کیا آئی ایم ایف کے قرض سے عوام کو بھی حصہ ملے گا؟


عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف اور پاکستانی حکام کے درمیان عملے کی سطح پر معاہدہ طے پا گیا ہے۔ معاہدے کی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو تقریباً 1.1 ارب امریکی ڈالر مل سکیں گے۔تاہم دوسری جانب تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے قسط کا اجرا اطمینان بخش تو ہے۔ لیکن نئے پروگرام پر مذاکرات شروع کرنے سے قبل حکومت کو ایسے اقدامات کرنے ہوں گے جس سے فنڈ کو اندازہ ہو کہ موجودہ اصلاحاتی عمل کو جاری رکھا گیا ہے۔


تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ بنیادی طور پر آئی ایم ایف نے معیشت کو استحکام اور پائیدار بحالی کی طرف منتقل کرنے میں سہولت فراہم کرنے کے لیے پالیسی اور اصلاحات کی کوششوں کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق بھاری بیرونی قرضوں کی ادائیگی کے لیے فنڈ کے ساتھ ایک نیا پروگرام انتہائی اہم ہے جس کے بغیر پاکستان کے لیے مشکلات کافی بڑھ سکتی ہیں کیونکہ پاکستان کو اگلے تین سال تک ہر سال کوئی 25 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں جبکہ اس کے علاوہ جاری اخراجات الگ ہونگے۔ان اخراجات کیلئے ایک۔اور بڑا آئی ایم ایف پیکج ناگزیر ہے۔خیال رہے کہ پاکستان کی معاشی صورت حال کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ ہمیں اندرونی اور بیرونی ادائیگیوں کے لیے کسی بیرونی مالیاتی ادارے پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آئی ایم ایف سے ہونے والے اس معاہدے کو پاکستانی معیشت کے لیے بہت ضروری سمجھا جا رہا ہے، اس معاہدے سے پاکستان کے لیے دیگر ممالک اور مالیاتی اداروں کے دروازے بھی کھل جائیں گے۔


تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے سے پاکستان کو کیا کیا فوائد حاصل ہو سکیں گے۔اس حوالے سے معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت تاریخ کے بدترین بحران کا شکار ہے اور آئندہ 100 دنوں میں پاکستان نے 3.5 بلین ڈالرز کی ادائیگیاں کرنی ہیں، دوسری جانب زرمبادلہ کے ذخائر روزانہ کی بنیاد پر کم ہوتے جا رہے ہیں جو اس وقت 8 ارب ڈالرز سے بھی نیچے آچکے ہیں۔ اس وقت ہمارے لیے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے اور روپے کے اوپر سے پریشر کو کم کرنے کے لیے آئی ایم ایف کا پروگرام انتہائی ضروری ہے جس کے تحت ہمیں 1.1 بلین ڈالرز ملیں گے۔ اور ہم ادائیگیاں کر سکتے ہیں جبکہ معیشت میں اصلاحات لانے کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔


ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام ملنے کی صورت میں حکومت کو غیر مقبول فیصلے کرنا ہوں گے جس سے اکثر حکومتیں کتراتی ہیں، ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ دوست ممالک بھی اس وقت ہمیں فنڈز دینے سے کترا رہے ہیں، کیونکہ ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ پہلے آئی ایم ایف پروگرام میں جائیں پھر ہم فنڈز دیں گے یا سرمایہ کاری کریں گے۔اس معاہدے سے نہ صرف ملکی فارن ایکسچینج ریزرو کو سپورٹ ملے گی بلکہ ساتھ ہی دنیا کے دیگر مالیاتی ادارے بھی اپنے فنڈز کھول دینگے کیونکہ دنیا بھر میں آئی ایم ایف کی فنڈنگ کو سرٹیفکیٹ سمجھا جاتا ہے۔


واضح رہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے اس معاہدے کو اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ پروگرام آف آئی ایم ایف کہا جاتا ہے، 30 جون 2023 کو آئی ایم ایف کا پاکستان سے معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت پاکستان کو 3 ارب ڈالرز کی رقم ملنی تھی جس میں پاکستان کو اب تک 2 اقساط میں 2 ارب ڈالرز کے قریب رقم مل چکی ہے، اب 1.1 ارب ڈالرز ملنے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے حتمی راؤنڈ کے بعد اب اپریل تک پاکستان کو یہ قسط مل جائے گی۔

Back to top button