کپتان کی IMF سے ڈیل کے بعد ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان

اقتدار میں آ کر آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی بجائے خودکشی کو ترجیح دینے کا اعلان کرنے والے وزیراعظم عمران خان کی حکومت کی جانب سے عالمی مالیاتی ادارے کی کڑی شرائط والے لمبے قرضے لینے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور بےروزگاری کا ایک نیا طوفان آ چکا ہے جس میں قرضے کی ایک اور قسط کے بعد اور بھی شدت آنے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پچھلے تین برسوں میں بجلی، پانی، گیس اور پٹرول سمیت مختلف روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں کئی گنا اضافے کرنے والی کپتان حکومت اب عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالرز کے پروگرام کی اگلی قسط وصول کرنے جا رہی ہے جس کے فورا بعد ملک میں مہنگائی کا ایک نیا تاریخی طوفان آنے والا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے آئی ایم ایف کے بیشتر اہداف رواں ماہ مکمل کرنے کی تیاری کر لی ہے جس کے بعد امکان ہے کہ 24 مارچ کو اس پروگرام کے تحت 50 کروڑ ڈالر کی قسط موصول ہو جائے گی۔ آئی ایم ایف کے ایگزیگٹو بورڈ کا اجلاس رواں ماہ کے آخر میں ہونے کا امکان ہے جس میں اس پروگرام کے تحت 50 کروڈ ڈالر کی اگلی قسط جاری ہونے کا امکان ہے جس کے بعد پاکستان کو پروگرام کے تحت ملنے والے دو ارب ڈالرز مکمل وصول ہو جائیں گے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی مختلف شرائط پوری کرنے کی وجہ سے ملک میں آئندہ چند ماہ میں مہنگائی میں بے پناہ اضافہ ہو گا کیونکہ آئی ایم ایف کی طرف سے آئندہ قسط کے لیے سخت شرائط پیش کی گئی تھیں جن میں سرِ فہرست بجلی کی قیمتوں میں اضافہ، حکومتی ملکیتی اداروں کے خسارہ میں کمی، اسٹیٹ بینک کی خود مختاری، نیپرا اور اوگرا میں اصلاحات اور ٹیکس وصولی کے نظام کو بہتر بنانا شامل ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کی جو بڑی شرائط تھیں وہ حکومت نے تقریباً پوری کر لی ہیں اور تمام بوجھ عوام پر ڈال دیا یے جس کے نتائج مزید مہنگائی کی صورت میں سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ آئی ایم ایف کی جانب سے اسٹیٹ بینک کی خود مختاری کا مطالبہ کیا گیا تھا جسکی منظوری کابینہ نے دے دی ہے اور جلد ایک بل اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا۔ اس وقت حکومت کے لیے بڑا چیلنج نیپرا سے متعلق قانون سازی ہے۔ اس میں نئی ترامیم قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی کے پاس موجود ہیں جہاں حکومت کو مزاحمت کا سامنا ہے۔ ان ترامیم کے تحت حکومت بجلی صارفین پر کسی بھی قسم کا سرچارج لگا سکتی ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ حکومت کسی بھی مد میں کسی بھی وقت اضافہ کر سکتی ہے اور اخراجات پورے کرنے کے لیے یا بجلی چوری سمیت دیگر نقصانات کو عام صارفین پر منتقل کیا جا سکے گا۔ ایک اور ترمیم کے مطابق نیپرا کی طرف سے جاری کردہ مختلف ٹیرفز کو حکومت اپنی مرضی کے مطابق نوٹیفائی کرتی ہے۔ لیکن نئی ترمیم کے مطابق ایک ماہ تک نوٹیفائی نہ ہونے کی صورت میں نیپرا کا جاری کردہ ٹیرف نافذ العمل ہو جائے گا۔
آئی ایم ایف کو رام کرنے کے لیے ان عوام دشمن بیہودہ ترامیم پر حکومت کو اب تک اپوزیشن کی طرف سے مزاحمت کا سامنا ہے لیکن یہ قانون سازی آئی ایم ایف کی شرائط میں شامل ہے۔
معاشی تجزیہ کار قیصر بنگالی کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت آئی ایم ایف کی شرائط کو ہر طرح سے تسلیم کر رہی ہے اور عوام کی فلاح کے بارے میں اسکی سوچ بہت پیچھے ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حالیہ اقدامات سے عوام پر یقینی طور پر مہنگائی کا دباؤ کئی گنا بڑھے گا۔ قیصر بنگالی نے کہا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کبھی بھی مستقل نہیں ہوتی۔ آپ ان کی بتائی ہوئی 10 میں سے آٹھ شرائط پوری بھی کر دیں تو کچھ عرصے کے بعد مزید شرائط بھیج دی جاتی ہیں۔ موجودہ حالات میں بہتری سے متعلق سوال پر قیصر بنگالی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اگر اس صورتِ حال سے نکلنا ہے تو حکومت کو غیر ترقیاتی اخراجات اور غیر ضروری درآمدات کو کم کرنا ہوگا۔ یہ بالکل گھر کے اصول کی طرح ہے۔ کہ اگر آپ کی آمدن کم ہو جائے تو آپ اپنے اخراجات کم کر دیں، یہی اصول کاروبار اور حکومت کے لیے بھی ہے۔ پاکستان کی آمدن ہو نہیں رہی اور حکومت قرض لے لے کر اپنے اخراجات پورے کر رہی ہے جس کا آخر میں بوجھ عام آدمی پر مہنگائی کے بوجھ کی صورت میں ہی پڑنا ہے۔
دوسری جانب ماہرین معاشیات کے مطابق اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس 13 ارب ڈالر کے قریب ذخائر موجود ہیں۔ اگر 50 کروڑ ڈالر آئی ایم ایف سے اور آ جاتے ہیں تو اس میں کچھ خاص فرق نہیں پڑتا۔ لیکن ان کے بقول اس سے ایک فائدہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے بارے میں عالمی سطح پر سب کو پتا ہوتا ہے کہ پاکستان کون سی پالیسیاں فالو کر رہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ آئی ایم ایف پروگرام مل جانے کے بعد ‘پاکستان یورو بانڈ’ یا اسی قسم کے بانڈز جاری کرتا ہے تو ان پر ریٹ اچھا مل سکتا ہے۔ ان کے بقول اس سے پاکستان کی ساکھ بہتر ہوگی جس کا حکومت کو فائدہ ہوگا۔ان کے بقول اس وقت ایک اہم معاملہ ایکسچینج ریٹ کا ہے۔ ابھی ڈالر 157 اور 158 پر چل رہا ہے، دیکھنا یہ ہے کہ آئی ایم ایف کا پروگرام آتا ہے تو پھر ڈالر کا ریٹ کیا رہتا ہے۔ اسے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کی شرح میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ادارہ شماریات کے مطابق ملک میں اس وقت مہنگائی کی شرح 14.95 فی صد تک پہنچ چکی ہے۔اس صورتِ حال کے باعث اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بے انتہا اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور حکومت کے لیے آئندہ ماہ نیا چیلنج رمضان کا ہوگا جس میں اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button