی بنانے کے علاوہ دو وزارتیں بھی دی جا سکتی ہیں۔
پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف علی زرداری مفاہمت کے بادشاہ مانے جاتے ہیں۔ چونکہ اس وقت تحریک انصاف حکومت کی جانب سے سندھ میں بھی پیپلزپارٹی کو بھرپور ٹف ٹائم دیا جا رہا ہے چنانچہ اگر آصف زرداری اختلافات کو بھلا کر کپتان کے ساتھ چلتے ہیں تو اس سے نہ صرف پیپلز پارٹی پنجاب میں مضبوط ہوگی بلکہ سندھ میں بھی تحریک انصاف کی جانب سے پیپلز پارٹی کی مخالفت کم ہوجائےگی۔
کچھ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مسلم لیگ قاف کے دس ووٹوں کے مقابلے میں چار آزاد امیدوار اور پیپلزپارٹی کے سات ارکان مل کر نیا اسپیکر لانے کے ساتھ ساتھ عثمان بزدار حکومت کی ڈوبتی کشتی کو بھی بھنور سے نکال سکتے ہیں مگر ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال میں ایسا ہونے کے امکانات خاصی محدود ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ کی گڈ بک سے نکل چکی ہے اور مسلم لیگ قاف اسٹیبلشمنٹ کی پروردہ جماعت ہے اس لیے مقتدر حلقے نہیں چاہیں گے کہ قاف لیگ کا سیاسی کردار ختم ہو جائے۔ ممکنہ طور پر اگر پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں قربتیں بڑھ گئی تو اسٹیبلشمنٹ وسیع تر قومی مفاد کے نام سے قاف لیگ کو دوبارہ سے کپتان کے قریب کردے۔ دوسری طرف پی پی پی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر کپتان کی طرف سے ان کی قیادت کو کوئی ایسی آفر کی گئی تو اس کی قبولیت کے امکانات بہت کم ہے۔
