کیا امریکہ افغان طالبان کو گلے لگانے کا فیصلہ کر چکا؟


اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت کی تدفین کے بعد امریکی اب افغان طالبان کو گلے لگانے کے سمجھوتے پر کام کر رہے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی پہلے ہی افغان طالبان سے مستقبل کے باہمی تعلقات پر تفصیلی مشاورت کرچکے ہیں۔ اگر امریکہ افغان مجاہدین کو اپنے کرائے کے سپاہیوں کے طور پر استعمال کرسکتا ہے تو اسے طالبان کو افغانستان میں اپنا پولیس مین بنانے میں کیا عار ہو سکتی ہے؟ ان خیالات کا اظہار سینیئر صحافی اور تجزیہ کار امتیاز عالم نے اپنی تازہ تحریر میں کیا ہے۔
ان کامزیدکہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے کابل پر حیرت انگیز قبضے کے بعد افغان دارالحکومت سے امریکی سفارتی عملے اور غیر ملکیوں کے فرار کے ویسے ہی مناظر دیکھنے کو ملے جیسے دنیا نے 1975ء میں ویت نامیوں کے ہاتھوں امریکی شکست کے بعد سائیگان شہر میں دیکھے تھے۔ کسی بڑی فوجی مزاحمت کا سامنا کیے بغیر طالبان صرف دس روز میں پورے افغانستان پر قابض ہو چکے ہیں۔ دلچسپ بات یہ یے کہ شاید کابل پر قبضہ کرنا افغان طالبان کے لیے آسان ترین ہدف ثابت ہوا حالانکہ یہ کہا جارہا تھا کہ افغان دارالحکومت پر قبضہ کرنے میں طالبان کو مہینوں لگ سکتے ہیں۔ لیکن اس کی بنیادی وجہ افغان صدر اشرف غنی اور ان کی کابینہ کے بیشتر اراکین کا ملک سے فرار ہو جانا بتائی جا رہی ہے جسکے بعد امریکہ کی تربیت یافتہ تین لاکھ فوجیوں پر مشتمل افغان آرمی نے حوصلہ چھوڑ دیا اور ہتھیار ڈال دیئے۔ لہازا اب بیس برس بعد طالبان پھر سے کابل کے صدارتی محل پر قابض ہو چکے ہیں اور کابل ایک بار پھر طالبان کی امارات اسلامی افغانستان کے امیر کا دارالخلافہ ہوگا۔
امریکی ریپبلکن پارٹی کے قائد مچ میککانل نے صدر بائیڈن کے کابل سے امریکی انخلا کو سائیگون سے بھاگ نکلنے سے بھی بدتر منظر کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے، حالانکہ اس کی بنیاد صدر ٹرمپ کے طالبان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے معاہدے نے رکھ دی تھی۔ امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان سے اسی طرح فرار ہوا ہے جیسے ویت نام سے ہوا تھا اور اسے کابل میں بھی سائیگان جیسی تاریخی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امتیاز کے مطابق امریکہ کے لیے شرم کی بات یہ ہے کہ 9/11 کے بیس سال مکمل ہونے پر طالبان پھر سے کابل میں براجمان ہو چکے ہیں۔ امریکی استعمار کا بیک وقت افغانستان اور عراق میں جنگ کے جارج ڈبلیو بش کے اعلان کی کانگریس نے 518 ووٹوں کے ساتھ توثیق کی تھی۔ سوویت یونین کے خلاف سی آئی اے کی سب سے بڑی خفیہ جنگ صدر کارٹر کے دور میں شروع ہوئی تھی اور مجھے یاد ہے کہ اس کے قومی سلامتی کے مشیر بریز نسکی نے کس طرح طور خم کے پہاڑوں پہ کھڑے ہوکر بندوق لہرائی تھی۔ دس برس کی مارا ماری کے بعد افغان مجاہدین امریکی اور جنرل ضیاء الحق کی سرپرستی میں کابل پہ قابض ہوئے تھے اور انہوں نے کابل کو کھنڈرات میں بدل دیا تھا۔ پھر طالبان بلا مزاحمت کابل پہ قابض ہوگئے تھے، جب 9/11 کے بعد کابل سے طالبان بھاگے تو جو بم پروف غار سی آئی اے نے بنائے تھے وہیں اسامہ بن لادن نے پناہ لی تھی اور ملا عمر غائب ہوگئے تھے۔
