کیا ایک اور ایکسٹینشن کے لیے حکومت تبدیل کی جائے گی؟

نئے آئی ایس آئی چیف کی تقرری پر سٹینڈ لینے کے بعد یو ٹرن مارنے والی کپتان حکومت اب مسلسل لڑکھڑا رہی ہے اور اسکی کمزوری سب پر عیاں ہو چکی ہے۔ لہذا اب سپریم کورٹ کی جانب سے بھی اشارے آنے شروع ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب مشکلات کے اس طوفان میں جہاز کے سب سے طاقتور کپتان کو اپنی فکر ہے، اسے ہر صورت ایک ایکسٹینشن اور چاہیئے جسکی خاطر وہ نئے الیکشن کروانے اور ایک نئی حکومت بنوانے پر بھی آمادہ ہے جو اسے ایکسٹینشن دے سکے۔ ان خیالات کا اظہار معروف اینکر پرسن انیق ناجی نے اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں کیا ہے۔
انیق ناجی کہتے ہیں دوسری جانب ملکی معیشت اور پاکستانی عوام دونوں کا برا حال ہے جس کی ذمہ داری ملک کی ناکام ترین حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ تیزی سے بند ہوتی ہوئی دکانیں، فیکٹریاں، کاروبار اور ختم ہوتی ہوئی نوکریاں، سکڑتی معیشت، برھتی مہنگائی اور سیاسی بے چینی آخر ہمیں کہاں لے جائے گی۔ انیق کہتے ہیں کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اسی لئے یہ کھیل سیاست دان اور عوام کے درمیان ہی رہے تو چل جاتا ہے کیونکہ عوام نے سیاست دان پر مسلسل نظر رکھی ہوتی ہے اور وہ اسے سزا بھی دے سکتے ہیں، لیکن جب اس کھیل میں اسٹیبلشمنٹ اپنا ڈنڈا گھماتی ہوئی آ جاتی ہے تو پھر سیاست میں دل تو دور۔کی بات، عقل بھی نہیں رہتی۔
انیق ناجی اظہار افسوس کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک جانب پاکستانی عوام کپتان حکومت کی نااہلی اور ناکامی کے باعث تباہی اور بربادی کے دھانے پر پہنچ چکے ہیں لیکن دوسری جانب حکومت ان کی بہتری کے لیے کچھ کرنے کی بجایے تحریک طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں مصروف ہے جس کے نتیجے میں ایک ماہ کی فائر بندی بھی ہو چکی۔ چوہدری فواد نے قوم کو بتایا ہے کہ طالبان کو آئین پاکستان کو تسلیم کرنا ہو گا لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ جس آئین کو خود ہم نے ایک دن کے لئے بھی نہیں مانا، ٹھڈے مار مار کے اسے دو کوڑی کا بنا دیا ، اس آئین کو طالبان کیسے اور کیوں مانیں۔
انیق ناجی کہتے ہیں کہ حکومت اور تحریک طالبان کے مابین جاری مذاکراتی عمل کے حوالے سے عوام سارے سوالات ہیں جن کے جواب نہیں ئے جا رہے۔ عوام جاننا چاہتے ہیں کہ مذاکرات کہاں ہوئے؟ یہ حکومتی نمائندوں کے ساتھ ہوئے یا عسکری نمائندوں کے ساتھ؟ پاکستای مذاکراتی ٹیم میں کون لوگ شامل تھے؟ اس ٹیم کی سربراہی کون کر رہا تھا؟ایک وزیر دفاع ہوتے ہیں جس کا نام پرویز خٹک ہے، کیا وہ ان مذاکرات کی خبر رکھتے تھے؟ ایک وزارت داخلہ کی بھی ہے جسے شیخ رشید چلا رہے ہیں، کیا وہ ان مذاکرات میں شامل ہیں؟ انیق کہتے ہیں کہ خدا کرے کہ مزاکرات کامیاب ہو جائیں، لیکن اگر انکے نتیجے میں ہونے والا معاہدہ ناکام رہا تو اسکا حساب کون دے گا؟ سوال یہ بھی ہے کہ کیا اندھیروں میں ہونے والا ان خفیہ مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان نے طالبان کو تاوان بھی ادا کیا ؟ سوال یہ بھی ہے کہ مذاکرات کے نتیجے میں تحریک طالبان کے کتنے قیدی چھوڑے گئے؟ کیا اب طالبان کو سابقہ قبائلی علاقوں پر دوبارہ سے حکومت کرنے کا اختیار دیا جا رہا ہے یا انہیں یہ کہا گیا ہے کہ گھبرائیں نہیں، ہم آئیندہ چند سالوں میں اسلام آباد ہی آپ کے حوالے کر دیں گے؟
انیق ناجی کہتے ہیں کہ ایسا تو نہیں کہ تحریک طالبان کے ساتھ ایک پختون اسلامی ریاست کے قیام کا معاہدہ کیا جا رہا ہو۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا عمران خان کے بعد اب ہماری اسٹیبلشمنٹ ایک نیا تجربہ طالبان کی باضابطہ حکومت بنانے کا کرنا چاہتی ہے؟ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ تحریک طالبان کوئی ایک منظم گروہ بھی نہیں بلکہ یہ مختلف گروپس پر مشتمل ایک غیر منظم تنظیم ہے۔ انیق کہتے ہیں اگر یہ بات درست ہے تو پھر طالبان کے کس گروپ سے مذاکرات ہو رہے ہیں اور کونسے گروپس ان میں شامل نہیں ہوئے؟ سوال یہ بھی یے کہ آپ ایک گروپ سے مذاکرات کریں اور دوسرا نہ مانے تو پھر کیا ہو گا ؟ کل کو اگر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ طالبان نے اپنا معاہدہ توڑ دیا تو دوسری جانب سے طالبان یہہی دعویٰ کریں گے کہ معاہدہ تو پاکستان نے توڑا ہے تو پھر عام پاکستانی کہاں کھڑا ہو گا کیونکہ اس کے پاس معاہدے کی کوئی تفصیل موجود ہی نہیں اور نہ ہی وہ جانتا ہے کہ پاکستان کے جانب سے کس نے طالبان کو ضمانتیں دیں اور اسے ایسا کرنے کا اختیار کس نے دیا؟ انیق ناجی کے بقول، اندھیروں میں ہونے والے ان خفیہ مذاکرات کی ایک تاریخ ہے جس کے نتائج پاکستان اور اسکے عوام کے کیے ہمیشہ بھیانک ہی نکلے ہیں۔
