کیا بطور PTV ہیڈ گندے انڈے کھانا نعیم بخاری کا مقدر ہے؟


پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی بھرمار سے پہلے عوام کی تفریح طبع کا مرکز ایک ہی سرکاری نشریاتی ادارہ یعنی پاکستان ٹیلی وژن ہوا کرتا تھا، پاکستان میں ٹی وی کی تاریخ میں پی ٹی وی کا کلیدی کردار ہے۔ نجی چینلز کی آمد سے پہلے کا دور سنہری دور کہلاتا ہے۔ لیکن حالیہ دور میں سرکاری ٹی وی اپنا معیار برقرار نہ رکھ سکا بلکہ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ مزید زوال کی جانب گامزن ہے۔
تاہم حال ہی میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے اپنے وکیل اور پارٹی یک رکن نعیم بخاری کو پاکستان ٹیلی ویژن کا چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔ ٹی وی کمپیئر اور معروف گلوکارہ طاہرہ سید کے سابق خاوند نعیم بحاری کے سرکاری ٹی وی کے چیئرمین نامزد ہونے کے بعد ایک بار پھر یہ بحث شروع ہوگئی ہے کہ آیا پاکستان ٹیلی ویژن کا سنہرا دور واپس آ سکتا ہے کہ نہیں، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ نعیم بخاری پاکستان ٹیلی ویژن کے سنہرے دور کا حصہ رہے ہیں۔ ان کی آنکھوں کے سامنے پی ٹی وی عروج سے زوال کی طرف گیا ہے، ان کی بطور چیئرمین پاکستان ٹیلی ویژن کس حد سود مند ثابت ہو سکتی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اپنی تعیناتی کے ایک روز بعد ہی انھوں نے یہ اعلان کر دیا کہ پاکستان ٹیلی ویژن پر صرف حکومت کو کوریج ملے گی اور اپوزیشن کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔
سچ تو یہ ہے کہ پی ٹی وی نیوز ہمشہ ریاستی پالیسی کے تحت چلتا ہے اور آج کل نعیم بخاری کے اس بیان کا بہت شہرہ ہے۔ معاشرے کا ایک حلقہ ان کے اس بیان پر بہت زیادہ تنقید کر رہا ہے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ یہ PTV پہلا چیئرمین ہے جو سچ بول رہا، نعیم بحاری سے پہلے جتنے بھی چئیرمین آئے ہیں انہوں نے یہ کہا کہ اب ٹی وی پر حکومت اور حزب اختلاف دونوں کو برابر کا وقت ملے گا مگر ایسا نہیں ہوا. لہٰذا یہ بحث ہی فضول ہے.
نعیم بخاری نے سچ سچ بتا دیا کہ پی ٹی وی ہمیشہ سے ہی سرکاری بھونپو رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ اپنی تعیناتی کے چند روز بعد پی ٹی وی کی 56 ویں سالگرہ پر ایک خصوصی ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے نعیم بخاری نے کہا کہ وہ پی ٹی وی کا کھویا ہوا مقام اسے واپس دلانے کی کوشش کریں گے۔ لیکن ایک بات یاد رکھی جائے پی ٹی وی لوگوں کے لئے انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ ہے اور ہمیں اس سائیڈ پر زیادہ فوکس کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہیں گے کہ جب ان کا پی ٹی وی کے ناظرین سے سامنا ہو تو وہ انہیں گندے انڈے اور گندے ٹماٹر نہ ماریں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ نعیم بخاری عوام سے گندے انڈے اور گندے ٹماٹر کھانے سے بچ پائیں گے یا نہیں۔
