ملالہ کے مخالفین کو اس کی شادی پر بھی تکلیف شروع


جہاں زیادہ تر پاکستانی ملالہ یوسف زئی کی شادی کے فیصلے پر خوش ہیں وہیں ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں جو ایک نوبیل انعام یافتہ لڑکی کی جانب سے اتنی چھوٹی سی عمر میں ایک عام پاکستانی کو جیون ساتھی بنانے کے فیصلے پر حیران ہیں اور تنقید کر رہے ہیں۔
ملالہ کی شادی پر جہاں انھیں مبارکباد کے پیغامات بھجوائے جا رہے ہیں وہیں ٹویٹر پر شادی میں عورت کی چوائس سے لے کر معاشرتی دباؤ کے مختلف پہلو بھی موضوع بحث ہیں۔ گذشتہ دنوں جب ملالہ نے اپنے نکاح کی تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کیں تو بہت سے لوگوں نے اس خبر پر اپنی خوشی اور خوشگوار حیرت کا اظہار اس نوعیت کے سوالات پوچھتے ہوئے کیا کہ ملالہ کے شوہر کون ہیں اور کیا کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو دیکھا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ اس شادی میں روایتی طور پر دلہن کے نکاح کے جوڑے اور میک اپ میں دلچسپی لینے سے زیادہ بہت سے لوگوں نے ایسے تبصرے کیے جو ظاہر کرتے ہیں جیسے ملالہ کی شادی ان کے لیے اچھنبے کی بات ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر لوگوں نے بات ملالہ کے شادی سے متعلق خیالات پر بھی کی اور اب بھی کر رہے ہیں لیکن یہ بحث اب ایک نیا رُخ اختیار کرتی نظر آ رہی ہے جہاں بات کسی بھی عام لڑکی کے شادی کے فیصلے میں اس کی مرضی اور وقت کے چناؤ تک پہنچ گئی ہے۔
بی بی سی کے مطابق سوشل میڈیا پر جون 2021 کے ووگ میگزین میں شائع ہونے والا ملالہ یوسف زئی کا وہ انٹرویو بھی زیربحث ہے جس میں انہوں نے شادی نہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتی انسان کو شادی کیوں کرنی ہوتی ہے۔‘ تب تو ان پر سوال اٹھایا ہی گیا تھا کہ وہ ایسی بات کیوں کر رہی ہیں لیکن اب جبکہ انھوں نے شادی کر لی تو اس فیصلے کا انکے سابقہ بیان سے موازنہ کیا جا رہا ہے۔ شاید کسی نے درست ہی کہا ہے کہ یہ دنیا کسی بھی حال میں جینے نہیں دیتی۔ سوشل میڈیا صارف تسلیمہ نسرین نے ایک قدم اور آگے بڑھ کر اپنے ردعمل میں کہا کہ ’میں حیران رہ گئی جب مجھے پتہ چلا کہ ملالہ نے پاکستانی بندے سے شادی کی ہے۔ وہ فقط 24 سال کی ہے۔ میرا خیال تھا کہ وہ آکسفورڈ میں پڑھنے گئی وہ کسی ترقی پسند ہینڈسم کی محبت میں گرفتار ہو گی۔ شادی کے بارے میں 30 سال کی عمر سے پہلے نہیں سوچے گی لیکن۔۔۔ تسلیمہ کو جواب دیتے ہوئے ایک اور صارف ماہا خالد نے سوال کیا کہ کیا یہ آپ کے اپنے خیالات ہیں یا آپ مذاق کرنے کی کوشش کر رہی ہیں؟ اگر مذاق ہے تو ہا ہا لیکن اگر نہیں تو اس کی زندگی اس کی مرضی۔۔۔ کسی کو بھی اپنی ذاتی زندگی کی چوائسز کی وضاحت نہیں کرنی چاہیے۔
اس معاملے پر عمار رشید نے لکھا کہ ’ملالہ آپ کے لیے کوئی ایسا کینوس نہیں ہے جہاں آپ اپنے تمام عجیب و غریب نظریاتی تصورات پیش کر سکیں۔ یہ سب کچھ اب تھوڑا سا عجیب ہو رہا ہے۔ اسے اور اس کے پارٹنر کو امن اور ان کی مرضی کے ساتھ زندگی گزارنے دیں۔ لیکن اس کے بعد تسنیمہ کی اگلی ٹوئٹ آ گئی اور انہوں نے کہا کہ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار ہونے سے قبل شادی نہیں کرنی چاہیے۔ اس پر ایک صارف راجیو نے لکھا کہ یہ بہت حتمی انداز کا جملہ ہے، میرے خیال سے شادی کرنے کے لیے محبت اور اعتبار ضروری ہے اور اگر ایک جوڑا اچھا کما رہا ہے تو مسئلہ کیا ہے۔لیکن یہاں یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا شادی واقعی عورت کی اپنی چوائس ہوتی ہے۔
ندا کرمانی نے لکھا کہ شادی کوئی کامیابی نہیں، یہ زندگی کی چوائس ہے۔۔۔ میں نے اپنی زندگی میں بہت سی خواتین دیکھی ہیں جنھیں اس ہر لحاظ سے رکاوٹوں کا سامنا رہا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ سوسائٹی کے پریشر کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اگرچہ انھوں نے اپنی ٹویٹس میں واضح کیا کہ وہ ملالہ کی شادی کے فیصلے سے اس بحث کو نتھی نہیں کر رہیں لیکن بہت سی ٹوئٹس میں انھیں منفی ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ بلاخر انھوں نے اس بحث کو یہ کہہ کر سمیٹا کہ ’بہت سی فیمنیسٹ اور دیگر خواتین شادی کرتی ہیں میں ان کو اس پر نہیں پرکھتی میں سسٹم کو پرکھتی ہوں جو تمام ممکنات کی اجازت نہیں دیتا۔‘
خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی سماجی کارکن نایاب گوہر نے اس معاملے پر گفتگو میں کہا کہ جہاں تک ملالہ کی شادی ہے یا کسی عوامی شخصیت کی، تو اس پر بات تو ہوتی ہے لیکن ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمیں کسی کی زندگی کے ایسے مواقع کو اپنے نظریات کے پرچار کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ تاہم وہ سمجھتی ہیں کہ یہ درست ہے شادی میں پریشرز بھی ہوتے ہیں، یہ ایک نظام ہے جس کے اندر ہم رہ رہے ہیں لیکن ایسا نہیں کہ ہر عورت پر ایسا پریشر ہو خاص طور پر ایسی خواتین جنھوں نے زندگی میں نمایاں کام کیا جیسا ملالہ نے۔ وہ کہتی ہیں کہ ہر چوائس کے لیے عورت کو پرکھنا خا جج نہیں کرنا چاہیے۔ عورت کے معاشی طور پر خودمختار ہونے کے معاملے پر کی جانے والی بات کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو معاشی طور پر خود مختار ہونے کے لیے اکثر اوقات زور نہیں دیا جاتا بلکہ اس خود مختاری کے حصول کے لیے ہی اس کی شادی کی جاتی ہے۔
لیکن نایاب گوہر سمجھتی ہیں کہ اس حوالے سے اب ہمارے معاشرتی رویوں میں تبدیلی آ رہی ہے۔

Back to top button