پاکستانی اور افغان طالبان اسلام آباد کیلئے بڑا چیلنج بن گئے



سینئر صحافی اور کالم نگار سلیم صافی نے کہا ھے کہ کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ تحریک طالبان پاکستان کسی پولیس والے یا کسی فوجی کی ٹارگٹ کلنگ نہ کررہی یہ پاکستان میں اپنی تنظیم کو دوبارہ منظم کررہے ہیں اور کراچی تک یونٹ قائم کرلئے ہیں۔ صورت حال کو دیکھا جائے تو نہ صرف ٹی ٹی پی پاکستان کے ساتھ حالت جنگ میں ہے بلکہ اب امارات اسلامی بھی حالت جنگ کی طرف جارہی ہے ۔ بعض اطلاعات کے مطابق امارات اسلامی بھاری ہتھیار پاکستانی بارڈر کے قریب منتقل کررہی ہے ۔ اپنے ایک کالم میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی مغربی سرحد پر حالات خراب تر ہیں اور آئے روز دہشت گردی کے واقعات ہورہے ہیں لیکن چونکہ بڑی کارروائی نہیں ہوئی اسلئے ہم نے اس کو بھلا دیا ۔ بدقسمتی سے اگلے روز وہ بڑی کارروائی بھی ہوگئی اور میر علی میں ٹی ٹی پی نے ایک چوکی پرحملہ کرکے دو افسران اور کئی جوانوں کو کئی گھنٹے پر محیط لڑائی میں شہید کردیا ۔ اس کا بدلہ لینے کیلئے اگلے روز پاکستانی فورسز نے افغان سرحد کے اس پار کارروائی کرکے مبینہ طور پر میر علی کی کارروائی کے ذمہ داروں کو مار ڈالا تاہم ٹی ٹی پی کا دعویٰ ہے کہ ان کا کوئی لیڈر نہیں مارا گیا اور کارروائی میں پاکستان سے ہجرت کرنے والے مہاجرین نشانہ بنے ۔ اس کارروائی پر افغان وزارت خارجہ نے افغانستان کے صوبہ پکتیکا اور خوست پر پاکستانی فوج کے حملوں کے نتیجے میں مبینہ طور پرخواتین اور بچوں کی شہادت کے ردعمل میں کابل میں موجود پاکستانی سفارت خانے کے سربراہ کو طلب کرکے احتجاجی خط حوالے کیا ۔


سلیم صافی کا کہنا ہے کہ کی افغان وزارت خارجہ نےحملوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ پاکستان کو آگاہ کیا کہ امارات اسلامیہ افغانستان کو دنیا کی سپر پاورز کے خلاف آزادی کیلئے لڑنے کا طویل تجربہ ہے اور وہ اپنی سرزمین پر کسی بھی طرح کی جارحیت کو برداشت نہیں کر سکتی۔ دوسری طرف پاکستانی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں الزام لگایا کہ پاکستان کے مسلسل احتجاج کے باوجود افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے اور امارات اسلامی میں شامل بعض عناصر تحریک طالبان پاکستان کو بطور پراکسی استعمال کررہے ہیں۔ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے ۔ عملاً پاکستان کا ایک صوبہ حالت جنگ میں ہے لیکن باقی ملک کو اس جنگ کا احساس ہے اور نہ اس صوبے کو چلانے والوں کو ۔ یہاں اندرونی سیاست اور تو۔ تو ، میں ۔ میں کا غلبہ ہے ۔ ریاست صرف فائر فائٹنگ پر چل رہی ہے اور مسئلے کے دیرپا حل کیلئےکوئی راستہ تلاش نہیں کیا جارہا ۔ادھر جب واقعہ ہوجاتا ہے تو مسلم لیگ (ن) اور پی ٹی آئی کے مابین مخالفانہ بیان بازی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ۔


سلیم صافی کہتے ہیں کہ اس سب کو مسائل میں سے ایک مسئلہ نہیں بلکہ سب مسائل کی ماں سمجھا جائے ۔ طاقت کا استعمال مسئلے کا حل نہیں مسئلے کا حل جامع مذاکرات کو ہی ہیں۔ مذاکرات کی کئی شکلیں اور قسمیں ہوتی ہیں اور یہ دیکھا جاتا ہے کہ مذاکرات کے فریقین کون ہیں ۔ ضروری نہیں کہ پچھلے مذاکرات کا نتیجہ اچھا نہیں نکلا تو آگے بھی مذاکرات کا نتیجہ اچھا نہیں نکلے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ مسئلے کی تمام جہتوں کو سمجھنے والے لوگوں کی کمیٹی بنائی جائے ۔ ان کے ذریعے خفیہ اور اعلانیہ ہر طریقے سے مذاکرات کئے جائیں ۔ افغان طالبان کے ہاں عزت و احترام رکھنے والے افراد کو بھی اس کا حصہ بنایا جائے اور ٹی ٹی پی کے لوگوں کو عزت سے جینے کا کوئی راستہ بھی دیا جائے ۔ ہمارےہاں یہ عجیب تضاد بھی پایا جاتا ہے کہ بلوچ عسکریت پسند اگر ہتھیار پھینک کر پرامن زندگی اختیار کرتے ہیں تو ہر طرف واہ واہ کی جاتی ہے لیکن جب اسلامی عسکریت پسندوں سے مفاہمت کی بات ہوتی ہے تو ہر طرف سے ان کے خلاف آوازیں بلند ہونا شروع ہوجاتی ہیں ۔

Back to top button