کیا آصفہ بھٹو کی انٹری موروثی سیاست کا تسلسل ہے؟

بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کی سب سے چھوٹی صاحبزادی آصفہ بھٹو کی سیاست میں انٹری پر تحریک انصاف والے تنقید کرتے ہوئے اعتراض اٹھارہے ہیں کہ یہ تو موروثی سیاست کا تسلسل ہے۔
تاہم پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ سیاست میں کسی کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کا اختیار صرف اور صرف عوام کا ہے اور ملتان کے جلسے میں لوگوں نے آصفہ کو کھلے دل سے ویلکم کیا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ عوام کی چوائس پر اعتراض کرنا غیر جمہوری طرز عمل ہے اور اور جمہوریت کی نفی ہے۔
30 نومبر کو ملتان کے جلسے میں ہاتھ ہلاتی، اپنی جماعت کے نعرے لگاتی اور انگلیوں سے فتح کے نشان بناتی، سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو شہید کی سب سے چھوٹی بیٹی آصفہ بھٹو ذرادری، اپنی والدہ ہی کی تصویر نظر آ رہی تھیں۔ اور پھر جب آصفہ نے اپنی پہلی تقریر کی تو ان کی آواز اور ان کے انداز میں بھی بے نظیر بھٹو کی جھلک نظر آئی۔ ملتان میں اپوزیشن کے جلسے سے آصفہ بھٹو نے باقاعدہ طور پر اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تو نواز شریف کی بیٹی اور ان کی سیاسی وارث مریم نواز بھی اسی اسٹیج پر موجود تھیں۔ آج سے دو برس پہلے تک مریم نواز شریف پر بھی ان کی پارٹی کے اندر اور اپوزیشن کی جانب سے یہی اعتراض کیا جاتا تھا کہ نواز شریف ان کو موروثی سیاست کے تحت آگے لا رہے ہیں۔ لیکن پھر دنیا نے دیکھا کہ مریم نے اپنا انتخاب درست ثابت کیا اور آج وہ مسلم لیگ نون کی دبنگ ترین لیڈر کا درجہ حاصل کر چکی ہیں۔
بھٹو خاندان کی تین نسلوں کی سیاست پر نظر رکھنے والے سینئر صحافی نصرت جاوید کہتے ہیں کہ اُن کی رائے میں آصفہ کی تقریر کا مواد اتنا اہم نہیں تھا جتنی ان کی وہاں موجودگی اور ان کا ہالہ تھا، جو ان کی والدہ بے نظیر بھٹو کی انرجی اور احساس پیدا کر رہا تھا۔ ان کے خیال میں لوگ جو بھی کہتے رہیں لیکن آصفہ بھٹو پیپلز پارٹی میں شاندار اضافہ ثابت ہوگی۔ دراصل 27 سالہ آصفہ کا باضابطہ طور پر سیاست میں داخل ہونا بالکل اچانک ہے۔ وہ اپنے بھائی کی جگہ حزب اختلاف کے پہلے سے طے شدہ جلسے سے خطاب کرنے آئی تھیں۔ بلاول، کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد قرنطینہ میں تھے اور خطاب کرنے کے لیے جلسہ گاہ میں نہیں آ سکتے تھے۔
پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شیری رحمان کہتی ہیں کہ آصفہ کی اچانک سیاست میں انٹری، کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ حالات نے ہمیشہ بھٹو خاندان کے لوگوں کو ملکی سیاست کے پرخار وادیوں میں دھکیلا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر اور بلاول نے اپنے لیے سیاسی زندگی کو نہیں چنا بلکہ خود سیاست نے اِنہیں منتخب کیا۔ اس سے پہلے بختاور اور آصفہ بھٹو زیادہ تر سیاست کے پس پردہ رہیں اور دونوں نے خود کو سوشل میڈیا پر سیاسی کمنٹری تک محدود رکھا۔ تاہم بختاور کی نسبت آصفہ بھٹو کی سیاست میں بلاول کی طرح زیادہ دلچسپی ہے۔
اہنے والد کا سایہ کہلوانے والی اور انکے قریب ترین سمجھی جانے والی آصفہ نے یونیورسٹی کالج لندن سے گلوبل ہیلتھ میں ایم اے کیا ہوا ہے، اور انہوں نے خود کو صحت کے ایک سرگرم کارکن کے طور پر منوایا ہے۔ وہ انسدادِ پولیو کیلئے اقوام متحدہ کی سفیر بھی ہیں۔ معروف صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ آصفہ میں بظاہر سیاسی خوبیاں بچپن سے تھیں۔ انہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے اپنی ملاقاتوں کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ایک دفعہ محترمہ نے انکو بتایا تھا کہ آصفہ کو جب بھی اپنا سکول تبدیل کرنا ہوتا تھا تو وہ پلے کارڈز پر احتجاجی نعرے لکھ کر گھر میں جگہ جگہ لگا دیتی تھیں۔ یعنی سیاسی سوجھ بوجھ آصفہ کو بچپن سے ہی تھی۔
دوسری طرف حکمران جماعت، تحریک انصاف نے آصفہ بھٹو کی سیاست میں آمد کو پیپلز پارٹی میں موروثی سیاست کا تسلسل قرار دیا ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ سیاست میں کسی کو قبول کرنے یا مسترد کرنے کا فیصلہ صرف اور صرف عوام کا حق ہے اور جس لیڈر کو عوام تسلیم کرلیں، اس کی قیادت پر اعتراض کرنا جمہوریت کی نفی ہے۔ پیپلز پارٹی کے ایک سینئر رہنما نے اپوزیشن کو اعتراض کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت امریکہ میں بھی لوگ جارج بش سینئر کے بعد ان کے بیٹے بش جونیئر کو منتخب کرتے ہیں اور صدر کلنٹن کے بعد ان کی اہلیہ ہیلری کلنٹن کو صدارتی امیدوار بناتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں بھی عوام نے ہی نہرو کے بود اندرا گاندھی اور ان خے بعد ان کے بیٹے اور پھر بہو کو لیڈر بنایا۔ لہذا چونکہ جمہوریت نام ہی عوام کی حکمرانی کا ہے اس لیے عوام کی چوائس پر اعتراض کرنا دراصل جمہوری عمل کی نفی اور آمرانہ طرز عمل ہے۔
