کیا جسٹس بندیال فائز عیسی بنچ سے علیحدہ ہو جائیں گے؟

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کے حوالے سے دائر درخواستوں کی سماعت کرنے والے بینچ کے سربراہ جسٹس عمرعطا بندیال بینچ کی سربراہی جاری رکھنے یا چھوڑنے کے حوالے سے آئندہ چند روز میں فیصلہ کریں گے۔ سپریم جوڈیشل کونسل میں بطور ممبرشمولیت کے بعدان کی طرف سے بینچ کی سربراہی چھوڑنے کا فیصلہ متوقع ہے۔
سپریم جوڈیشل کونسل سپریم کورٹ کے تین سینئر ججز پر مشتمل ہوتی ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان اور اعلیٰ عدالتوں کے دو سینئر جج اس میں شامل ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں سپریم جوڈیشل کونسل کی نئی تشکیل اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ جسٹس کھوسہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال کونسل کے نئے ممبر بن گئے ہیں۔ دوسری طرف جسٹس بندیال سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف خاندانی اثاثوں کی تفصیلات ظاہر نہ کرنے پر برطرفی کے صدارتی ریفرنس کے خلاف دس ججوں پر مشتمل بینچ کی سربراہی بھی کر رہے ہیں۔
جسٹس عمر عطا بندیال کی بینچ کی سربراہی جاری رکھنے یا چھوڑ دینے کے حوالے سے قانونی ماہرین متضاد آراء رکھتے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ جسٹس عمر عطا بندیال کو عدم استحکام کے امکانات سے بچنے کے لئے سپریم کونسل میں بیٹھنے کے حوالے سے اپنے اختیارات کا انتخاب کرنا چاہئے کیونکہ اگر جسٹس بندیال نے بینچ کی صدارت جاری رکھی اور بعد میں فل بینچ نے جج کی درخواست مسترد کردی تو سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے بیٹھنے پر اعتراض کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ قبل ازیں دوججزجسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس اعجاز الحسن اعتراض اٹھائے جانے کے بعد فل بینچ میں بیٹھنے سے انکار کر چکے ہیں۔ دوسری طرف اگر جسٹس بندیال سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کی سربراہی سے دستبردار ہوتے ہیں تو جسٹس مقبول باقر نو ممبران کے بینچ کی صدارت کریں گے۔ اس حوالے سے فیصلہ جسٹس عمر عطا بندیال خود کریں گے کہ وہ سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کی سربراہی جاری رکھیں گے یا سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن کی حیثیت سے ذمہ داریاں سر انجام دیں گے۔
یاد رہے کہ قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف صدارتی ریفرنس کے حوالے سے دائر درخواستوں کی 21 سماعتیں ہو چکی ہیں۔ جسٹس عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک اور بابر ستار موسم سرما کی تعطیلات سے پہلے اپنے دلائل مکمل کرچکے ہیں۔ کیس کی اگلی سماعت پندرہ جنوری کے بعد متوقع ہے۔ جسٹس بندیال ان ججوں میں شامل ہیں جنہوں نے کیس کی سماعت کے دوران آرٹیکل 211اور 248 کےپیش نظر پٹیشن برقرار رکھنے کے حوالےسےسوالات اٹھائے تھے۔
دوسری طرف حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کی خواہش ہے کہ جسٹس بندیال سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ رہیں۔ تاہم تحریک انصاف کے اکثر رہنماؤں کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ کے جج کے خلاف صدارتی ریفرنس دائر کرنا دانشمندانہ فیصلہ نہیں تھا ان کا کہنا ہے کہ ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہئے جب بھی کسی ایگزیکٹیو نے جج کو ہٹانے کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا رخ کیا تو حکمت عملی ناکام ہوئی۔ سپرئیر بار کے اراکین کو بھی یقین ہے کہ کونسل کی اکثریت جسٹس عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دے کر مسترد کردے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button