کیا مریم نواز بھی محسن نقوی کی طرح 18 گھنٹے کام کر پائیں گی؟



مریم نواز کے بطور وزیراعلی پنجاب حکومت سنبھالنے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیر بحث ہے کہ کیا وہ سابق نگران وزیراعلی محسن نقوی کی طرح دن میں 18 گھنٹے کام کر پائیں گی یا نہیں۔ تا حال تو یہی نظر اتا ہے کہ پنجاب کی پہلی خاتون وزیراعلی صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک سرکاری ملازمین کی طرح کام کرتی ہیں اور پھر گھر روانہ ہو جاتی ہیں۔ یعنی وہ بھی بیوروکریسی کی طرح صرف آٹھ گھنٹے کام کرنے پر یقین رکھتی ہیں۔ دوسری طرف اپنے ایک سالہ اقتدار کے دوران برق رفتاری اور تندہی سے کام کرنے کی بدولت محسن سپیڈ کا ٹائیٹل حاصل کرنے والے نگران وزیراعلی محسن نقوی صبح نو بجے سے رات تین بجے تک کام کرنے کے عادی تھے اور ساتھ میں پنجاب کی بیوروکریسی کو بھی ساتھ لگا کر رکھتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبہ پنجاب میں پچھلے ایک برس میں ریکارڈ ترقیاتی کام ہوئے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق صوبے کی پہلی خاتون وزیراعلی کو سب سے بڑا چیلنج یہ ہو گا کہ کہ ان کی حکومت کی کارکردگی کا موازنہ محسن نقوی کی نگران حکومت کی کارکردگی سے کیا جائے گا۔ ایسے میں انہیں 18 گھنٹے نہیں تو کم از کم 12 گھنٹے تو کام کر کے دکھانا ہو گا جو ابھی تک ممکن نظر نہیں آ رہا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اب تک مریم نواز کا سارا زور اپنے لباس کی تراش خراش اور میک اپ پر ہے اور وہ عوام کی بجائے ٹی وی کیمروں کے لیے زیادہ کام کرتی نظر اتی ہیں۔ ناقدین کہتے ہیں کہ مریم نواز جہاں کہیں بھی جائیں انہیں دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ وہ ابھی بیوٹی پارلر سے نکلی ہیں اور کسی شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آئی ہیں۔ انکے برعکس نگران وزیراعلی محسن نقوی صبح شلوار قمیض یا جینز اور شرٹ میں ملبوس ہو کر گھر سے نکلتے تھے اور عموما سحری ٹائم پر سرکاری مصروفیات ختم کر کے گھر واپس جاتے تھے۔ ان کے لباس کی تراش خراش عوامی تھی اور وہ سارا دن عوام میں ہی گھسے رہتے تھے۔ دوسری جانب چونکہ مریم نواز کا لباس اور طرز سیاست اشرافیہ کی نمائندگی کرتا ہے لہازا وہ عوام سے کوسوں دور نظر اتی ہیں۔ محسن نقوی نے صوبے میں نہ صرف ڈویلپمینٹ کا ماڈل دیا بلکہ "گڈ گورننس” کی مثال بھی قائم کی جو کہ مریم نواز کے لیے ایک اور بڑا چیلنج ہوگا۔

سیاسی مبصرین کے مطابق الیکشن 2024 کے نتائج نے مسلم لیگ نون کی پنجاب میں مقبولیت کا بھرم بھی کھول کر رکھ دیا ہے جسکے بعد اسے اپنی کھوئی ہوئی ساکھ بحال کرنے کے لیے پورا زور لگانا ہوگا، لیکن ایسا صرف کارکردگی کی بنیاد پر ہی کیا جا سکتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ یے کہ وزیر اعلی مریم نواز کی سربراہی میں پنجاب حکومت کے کامیاب ہونے کے کتنے امکانات ہیں۔ ابھی اس حوالے سے قطعی اندازہ لگانا آسان نہیں ہے۔