امتیاز عالم کہتے ہیں کہ امریکی سلامتی کے ماہرین کا خیال تھا کہ افغانستان کا آپریشن مختصر ہوگا اور وہ عراق پر قبضہ کر کے وہاں کے تیل سے حاصل مال غنیمت سے افغانستان اور دیگر عرب ممالک کو تاراج کر کے اپنی فوجی نوآبادیات میں ڈھال لیں گے۔ اس دوران عراق، لیبیا، صومالیہ، شام، یمن اور افغانستان نے تاریخ کی تباہ کن بمباری اور بد ترین خونخواری و تباہی دیکھی۔ آٹھ لاکھ لوگ مارے گئے اور تین کروڑ ستر لاکھ لوگ مہاجر بن کر دربدر ہوگئے۔ صرف افغانستان پہ امریکہ کا جنگی خرچہ دو کھرب ڈالر سے زیادہ ہوا اور اس کے ایک لاکھ اور نیٹو کے 60 ہزار فوجیوں کے علاوہ تین لاکھ افغان اور 50 ہزارا سپیشل فورسز کے جوانوں کیساتھ 20 برس تک افغانستان کو تہس نہس کیاجاتا رہا۔ اسکے علاوہ تاریخ کے بدترین مہلک ہتھیار بشمول ’مدر آف آل بمبز‘ استعمال کیے گئے۔ طالبان گوریلا جنگجو یا تو عوام کے ساتھ گل مل گئے یا پھر پورس بارڈر کے آر پار اپنے پختون بھائیوں کے پاس سرکاری سرپرستی میں پناہ گزین ہوگئے۔ ان کی سب سے زیادہ مدد کی بھی تو امریکیوں کی وحشیانہ بمباری نے یا پھر کرزئی اور اشرف غنی کی نہایت نکمی اور کرپٹ حکومتوں نے۔ ’’ادھر بھی افغان اور اُدھر بھی ‘‘ کی بیرونی استعمار کے خلاف مزاحمت کا امیر کوئی ہے بھی تو ملا عمر یا اس کا جانشین! لیکن جب تحریک طالبان پاکستان نے پاک افغان مجاہدین کی طرح پختون قوم پرستوں کو نشانہ بنایا تو ان کے پاس چارا بچا بھی تو کرزئی یا پھر اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومتیں۔ سب سے زیادہ تذلیل ہوئی بھی ہے تو نیو کنزرویٹوز کی جو ’’قومی تعمیر‘‘ کے نام پر امریکی عسکریت پسند ایمپائر کی دھاک بٹھانا چاہتے تھے۔
امتیاز عالم کے مطابق تاریخ میں 6 درجن استعماری ریاستیں اپنے غلبے کے مفاد میں پائوں پھیلاتی چلی گئیں اور نتیجتاً زوال کا شکار ہوگئیں۔ امریکی ایمپائر کی قسمت بھی مختلف ہونے والی نہیں۔ امریکہ جب یہ نہ ختم ہونے والی جنگیں لڑرہا تھا تو خود بھی ایک مالیاتی، سیاسی اور اسٹرٹیجک بحران کا شکار ہو کر امریکی عوام کو بڑھتی ہوئی ابتلائوں کا شکار کررہا تھا۔ عالمی منڈی میں اس کی اجارہ داری کمزور پڑگئی اور چین زیادہ تیزی کے ساتھ دنیا کی بڑی معیشت بنتا چلا گیا۔ بیس برس افغانستان میں ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے بعد اب روسی افواج کی طرح امریکہ اور اسکی اتحادی افواج بھی افغانستان سے نکل چکی ہیں اور کابل میں دو دہائیوں لمبی استعماری جنگ کا ڈراپ سین ہو چکا ہے۔
کٹھ پتلی افغان حکومت کا خاتمہ ہوچکا ہے اور صدر اشرف غنی اپنے نائب صدر اور کابینہ اراکین سمیت افغانستان سے فرار ہوچکے ہیں۔ اب ایسی اطلاعات ہیں کہ اشرف غنی کی کٹھ پتلی حکومت کی تدفین کے بعد امریکی طالبان کو گلے لگانے کے کسی سمجھوتے پہ کام کر رہے ہیں۔ امریکہ اور اس کے اتحادی پہلے ہی افغان طالبان سے مستقبل کے باہمی تعلقات پر تفصیلی مشاورت کرچکے ہیں۔ امتیاز عالم کے مطابق بھلا اگر امریکہ سابق افغان مجاہدین کو اپنے کرائے کے سپاہیوں کے طور پر استعمال کرسکتا ہے تو اسے طالبان کو افغانستان میں اپنا پولیس مین بنانے میں کیا عار ہو سکتا ہے۔ طالبان کو ڈالرز بھی چاہئیں اور عالمی حمایت بھی اور ایسا کرنے سے اسے دونوں مل جائیں گے۔ ویسے بھی طالبان نے اپنے سفارتی پتے سب سے بہتر کھیلے ہیں ۔انہوں نے پاکستان کو بھی خوب استعمال کیا اور اس کی تسلی کے لئے تشفی کی ٹرافی ملی بھی تو بھارتی اثر کے خاتمے کے امکان کی۔ کسی بڑی خون آشام جنگ کے بغیر جہاد فی سبیل اللہ سے افغان طالبان نے فیض پایا ہے۔ لیکن مظلوم افغان عوام کو ملی بھی ہے تو ایک نو آبادیاتی غلبے کی پیداوار کٹھ پتلی حکومت کی جگہ قرون وسطیٰ کی وحشیانہ امارات۔ اب دنیا پریشان ہے تو اس بات پر کہ طالبان کے جلوُ میں جو درجن بھر جہادی گروپ ہیں وہ پھر سے پھن پھلائیں گے۔ پاکستان کے ہمسائے میں سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکی استعمار کی پسپائی پر ہمارے سرکاری و غیر سرکاری جنگجوئیت پسند حلقے تو بہت خوش ہیں، لیکن آنے والے دنوں میں افغان خانہ جنگی اور طالبان کی فتح کے ’’ثمرات‘‘ چوتھی بار سمیٹتے ہوئے پاکستان کو بڑے خطرات کا سامنا ہوگا۔ امتیاز عالم کا کہنا ہے کہ اس جنگ میں اگر دنیا کے ہاتھ جلے ہیں تو ہمارے ہاتھوں پر تو دستانے بھی نہیں ہیں۔ افغانستان پر طالبان کا بھوت چھانے کو ہے، دیکھتے ہیں پاکستان میں طالبان کا یہ بھوت کیا رنگ دکھاتا ہے؟

Back to top button