سوشل میڈیا پر پابندیوں کے ذمہ دار یوتھیے کیوں ہیں؟

سینئر صحافی نصرت جاوید محض ’’مقتدرہ‘‘ ہی نہیں بلکہ ہمارے روایتی سیاستدانوں کی بے پناہ اکثریت بھی نہایت سنجیدگی سے یہ طے کرچکی ہے کہ سوشل میڈیا وطن عزیز میں اضطراب بڑھارہا ہے۔ عمران خان اور ان کے عاشقان نے میڈیا کی اس نئی صنف کے ذریعے روایتی میڈیا کو بکائواور سچ کو چھپاتا ثابت کردیا۔ روایتی میڈیا کی ساکھ تباہ کرنے کے بعد سوشل میڈیا سے جو نام نہاد’’سچ‘‘ پھیلایا گیا وہ عوام کو مسلسل اضطراب کی کیفیت میں رکھے ہوئے ہے۔اپنے ایک کالم میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ ملک میں سیاسی ومعاشی استحکام کو یقینی بنانے کے علاوہ لوگوں کو اضطرابی کیفیات سے محفوظ رکھنے کے لئے بھی ایکس، یوٹیوب اور فیس بک جیسے پلیٹ فارموں کو قابو میں لانا ہوگا۔ دنیا کے کئی ممالک ہیں جہاں کے عوام مذکورہ بالا پلیٹ فارموں کی فراہم کردہ’’عیاشی‘‘ کے بغیر ’’خوشحال اور مستحکم‘‘زندگی گزاررہے ہیں۔پاکستان کو ایسی مصیبتیں پالنے کی ہرگز ضرورت نہیں۔ہمارے ہمسائے میں نریندر مودی نے ٹویٹر اور فیس بک کو اپنی حکومت کے آگے جوابدہ بنارکھا ہے۔ بنگلہ دیش نے بھی سوشل میڈیا کے تمام پلیٹ فارموں کو ’’ریگولیٹ‘‘ کرلیا ہے۔ ان دنوں سری لنکا کی حکومت بھی ایسے کئی قوانین تیار کررہی ہے جو سرکار کی سوشل میڈیا پر بھداڑانے کو سنگین جرم ٹھہرانے میں مددگار ہوں گے۔سادہ ترین الفاظ میں یوں کہہ لیں کہ پاکستان میں بھی ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش شروع ہوچکی ہے جو بالآخر ہمیں اس دور میں واپس لے جائے گا جن دنوں ’’سچ‘‘ صرف سرکار کے چلائے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی وڑن کے ذریعے لوگوں کو میسر ہوتا تھا۔ ’’پڑھے لکھے‘‘ افراد کو خبریں وغیرہ روایتی اخبارات کے ذریعے مل جاتی تھیں۔اب اخباروں کے ’’ڈیجیٹل‘‘ ورڑن بھی سرکار کے فراہم کردہ لائسنس اور انٹرنیٹ سہولت کے ذریعے لوگوں تک پہنچائے جاسکتے ہیں۔
نصرت جاوید بتاتے ہیں کہ گزشتہ ایک ماہ سے پاکستان میں ایکس یعنی سابقہ ٹوئٹر تک رسائی 24گھنٹوں میں چند ہی لمحات کے لئے میسر ہوتی ہے۔سندھ اور اسلام آباد ہائی کورٹس بھی ابھی تک پتہ نہیں چلا پائی ہیں کہ ایکس کی ’’نشریات‘‘ میں مسلسل تعطل کا ذمہ دار کون ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے عہدہ سنبھالتے ہی ایک ٹی وی انٹرویو دیا تو اس کے دوران نہایت معصوم چہرے کے ساتھ اس حقیقت کو جھٹلانے کی کوشش کی کہ ’’ایکس‘‘ تک رسائی دشوار تر ہورہی ہے۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے کو تیار اس لئے بھی نہیں تھے کیونکہ انہوں نے بطور وفاقی وزیر ایسا کوئی ’’نوٹی فکیشن‘‘یا اعلامیہ نہیں دیکھا تھا جس کے ذریعے حکومت پاکستان نے ان دنوں ’’ایکس‘‘ کہلاتے ٹویٹر کی بندش کا حکم جاری کیا ہو۔
سوال اٹھتا ہے کہ اگر ’’ایکس‘‘ تک رسائی محبوب کے چہرے کی طرح مشکل سے مشکل تر ہوتی رہے گی تو پاکستانی اس کے استعمال کی سالانہ فیس ادا کیوں کریں ۔ پاکستانی کبھی سوچتے ہیں کہ ایکس تک پہنچنے میں ان دنوں جو دشواریاں ہیں وہ غالباََ عارضی ہیں۔ مگر ساتھ ہی مگر حکمرانوں تک رسائی کے حامل افراد خبردار کئے چلے جارہے ہیں کہ سوشل میڈیا پر کنٹرول کا سلسلہ تو ابھی شروع ہوا ہے۔
