کیا نواز شریف کی سرکاری اجلاسوں کی صدارت واقعی غیر قانونی ہے؟

مسلم لیگ (ن) نواز شریف حکومتِ پنجاب کے 3 انتظامی اجلاسوں کی صدارت کرکے توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ جہاں ایک طرف لیگی کارکنان پارٹی قائد کے عملی میدان میں اترنے پراترا رہے ہیں وہیں دوسری جانب عمرانڈو رہنما سراپا احتجاج ہیں۔ عمرانڈو رہنماوں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کے پاس صوبائی یا وفاقی حکومت میں کوئی سرکاری عہدہ نہیں ہے اور وہ سرکاری طور پر صرف قومی اسمبلی کے ایک رکن ہی ہیں وہ حکومت پنجاب کے اجلاسوں کی صدارت اور ہدایات کیسے جاری کر سکتے ہیں؟دوسری جانبا ایڈووکیٹ ندیم سرور نے پنجاب حکومت کے ایک انتظامی اجلاس کے پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی صدارت میں منعقد کیے جانے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے 18 مارچ کو اپنے والد اور سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر ٹرانسپورٹ سیکٹر کے منصوبے کے جائزہ اجلاس کی مشترکہ صدارت کی تھی۔
بعدازاں صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے میڈیا کو بتایا تھا کہ اجلاس میں میاں نواز شریف نے طلبا کے لیے موٹر سائیکلوں کی تعداد بڑھانے اور قرض کی ماہانہ قسط کم سے کم رکھنے کے علاوہ بسوں کے کرائے بھی کم سے کم مقرر کرنے کی ہدایات دی تھیں۔تاہم اب نواز شریف کی جانب سے سرکاری اجلاس کی صدارت کرنے کے عمل کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔درخواست گزار ایڈوکیٹ ندیم سرور کے مطابق میاں نواز شریف اب تک متعدد انتظامی اجلاسوں کی صدارت کر چکے ہیں، جب کہ وہ وزیر ہیں نہ وزیر اعلیٰ اور نہ ان کے پاس دوسرا کوئی حکومتی عہدہ ہے۔’آئین کے آرٹیکل 129 کے تحت انتظامی امور کے حوالے سے فیصلے کرنا کابینہ یا وزیر اعلیٰ کا کام ہے لیکن میاں نواز شریف نہ کابینہ کا حصہ ہیں اور نہ ہی وزیر اعظم ہیں اور نہ ہی یہ مریم نواز کے سپیشل اسسٹنٹ ہیں۔‘ ایڈوکیٹ ندیم سرور کا مزید کہنا تھا: ’مریم نواز کو ان سے انتظامی امور پر مشورے لینے ہیں تو انہیں اپنا سپیشل اسسٹنٹ بنا لیں یا پھر وہ انہیں چھ ماہ کے لیے کسی محکمے کا وزیر بنا لیتیں کیونکہ اس کی اجازت آئین بھی دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف نے کوئی حلف نہیں اٹھایا اور اسی لیے وہ جو بھی مشورہ یا ہدایات جاری کریں گے اس پر ان کا احتساب نہیں ہو سکے گا۔
