پاکستان میں بھنگ کے پودے سے جینز تیار ہونے لگیں

جی ہاں، یہ سچ یے کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین نے ایسی جینز کی پینٹ تیار کی ہے جو بھنگ کے پودے سے تیار ہونے والے سوتر سے بنائی گئی یے۔ یاد رہے کہ عالمی منڈی میں بھنگ کی سوتر سے بننے والی جینز کی مانگ بہت زیادہ ہے اور پاکستان اس کی فروخت سے اربوں ڈالرز سالانہ زر مبادلہ کما سکتا ہے۔ بھنگ کی ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ کپاس کے مقابلے میں اس کا سوتر زیادہ سخت اور پائیدار ہوتا ہے جس سے بہترین ڈینم کپڑا تیار کیا جا سکتا ہے۔
زرعی یونیورسٹی کے شعبہ فیبرک اینڈ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی کے ماہرین نے پاکستان میں قدرتی طور پر اگنے والی جنگلی بھنگ کو استعمال کرتے ہوئے لیبارٹری کے اندر بھنگ اور کپاس کو ملا کر ایک خاص دھاگہ یا سوتر تیار کیا۔ اس سوتر سے جینز تیار کرنے تک کا تمام عمل بھی تجربہ گاہ میں مکمل کیا گیا جو کامیاب رہا۔ لیکن یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے۔ دنیا بھر میں پہلے ہی سے بھنگ سے بنی جینز تیار ہو رہی ہے اور پہنی جا رہی ہے۔
پاکستان ہی میں متعدد ٹیکسٹائل ملز اس قسم کی جینز کارخانوں میں تیار کرنے کے بعد برآمد بھی کر رہی تھیں۔ تاہم ان پتلونوں میں استعمال ہونے والا بھنگ کا سوتر باہر سے درآمد کیا جاتا تھا۔ کیوں کہ یہ سوتر مہنگا ہوتا ہے، اس لیے بھنگ ملی جینز کی تیاری محدود پیمانے پر کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فیصل آباد زرعی یونیورسٹی کے ماہرین کی حالیہ کاوش کو پاکستان کی معیشت اور خصوصاً کپڑے کی صنعت کے مستقبل کےلیے ایک اچھی خبر تصور کیا جا رہا ہے۔ اب بھنگ کے پودے سے سوتر پاکستان میں ہی تیار کیا جاسکے گا اور اسے درآمد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ فیبرک اینڈ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی کے چیئرمین ڈاکٹر اسد فاروق نے بتایا کہ بھنگ اربوں ڈالر کی صنعت ہے۔ عالمی منڈی میں بھنگ کی جینز کی مانگ بہت زیادہ ہے اور مسلسل بڑھ رہی ہے۔ پاکستان اس کی فروخت سے اربوں ڈالر زرِ مبادلہ کما سکتا ہے۔ تاہم اس کےلیے ضروری یہ تھا کہ ایسی جینز کی تیاری میں استعمال ہونے والا بھنگ کا دھاگہ مقامی طور پر بنایا جائے۔ اس طرح بھنگ کے دھاگے کی فراہمی یعنی سپلائی کا ایک حجم بنایا جا سکے گا جس سے اس کی قیمت میں کمی آ جائے گی۔
اس سستے دھاگے کو استعمال کرکے پاکستان میں جینز بنانے والی ملز سستے طریقے سے پتلونیں تیار کرکے عالمی منڈی میں مہنگی فروخت کر سکتی ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں خصوصاً اس قسم کی جینز کی مانگ میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مکمل طور پر کپاس سے تیار کی گئی جینز کے مقابلے میں بھنگ ملی جینز کی قیمت کہیں زیادہ ہے۔ ڈاکٹر اسد فاروق بتایا کہ بھنگ کی بنی جینز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ایک پائیدار جینز ہے کیوں کہ کپاس کے مقابلے میں بھنگ از خود ایک پائیدار فصل تصور کی جا رہی ہے۔ اسی لیے بھنگ سے بنی جینز کی تیاری کا طریقہ کار بھی زیادہ پائیدار ہے۔ دنیا بھر میں یہ تصور وجود پا چکا ہے کہ کپڑے کی صنعت آلودہ اور آلودگی پیدا کرنے والی صنعت ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کپاس کی فصل کےلیے بڑی مقدار میں پانی اور کیمیائی کھادوں کی ضرورت پڑتی ہے۔ کیڑا کش ادویات اس کے علاوہ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تیزی سے رونما ہوتی ماحولیاتی تبدیلیوں اور ان سے بچنے کےلیے کیے جانے والے اقدامات کے نتیجے آنے والے دنوں میں کپاس زیادہ مقدار میں میسر نہیں ہوگی۔ یعنی وہ کپڑے کی ضروریات کو پورا کرنے کےلیے ناکافی ہوگی۔ اس لیے وہ پائیدار نہیں رہی۔ اس کے مقابلے میں بھنگ کے پودے کو نہ تو پانی کی ضرورت ہوتی ہے، نہ ہی کھاد اور کیڑا کش ادویات کی۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں بھنگ سے تیار کیے جانے والی جینز کی مانگ مسلسل بڑھ رہی ہے۔