اگر نعیم بخاری اپنی کی ہوئی بات کے مطابق پی ٹی وی کی انٹرٹینمنٹ سائیڈ کو دوبارہ سے اٹھانا چاہتے ہیں تو پھر ان کو پی ٹی وی ہوم کو بہتر بنانے پر فوکس کرنا ہوگا کیونکہ پی ٹی وی ہوم پر ڈرامے دکھائے جاتے ہیں۔ جب پی ٹی وی کا عروج تھا تو کراچی سے حسینہ معین، فاطمہ ثریا بجیا، نور الہدیٰ شاہ، انور مقصود، عبدالقادر جونیجو جیسے ڈرامہ نگار شہزاد خلیل، محسن علی، شعیب منصور جسے ڈائریکٹر لاہور سے اشفاق احمد، یونس جاوید، بانو قدسیہ، امجد اسلام امجد جسے ڈرامہ نگار، نصرت ٹھاکر، یاور حیات، ایوب خاور جیسے ہدایت کار، پشاور سے ڈاکٹر ڈینس ایزک کوئٹہ سے سجاد احمد، اسلام آباد سے سید شاکر عزیز اور فاروق قیصر جیسے ڈائریکٹرز اور ڈرامہ نگار ہوتے تھے۔
لہذا سب بڑا چیلنج جو نعیم بخاری کو درپیش ہو گا وہ پی ٹی وی کا ڈرامہ بحال کرنا ہے۔ پچھلے طویل عرصے سے پی ٹی وی کے پانچوں مراکز نے ڈرامے بنانا بند کر دیا ہے۔ اب پی ٹی وی پر جو بھی ڈرامہ نشر ہوتا ہے وہ نجی شعبے میں تیار کیا جاتا ہے اور اس کا میعار بہت سطحی ہوتا ہے۔ آخری معیاری ڈرامہ جو پی ٹی وی سے نشر ہوا وہ رنگیل پور تھا جس کے ڈائریکٹر عثمان پیر زادہ تھے جو اس کام کے استاد ہیں۔ پی ٹی وی کے سنہرے دور کی بحالی کےلیے تمام مراکز جس میں اب ملتان بھی شامل ہے ان کو اپنے ڈرامے خود بنانے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی وی ایوارڈز کو بحال کرنا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ جب مقابلے کی فضا بنے گی تب میعاری کام ہوگا، پی ٹی وی کی اولین ترجیح اپنی ڈرامہ پروڈکشن ہونی چاہیے۔
تجزیہ کار کہتے ہیں کہ یہ غلط بات ہے کہ لوگ پی ٹی وی نہیں دیکھنا چاہتے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا سب سے بڑا ثبوت ترک ڈرامے ارطغرل غازی کی بے مثال کامیابی ہے ۔ اس ڈرامے کے دوران چلنے والے اشتہارات سے پی ٹی وی اب تک کڑروں روپے کما چکا ہے۔ اگر آپ معیاری ڈرامے بنائیں گے تو لوگ دیکھے گے آپ کے پاس معیاری ڈرامہ نگاروں کی کمی نہیں ہے صرف جدید تکنیک سیکھنے کی ضرورت ہے جو آپ ترکی اور بھارت سے سیکھ سکتے ہیں ان دونوں ممالک میں ڈرامہ میکنگ کا کام جدید تکنیک سے ہو رہا ہے اسی لیے ان کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔
ہمارے پاس اس وقت خلیل الرحمٰن قمر جسا کامیاب ڈرامہ نگار موجود ہے جس کے ڈرامے، میرے پاس تم ہو نے کامیابی کے ریکارڈ قائم کیے اور اس ڈرامے کی آخری دو اقساط سنیما گھروں میں نمائش کےلیے پیش کی گئی، لہٰذا نئے چیئرمین نعیم بخاری کو ان نکات پر کام کرنا چاہئے، پی ٹی وی کے سنہرے دور کی بحالی اس کے ڈراموں سے مشروط ہے، جہاں تک پی ٹی وی اسپورٹس کی بات ہے تو وہ کماؤ پوت ہے پہلے ورلڈ کپ پھر پی ایس ایل اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہر دورے کے رائٹس اس کے پاس ہیں اب تو ڈومیسٹک کرکٹ بھی دکھائی جا رہی ہے لہٰذا سارا فوکس چئیرمین کو پی ٹی وی ہوم پر کرنا ہوگا اور ڈرامے بہتر کرنے ہوں گے۔ یہی ایک طریقہ ہے پاکستان ٹیلی ویژن کی بحالی کا اور کچھ نہیں۔ لیکن اگر نعیم بخاری ایسا کرنے میں ناکام رہے تو پھر گندے انڈے اور گندے ٹماٹر نعیم بخاری کا مقدر ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button