کیا اگلا اقتدار بھی عمران کو ملنے ولا ہے؟

معروف اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستان وَن پارٹی رُول کی طرف بڑھ رہا ہے اور غیر محسوس طریقے سے پلس وَن مائنس آل کا فارمولا لاگو کیا جا رہا ہے؟
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں غریدہ فاروقی کہتی ہیں کہ وزیر اعظم عمران خان کو اس بات کی تو داد دی جانی چاہیے کے انہوں نے اپوزیشن کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کو ناکوں چنے چبوا دیے ہیں.ان حالات میں اگر اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف جارحانہ سیاست شروع نہ کی اور نواز شریف واپس نہ آئے تو نہ صرف مسلم لیگ ن کا اگلے اقتدار کا خواب ایک خواب ہی رہے گا بلکہ عمران خان کو حکومت میں ایک اور باری بھی مل سکتی ہے۔ غریدہ فاروقی کا کہنا یے کہ کشمیر انتخابات میں معلوم اور واضح جیت جب کہ سیالکوٹ ضمنی الیکشن میں اچانک اور اچھنبے دار جیت کے بعد اب دو تہائی پاکستان پر کہیں مطلق العنان اور کہیں باشرکتِ غیرے اقتدار حاصل کر لینے کے بعد عمران خان کی اگلی نظریں سندھ کی صوبائی حکومت پر جمی ہیں۔ باخبر حلقے اب یہ سوال بھی اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں کہ کیا واقعی موجودہ منظرنامے میں عمران خان ہی واحد چوائس رہ گئے ہیں؟ کیا مرکز، تین صوبوں، گلگت بلتستان اور کشمیر میں حکومت حاصل کر لینے کے بعد یہ دعوی بجا ہے کہ تحریکِ انصاف ہی اب واحد قومی سیاسی جماعت ہے؟
غریدہ فاروقی سوال کرتی ہیں کہ کیا نواز زرداری سیاست انتخابی عمل داری واقعی قرب از اختتام ہے؟ کیا اب مسلم لیگ نواز محض سینٹرل پنجاب ہی کی کارنر پارٹی بن کر رہ جائے گی؟ کیا پیپلزپارٹی محض دیہی سندھ کی جماعت کے طور پر دریائے سندھ کے اطراف اپنی سیاسی آبیاری پر قانع رہے گی؟
غریدہ کے مطابق آزاد کشمیر الیکشن میں سیٹوں کے حصول کے تناسب سے پیپلز پارٹی دوسری بڑی سیاسی قوت ابھر کر سامنے آئی ہے جس کی پہلے سے توقع کی جا رہی تھی بلکہ کشمیر ریاستی الیکشن میں ٹرینڈ بھی پیپلزپارٹی کے حق میں قدرے مثبت دکھائی دے رہا تھا۔ اس کی بنیادی وجہ پارٹی کا علاقے میں اچھے امیدواروں کا چُناؤ اور سب سے بڑھ کر بلاول بھٹو کی اچھی الیکشن کیپمین تھی۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا 2023 میں اگلے قومی انتخابات کے لیے پیپلز پارٹی خود کو تگڑی انتخابی پارٹی کے طور پر پیش کر سکتی ہے؟ فی الوقت تو ایسا ہونا مشکل نظر آتا ہے کیونکہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی انتخابی صورت حال کچھ زیادہ تسلی بخش نہیں۔ حال ہی میں آصف زرداری نے بھی پنجاب میں پارٹی کی تنطیمِ نو کی خاطر دورہ کیا تھا مگر ماسوائے ایک دو کے کوئی بھی اچھا انتخابی امیدوار حاصل کرنے میں کامیابی نہ ہو سکی۔ ایسی صورت حال میں تو مشکل کیا ناممکن ہی دکھائی دیتا ہے کہ دو سال بعد ہی پیپلز پارٹی اس پوزیشن میں آ سکے کہ پورے ملک سے تنِ تنہا حکومت بنانے کے لیے سیٹیں حاصل کر سکے۔جنوبی پنجاب میں البتہ پیپلز پارٹی کی پوزیشن اچھی ہے اور جماعت اگر تھوڑا زیادہ زور لگائے تو کوئی وجہ نہیں کہ وسیب پیپلز پارٹی کو زیادہ نمائندگی دینے میں کنجوسی کرے۔
غریدہ فاروقی کے خیال میں مسلم لیگ ن کا معاملہ ذرا وکھرا ہے۔ حالیہ دنوں میں جس طرح ن لیگ کے اندر سیاسی اور انتخابی حکمتِ عملی کے حوالے سے اختلافی نوٹ دیکھنے میں آئے ہیں اس کنفیوژن کا ن لیگ کے ووٹر پر کافی اثر پڑا ہے۔ سیالکوٹ کی حالیہ ضمنی الیکشن شکست میں لیگ کو نقصان تحریکِ انصاف کے کشمیر الیکشن جیتنے سے بھی ہوا ہے کیونکہ یہ علاقہ کشمیری ووٹر کی آبادی سے بھرا ہوا ہے۔ سیالکوٹ سے کشمیر کی دو سیٹوں پر تحریکِ انصاف کی جیت کی ہوا نے پنجاب اسمبلی ضمنی الیکشن کے لیے حلقے کے کشمیری ووٹر کو بھی متاثر کیا اور نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ لیکن بہرحال ن لیگ کا سینٹرل پنجاب سے سیٹ ہارنا ایک بڑا اپ سیٹ تو ہے، یہ الگ بات ہے کہ پی ٹی آئی امیدوار اور حکومتی حامیوں نے اس سیٹ کو جیتنے کے لیے پیسے کا بھی بےدریغ استعمال کیا۔ فی الحال تو مسلم لیگ ن کشمیر اور سیالکوٹ ضمنی الیکشن کے لیے دھاندلی کا موقف اختیار کر کے پی ٹی آئی جیت کو کِرکِرا کرنا چاہتی ہے مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ دھاندلی کا سیاسی بیانیہ ثبوت کے بِنا محض ٹُنڈمُنڈ اور کھوکھلا ہی ہے۔ جس طرح تحریکِ انصاف حکومت گذشتہ تین سالوں میں اپوزیشن کے خلاف کرپشن کے بیانیے کے خلاف کوئی ثبوت نہیں دے سکی اور محض سیاسی بیان بازی نے حکومت کے اس بیانیے کو خود ہی نقصان پہنچایا ہے، ٹھیک اسی طرح جب تک اپوزیشن بھی پی ٹی آئی حکومت کے خلاف دھاندلی کی پیداوار ہونے کا سیاسی بیانیہ متعلقہ فورمز پر ثابت نہ کر دے تب تک یہ بیانیہ آہستہ آہستہ عملی طور پر کمزور ہی پڑتا جائے گا۔
غریدہ فاروقی کا کہنا ہے کہ کشمیر اور سیالکوٹ میں مسلم لیگ ن کے پاس اگر منظم دھاندلی کے واقعی ثبوت ہیں تو الیکشن کمیشن سمیت تمام متعلقہ فورمز پر فوراً جمع کروانے چاہیں اور عوام کے سامنے بھی لائے جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔ تاحال تو اپوزیشن کے طرف سے محض سیاسی بیان بازی پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے۔ 2018 الیکشن کے بعد بھی تین سال تک اپوزیشن کی طرف سے لیگل فورمز پر دھاندلی کا مقدمہ نہیں لڑا گیا بلکہ اسے محض سیاسی فورمز تک ہی محدود رکھا گیا جس کا نتیجہ آج یہ نکلا کہ خود اپوزیشن کے ہاتھوں عمران خان کی حکومت نہ صرف مضبوط ہوتی جا رہی ہے بلکہ اس کے پھیلاؤ میں بھی اضافہ آ رہا ہے۔ اپوزیشن کی داخلی تقسیم، واضح ایجنڈے اور متحد حکمتِ عملی کے فقدان کی وجہ سے پہلے ہی پی ڈی ایم جیسی قوت پِٹ گئی اور اپوزیشن مشترکہ محاذ کی ناکامی نے عمران خان کا حوصلہ بڑھایا۔ عوامی مسائل خاص طور پر مہنگائی، بےروزگاری، غربت جیسے سنگین ایشوز پر جارحانہ اپوزیشن کے خلا نے تحریکِ انصاف کو مزید ہلّہ شیری مہیا کی ہے۔
غریدہ کے مطابق حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ اسمبلیوں میں چند روز کےشور شرابے، چند غصّیلے سیاسی بیانات، چند جوشیلے ٹویٹس کے بعد اپوزیشن جھاگ کی طرح بیٹھ جاتی ہے اسی لیے اسے احتساب کا کچھ زیادہ خوف نہیں۔ عوام بھی چند روز کے رونے دھونے اور حکومت کو کوسنے کے بعد اسی تنخواہ پر روزی روٹی کمانے اور مہنگائی جھیلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
غریدہ کہتی ہیں کہ عمران خان آج حکومت میں ہیں تو بھی فردِ واحد کی حکومت، وَن پارٹی سسٹم، وَن پارٹی رُول کی بازگشت سنائی دیتی ہے جس کا بڑا کریڈٹ ماشا اللہ خود فرینڈلی اپوزیشن کو جاتا ہے۔ مُدّعا فی الحال متفقہ علیہہ یہی ہے کہ عمران خان کو ایسا وزیر اعظم بنایا جائے جو پہلی بار ہی اپنی مدت پوری کرے اور کرم فرما اپوزیشن کے تعاون سے ایسا ممکن ہونے میں کوئی رکاوٹ حائل نظر نہیں آتی۔ آئندہ عام انتخابات جلد ہوں یا مقررہ وقت پر، ایک بات تو طے ہے۔ مسلم لیگ ن اگر آئندہ حکومت کی خواہش مند ہے تو حکمتِ عملی کی باگ دوڑ شہباز شریف کے ہاتھ دینے میں بہتری ہی نظر آتی ہے۔ سیاست نہ تو مستقل جارحیت نہ عاجزانہ مفاہمت کا نام ہے مگر ان دونوں کے مابین ایک قابلِ قبول، متوسط، متوازی، مڈل گراؤنڈ کا اشتراک برقرار رہے اور بقائے باہمی کے اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے مستقبل کی پیش بندی کی جائے تو حالات بہتری کی جانب گامزن ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ بات بھی طے ہے کہ جب تک نوازشریف پاکستان سے باہر رہیں گے، مسلم لیگ ن کا حکومت کا خواب بھی خواب ہی رہے گا۔ عام انتخابات میں اب کچھ زیادہ عرصہ سیاسی اور انتخابی اعتبار سے برقرار تو رہا نہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کو اپنی اپنی چالوں کو نئی سیاسی بساط کے مطابق بدلنا اور ڈھالنا ہو گا وگرنہ عمران خان کی خود کو واحد قومی لیڈر بنانے کی برق رفتاری اسی جارحانہ پیس کے ساتھ قائم رہے گی اور نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کو کپتان کی دوسری اننگز بھی برداشت کرنا پڑے گی۔