پنجاب حکومت کی کامیابی مسلم لیگ ن کے لیے کتنی اہمیت کی حامل ہے اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ نواز شریف اپنی ‘خود ساختہ تنہائی‘ ختم کر کے منظر عام پر آ گئے ہیں۔ انہوں نے اپنی صاحبزادی مریم نواز شریف کے ساتھ پنجاب حکومت کے اعلی سطحی اجلاسوں کی صدارت کرنا شروع کر دی ہے اور وہ براہ راست بیوروکریسی کو بھی ہدایات دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے اگر ان کی صاحبزادی کی حکومت ناکام ہوتی ہے تو اسے نواز شریف کی ناکامی تصور کیا جائے گا۔ ایک مسئلہ یہ بھی یے کہ ان کے چھوٹے بھائی شہباز شریف بطور وزیراعلی پنجاب شہباز سپیڈ کا ٹائٹل حاصل کرنے کے بعد رخصت ہوئے تھے۔ ماضی میں جب نواز شریف اپنے چھوٹے بھائی اور وزیراعلی پنجاب شہباز شریف کے ساتھ ایسے اجلاسوں میں بیٹھا کرتے تھے تب تو وہ وزیراعظم ہوا کرتے تھے۔ لیکن اب ان کی پنجاب حکومت میں ”مداخلت‘‘ پر ناقدین کی جانب سے سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔ مسلم لیگ ن کے مخالف حلقے اس بات پر بھی اعتراض کر رہے ہیں کہ رمضان پیکج کے تحت دیے جانے والے راشن کے تھیلوں پر میاں نواز شریف کی تصویر کیوں چھاپی گئی ہے اس پر وزیر اعلی مریم نواز کا موقف ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ پنجاب میں نواز شریف کی حکومت ہے۔

پنجاب حکومت کی کارکردگی کے بارے میں حکومت اور حزب اختلاف کی طرف سے متضاد دعوے سامنے آ رہے ہیں۔ حکومتی ارکان کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نے صوبے کی تاریخ کا سب سے بڑا رمضان پیکج دیا ہے۔ مریم نواز رمضان بازاروں، جیلوں اور ہسپتالوں میں خود جا کر حالات کا جائزہ لے رہی ہیں، کسانوں کے لیے کسان کارڈ جاری کرنے، نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے لیے وظائف دینے، طلبا کو آسان قسطوں پر موٹرسائیکلیں فراہم کرنے، کاشتکاروں کو سولر پینل دینے، تمام اضلاح میں غریبوں کو ماڈل گھر بنا کر دینے، صوبے میں صٖفائی کے نظام کو بہتر بنانے اور کئی نئے شہروں میں میٹرو بس سروس شروع کرنے کے اعلانات کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف تحریک انصاف کے رہنماؤں کے مطابق یہ سب اعلانات سستی شہرت کے حصول کے لیے ہیں۔ انکا کہنا یے کہ صوبے میں شدید مالیاتی بحران ہے، سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے پیسے نہیں ہیں تو اعلان کردہ منصوبوں کے لیے رقم کہاں سے لائی جائے گی، عمرانڈوز کے مطابق ہمارے پرامن احتجاج کرنے والے کارکنوں پر مریم دور میں دہشت گردی کے مقدمے بن رہے ہیں، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ انکے مطابق یہ ایک جعلی حکومت ہے جسے عوام کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ لہازا مریم نواز بطور وزیر اعلی کبھی بھی ڈیلیور نہیں کر سکیں گی۔

بعض تجزیہ نگاروں کا یہ خیال بھی ہے کہ چونکہ مریم نواز کی کابینہ میں زیادہ تر لوگ نئے ہیں اس لیے انہیں گورننس کی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مریم نواز نے ماضی میں کبھی کسی سرکاری حیثیت میں کام نہیں کیا لہذا ان کے لیے وزارت اعلی چلانا ایک مشکل ٹاسک ہوگا جس کا نتیجہ ناکامی کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف کے ایک سو سے زائد ارکان والی مضبوط اپوزیشن بھی انکی حکومت کے لیے ایک بڑا چیلنج ہو سکتی ہے۔

لیکن دوسری جانب مریم نواز سے ہمدردی رکھنے والے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ وہ اس لیے کامیاب ہو جائیں گی کہ مسلم لیگ ن کے پاس پنجاب کا بیس کیمپ موجود ہے اور اسمبلی میں ان کی عددی اکثریت بھی ٹھیک ٹھاک ہے، اسکے علاوہ مریم کی حکومت کو اب نواز شریف کی رہنمائی بھی انہیں میسر ہے، مرکز میں وزیر اعظم بھی مریم کے چچا جان ہیں۔ صوبائی بیوروکریسی میں بھی ان کا دھڑا موجود ہے جو ان کو کامیاب ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتا ہے لہازا زیادہ توقع یہی ہے کہ مریم نواز بطور وزیراعلی کامیاب ہوں گی۔

Back to top button