کیا امریکہ اور نواز شریف کے معاملات طے ہونے جا رہے ہیں؟


امریکی قونصل جنرل اینجلا ایگلر کی لاہور میں وزیراعلیٰ یا گورنر کی بجائے مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور نائب صدر مریم نواز سے الگ الگ ملاقاتوں کو سیاسی حلقوں میں انتہائی معنی خیز قرار دیا جارہا ہے۔ یاد رہے کہ شہباز اور مریم سے اعلیٰ امریکی عہدیدار کی ملاقاتیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب پاکستان کی فوجی قیادت اور وزیراعظم عمران خان کے مابین نئے ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر اختلاف چل رہا ہے۔ ایسے میں امریکی عہدہدار کی اپوزیشن کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی قیادت سے ملاقات معنی خیز سمجھی جاتی ہے خصوصا جب یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگلا اقتدار نواز شریف کا ہوگا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے سیاسی حلقوں میں یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ فوجی قیادت اور لیگی قیادت کے مابین معاملات میں کافی حد تک بہتری آگئی ہے اور اسی وجہ سے مریم نواز کی جانب سے فیض حمید کو چارج شیٹ کیے جانے کے فورا بعد انہیں بطور ڈی جی آئی ایس آئی ہٹا دیا گیا۔ دوسری جانب اب امریکی بھی مستقبل کے سیاسی منظر نامے میں مسلم لیگ کا اقتدار دیکھتے ہوئے اس کے قریب آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہاں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ اقتدار میں آنے کے آٹھ مہینے بعد بھی امریکی صدر بائیڈن نے ابھی تک عمران خان سے فون پر بات کرنا بھی گوارا نہیں کیا۔
اسلام آباد کے سیاسی حلقے امریکی اہلکار کی حالیہ ملاقاتوں کو پاکستان میں پیدا شدہ حالات کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ جیسے ملک کے اہم سفارتی ذمہ دار کا شریف خاندان کے ذمہ داروں سے ملاقاتیں آنے والے حالات اور انتخابات کے تناظر میں ہیں اور ماضی میں بھی امریکی سفارت کار خصوصاً اپوزیشن جماعتوں کے ذمہ داروں سے ملتے نظر آتے تھے، یاد رہے کہ امریکی قونصل جنرل اپنی تعیناتی کے 14ماہ بعد لاہور آئیں، یہاں گورنر، وزیراعلیٰ اور دیگر حکومتی ذمہ داروں سے ملاقاتوں کی بجائے انہوں نے مسلم لیگ ن کی لیڈر شپ سے ملاقات کو ترجیح دی۔ بتایا جاتا ہے کہ چونکہ اس وقت پاکستان میں کوئی امریکی سفیر موجود نہیں ہے اس لئے اینجلا قائم مقام سفیر کی ذمہ داریاں بھی سرانجام دے رہی ہیں اس لیے ان کا سیاسی قیادت سے ملنا کافی اہمیت کا حامل ہے۔ لہذا لاہور میں امریکی ناظم الامور اینجلا ایگلر کی مسلم لیگ ن کے صدرشہباز شریف اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز سے الگ الگ ملاقاتوں کو نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکہ، چین ، برطانیہ سمیت اہم ممالک ہمیشہ دوسرے ممالک میں اپوزیشن لیڈر شپ سے روابط رکھتے ہیں لیکن پاکستان میں پیدا غیر معمولی سیاسی حالات میں ان ملاقاتوں کو اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پاکستان کی لیڈر شپ واضح طور پر اپنا وزن چین کے پلڑے میں ڈالتے نظر آ رہی ہے اور امریکہ جس طرح خطہ میں اپنے کسی بڑے کردار کا خواہاں ہے اس حوالے سے وہ اب سیاسی لیڈر شپ سے بھی ملاقاتوں کی ضرورت محسوس کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے خیال میں نواز شریف آج کی صورتحال میں کسی بھی بڑے ملک کے ساتھ چلنے کی یقین دہانی کروا سکتے ہیں کیونکہ ان کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ کسی بھی ملک کو مخالف بنائے بغیر ہمیں اپنے مسائل کے حل کیلئے سب سے مل کر چلنا ہے اور اسی بنیاد پر وہ ہمیشہ بھارت سے بھی مذاکرات پر زور دیتے رہے اور بعد ازاں مودی ان سے ملنے لاہور آ گئے ، لیکن یہ سفارتی عمل خود سابق وزیراعظم نواز شریف کے گلے پڑ گیا جہاں تک شہباز شریف کا سوال ہے تو شہباز شریف کا رجحان ہمیشہ چین کی طرف رہا ہے اور وہ سی پیک کو پاکستان کے معاشی مستقبل کے حوالے سے اہم قرار دیتے ہوئے اس کیلئے رائے عامہ ہموار کرتے نظر آتے تھے اور چینی سفیر سمیت دیگر ذمہ داروں کا بھی ان کے حوالے سے سافٹ کارنر رہا اور ان کے اس عمل پر حکومت کے تحفظات بھی تھے لہٰذا مریم نواز اور شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتوں کے عمل کو اس تناظر میں لیا جا سکتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ امریکی ناظم الامور اس بات سے آگاہ تھیں کہ مریم نواز اپنے والد کے بیانیہ پر گامزن ہیں اور ان کے ذریعے ہی امریکی نکتہ نظر ان تک پہنچایا جا سکتا ہے ۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کے حوالے سے عام تاثر یہ بھی ہے کہ وہ اپنی عالمی حیثیت اور اہمیت کے باعث مختلف ممالک میں ایسی پوزیشن رکھتا ہے کہ کسی بھی بڑے ممالک کی حکومتوں اور اپوزیشن کو اعتماد میں لیکر کچھ منوا سکے لیکن اگر علاقائی صورتحال میں امریکی کردار کا جائزہ لیا جائے تو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بنیادی کردار کے حامل پاکستان کو امریکہ نے بھارت پر ترجیح نہیں دی جس پر پاکستان اور سیاسی قوتیں اس پر اپنے تحفظات رکھتی ہیں اور آج کی صورتحال میں بھی باوجود اس امر کے کہ افغانستان کے حالات اور یہاں تعمیرو ترقی اور خوشحالی کے عمل میں پاکستان کے کردار پر پاکستان کی سیاسی قوتوں میں کوئی بڑی تفریق نہیں لیکن پھر بھی امریکہ علاقائی سطح پر عموماً اور پاکستان میں خصوصاً اپنی پہلی سی حیثیت و اہمیت قائم کرنے میں دلچسپی ضرور دکھائے گا۔ دوسری جانب موجودہ حکومت کے ساتھ امریکی انتظامیہ کے تعلقات کی نوعیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ پچھلے دنوں امریکی سینیٹ میں افغان طالبان کی حمایت کرنے پر پاکستان کے خلاف پابندیا عائد کرنے کا ایک مجوزہ بل پیش کیا جا چکا ہے۔

Back to top button