تاہم دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز جس دن صوبے کی پہلی خاتون وزیر اعلیٰ منتخب ہوئیں انہوں نے ایوان میں اپنی پہلی تقریر کے دوران کہا تھا: ’میری خوش قسمتی ہے کہ میاں نواز شریف کی رہنمائی مجھے حاصل ہے اور انہوں نے میرا ہاتھ تھاما ہوا ہے۔‘مریم نواز نے یہ بھی کہا تھا: ’جس دن سے میری بطور وزیر اعلیٰ پنجاب نامزدگی ہوئی نواز شریف نے میرے ساتھ بیٹھ کر اگلے پانچ سال کے منصوبے ترتیب دیے۔ انہوں نے میٹنگز کی قیادت کی۔ انہوں نے ہر روز مجھے قیمتی مشورے دیے اور اپنے تجربے سے پورا فائدہ اٹھانے کا موقع دیا جو میں شاید 100 سال بھی کام کرتی تو وہ تجربہ حاصل نہ کر پاتی۔دوسری جانب سیاسی تجزیہ نگار اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب حسن عسکری کے خیال میں اگر نواز شریف سے کسی اجلاس کی صدارت کروانی تھی تو اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب ایک کمیٹی بناتیں اور اس کی سربراہی میاں نواز شریف کو دی جاتی۔’اس کے علاوہ انتظامی اجلاس کی صدارت وزیر اعلیٰ کر سکتا ہے لیکن جو کابینہ کا رکن نہیں ہے وہ آئینی طور پر صدارت نہیں کر سکتا۔‘حسن عسکری کا کہنا تھا: ’مریم نواز کا میاں نواز شریف کے ساتھ رشتہ ہے اس کے تحت کسی سٹاف کے رکن میں اتنی ہمت نہیں ہوئی ہو گی کہ انہیں بتاتا کہ اس طرح صدارت کروانے میں آئینی ایشو کھڑا ہو سکتا ہے۔‘
میاں شہباز شریف بھی بحیثیت وزیر اعظم میاں نواز شریف سے مشورے لینے اکثر لندن جایا کرتے تھے۔اس حوالے سے حسن عسکری کا کہنا تھا کہ مشورہ لینا الگ ہے۔ وہ لیے جا سکتے ہیں۔ ان پر آپ سیاسی اعتراض تو اٹھا سکتے ہیں لیکن کوئی قانونی اعتراض نہیں اٹھایا جا سکتا۔’ایک فارمل سٹرکچر کے اندر انہیں شامل کرنا الگ بات ہے۔ اس کا ایک طریقہ کار ہے جس پر انہوں نے عمل نہیں کیا اسی لیے ان کے خلاف عدالت سے رجوع کیا گیا ہے۔‘دوسری جانب تجزیہ نگار و کالم نویس وجاہت مسعود کا خیال ہے کہ ’حذب اختلاف نے صرف حکومت کو تنگ کرنا ہے۔ حکومت کو چلنے نہیں دینا۔ اس لیے وہ کوئی نہ کوئی مسئلہ تو نکالیں گے۔ لیکن بات یہ ہے کہ ہمیں عادت نہیں ہے کہ پارٹی کی قیادت اور جن کو پبلک آفس میں لے کر آنا ہے ان میں فرق ہو سکتا ہے۔’کیا قائد اعظم لیاقت علی خان کی موجودگی میں صدرات نہیں فرماتے تھے۔ وہ تو گورنر جنرل تھے۔ ہیڈ آف دی سٹیٹ تھے۔ جب تک وہ زندہ رہے کوئی ایسا کابینہ کا اجلاس ہے جس کی صدارت لیاقت علی خان نے کی ہو؟‘ان کا مزید کہنا تھا: ’ہم نے چونکہ یہ روایت قائم کرنا ہے کہ پارٹی کے سربراہ کو آؤٹ کرنا ہے انہیں جلا وطن کرنا ہے، ان کو مارنا ہے ان کو قتل کرنا ہے تو ہمیں اس کا نتیجہ بھی بھگتنا پڑے گا۔ وجاہت مسعود کے بقول ’میں اصولی طور پرسمجھتا ہوں کہ میاں نواز شریف کو وہاں نہیں بیٹھنا چاہیے تھا کیونکہ انہوں نے حلف نہیں اٹھایا ہوا۔ پارٹی معاملات کی بات ہے تو کہیں اور جا کر صدارت کرتے۔ لیکن دوسرا رخ یہ ہے کہ ہم نے میاں نواز شریف کو سیاست سے زبردستی آؤٹ کیا ہے۔‘اس لئے ان کے ہر اقدام پر اعتراض تو ضرور ہو گا۔