مایرین کا کہنا ہے بھنگ نہ صرف ایک پائیدار پودا ہے بلکہ اس کے اندر جراثیم کش خصوصیات بھی پائی جاتی ہیں۔ بھنگ کا دھاگہ اس کی چھال یا تنے کے اندر موجود ہوتا ہے اس لیے اسے حشرات یا کیڑے نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ اور یہ پودہ بارش کے پانی سے قدرتی طور پر اگتا ہے یعنی اسے زیادہ پانی اور کھاد کی ضرورت بھی نہیں پڑتی۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ ایک نیچرل فائبر یا قدرتی دھاگہ ہے۔ کپاس کو جب آپ کسی دوسرے سوتر سے تبدیل کرتے ہیں تو وہ قدرتی ہونا چاہیے۔ بھنگ کے اندر یہ صلاحیت موجود ہے کہ یہ کپاس کا نعم البدل بن سکتا ہے۔
فیبرک ماہرین کہتے ہیں کہ ڈینم کپڑے کو بنانے کا عمل ایسا ہوتا ہے کہ اس کے تانے بانے سے دو رنگ پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے باہر کا حصہ نیلا جب کہ اندر کا حصہ سفید ہوتا ہے۔ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے ماہرین نے بھنگ کے دھاگے کو جینز کے اندر کے حصے کی طرف رکھا ہے تا کہ وہ مسلسل جلد کے ساتھ لگتا رہے اور بھنگ کی جراثیم کش خصوصیات کے ذریعے جلد پر موجود بیکٹیریا ختم ہوتے رہیں۔
زرعی یونیورسٹی کے شعبہ فیبرک اینڈ ٹیکسٹائل ٹیکنالوجی نے جو جینز تیار کی ہے اس میں بھنگ کو کپاس کے ساتھ ملایا گیا ہے جس میں بھنگ کی شرح 25 فیصد ہے۔ کپاس کے مقابلے میں بھنگ زیادہ سخت سوتر ہے۔ اس کو مخصوص طریقہ کار کے ذریعے نرم کیا جاتا ہے۔ اگر نرم نہ کیا جائے تو اس میں ٹویسٹ یعنی لچک نہیں آتی اور ایسا دھاگہ کپڑے کی بنوائی کے دوران خلا چھوڑ جاتا ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ یہی لچک حاصل کرنا اور بھنگ کو کپاس کے ساتھ ملانا ہی ایک برا چیلنج تھا۔ اس کے بعد بھنگ ملا دھاگہ حاصل کرنے سے لے کر جینز تیار کرنے تک کا عمل وہی تھا جو عام طور پر کپاس کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ بھنگ یا کینابیس کو دنیا بھر میں نشہ تصور کیا جاتا ہے جسے بطور ڈرگ کئی طریقوں سے استعمال کیا جاتا ہے۔ تاہم دنیا بھر میں بھنگ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک نشہ آور اور دوسرا وہ جو نشہ آور نہیں ہے۔ بھنگ کی ایک قسم نان ٹاکسک ہوتی ہے جو کسی قسم کا نشہ پیدا نہیں کرتی۔ اس کو صنعتی بھنگ کہا جاتا ہے اور یہی بھنگ جینز بنانے یا دینم کپڑا بنانے میں استعمال ہورہی ہے۔
پاکستان میں قدرتی اگنے والے بھنگ کی جنگلی قسم ٹاکسک ہے یعنی یہ نشہ پیدا کرتی ہے۔ اس لیے اس کی کاشت غیر قانونی ہے۔ تاہم حال ہی میں حکومتِ پاکستان نے صنعتی بھنگ کی خصوصیات سے فائدہ اٹھانے کےلیے ملک کے تین اضلاع میں صنعتی بھنگ کی کاشت کی اجازت دی ہے۔ اس سے قبل صنعتی بھنگ کی عدم دستیابی کی وجہ سے ملوں کو بھنگ کا سوتر زیادہ تر چین سے درآمد کرنا پڑتا تھا۔ بھنگ کا یہ سوتر کپاس کے مقابلے تین گنا زیادہ مہنگا پڑتا تھا۔ اس طرح اس مہنگے سوتر سے تیار ہونے والی جینز کی فروخت سے ملنے والا منافع بھی کم تھا۔ لیکن جب صنعتی بھنگ پاکستان ہی میں اگنا شروع ہو جائے گی تو اس سے بننے والے سوتر کی قیمت کپاس سے کہیں زیادہ کم ہو جائے گی۔ اس کی فراہمی بھی زیادہ ہو گی۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ ملیں اسے استعمال کر سکیں گی اور ان کا منافع بھی کئی گنا بڑھ جائے گا۔اور یہی وجہ ہے کہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں بنائی گئی جینز خصوصی اہمیت کی حامل ہے۔
