کیا جناح اور لیاقت علی خان کے اختلافات کی وجہ ایک عورت تھی؟

تاریخ کے پنوں پر نگاہ دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ بانی پاکستان اور پہلے گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح اور ملک کے پہلے وزیرِ اعظم خان لیاقت علی خان کے مابین قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی اختلافات پیدا ہوگئے تھے جن کی ایک بڑی وجہ قائداعظم کی ہمشیرہ فاطمہ جناح اور لیاقت علی خان کی اہلیہ بیگم رعنا لیاقت کی باہمی چپقلش تھی۔ چنانچہ جب قائد اعظم نے ایک مرتبہ بیگم رعنا لیاقت کی سخت سرزنش کی تو وزیر اعظم لیاقت علی خان نے قیام پاکستان کے صرف چار برس بعد ہی دسمبر 1947 میں تب کے گورنر جنرل محمد علی جناح کو اپنا استعفی بھجوا دیا تھا جو انہوں نے رد کر دیا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو عام تاثر یہی ملتا ہے کہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور ملک کے پہلے وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان میں مثالی دوستی تھی۔ قیام پاکستان کے بعد لکھی جانے والی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ لیاقت علی خان قائد اعظم محمد علی جناح کے معتمد خاص تھے اور ہمیشہ قائد کی رائے کا احترام کیا کرتے تھے۔ اس حوالے سے پاکستانی ہی نہیں بلکہ اکثر یورپی مصنفین کی کتابوں میں دیے گئے حوالوں سے بھی یہی تاثر ملتا ہے کہ محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کی باہمی رنجش کے بارے میں باتیں محض افواہیں تھیں۔ ان مورخین کا استدلال یہ ہے کہ 1947 قیام پاکستان میں پیدا ہونے والی سیاسی اور انتظامی خرابیوں کی وجہ قائداعظم اور لیاقت علی خان کی باہمی رقابت نہیں تھی بلکہ اس کے دیگر اسباب تھے۔لیکن سرکاری سرپرستی میں لکھی جانے والی کتابوں میں درج تاریخ کو رد کرتے ہوئے بہت سے مصنفین نے اس نکتے کو بنیاد بنایا ہے کہ آخر لیاقت علی خان کی وزارت عظمی کے دوران بانی پاکستان کس طرح کراچی کی ایک سڑک پر بے یارو مددگار کئی گھنٹوں ایک خراب ایمببولینس میں پڑے رہے اور پھر کچھ ہی گھنٹوں بعد ان کا انتقال ہوگیا۔
پنجاب کے سابق چیف سیکریٹری ایس کے محمود نے 2004 میں اپنے ایک آرٹیکل میں یہ دعوی کیا تھا کہ محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے مابین واضح اور گہرے اختلافات تھے تاہم ان کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت چھپایا گیا۔ ایس کے محمود کے مطابق لیاقت علی خان اور گورنر جنرل محمد علی جناح کے مابین بڑا تنازعہ بھارت سے آنے والی مہاجرین کی آباد کاری کو لے کر تھا۔ کہا جاتا ہے کہ بھارت سے آنے والے پہلے مسلمانوں کو کراچی سمیت ملک بھر میں آباد کرنا حکومت کی ذمہ داری تھی تاہم لیاقت علی خان مستقبل کے اہداف کو مدنظر رکھتے ہوئے کراچی میں اپنے آبائی علاقے کے لوگوں کو سیٹل کروا کے اپنا انتخابی حلقہ مضبوط کرنا چاہتے تھے۔
اسی طرح 2004 میں نصیر علی شاہ نے نیا زمانہ میگزین میں لکھا کہ محمد علی جناح اور لیاقت علی خان کے درمیان دوستانہ تعلقات ہرگز نہیں تھے۔ بعض مصنفین کی مطابق شاید اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ جناح دراصل لیاقت علی خان کی بجائے نواب آف بھوپال حمیداللہ خان کو اپنا وزیر اعظم مقرر کرنا چاہتے تھے۔ امیر عبداللہ خان روکھڑی کی کتاب میں اور میرا پاکستان میں تحریر ہے کہ بیگم رعنا لیاقت کی وجہ سے قائد اعظم اور ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح وزیر اعظم لیاقت علی خان سے ناخوش تھے۔ ان دونوں کا خیال تھا کہ بیگم رعنا ایک مغرور اور اکھڑ عورت ہے اور اپنے شوہر کی آشیر باد سے ملک کے انتظامی معاملات میں بے جا مداخلت کر رہی ہیں۔
2005 میں محمد علی جناح سے متعلق ایم آر کاظمی کی کتاب میں پروفیسر راجر ڈی لونگ کی تحقیق کے حوالے سے یہ بڑا انکشاف سامنے آیا کہ گورنر جنرل محمد علی جناح اور لیاقت علی خان میں اختلاف اس حد تک بڑھ گئے تھے کہ 27 دسمبر 1947 کو لیاقت علی خان نے اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے کا اعلان کرتے ہوئے اپنا استعفی گورنر جنرل قائد اعظم محمد علی جناح کو بھجوا دیا تھا۔ اس استعفے کی ایک کاپی بیگم رعنا لیاقت نے اپنے ایک برطانوی دوست کو بھی بھجوائی تھی۔ جناح کو بھجوائے گئے استعفے میں لیاقت علی خان نے لکھا کہ میری اہلیہ نے کل رات کے کھانے میں آپ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے حوالے سے مجھے بتایا۔ مجھے یہ جان کر افسوس ہوا کہ اسے کسی نامعلوم وجہ سے آپ کی ناراضی برداشت کرنا پڑی۔ میں سمجھتا ہوں کہ آپ کی جانب سے سخت تنقید اور مذمت سے بھرپور الفاظ سن کر وہ کچھ بھی نہیں کر سکتی تھیں کیونکہ آپ نے تو یہاں تک کہہ ڈالا کہ وہ اپنی قبر اپنے ہاتھوں سے کھود رہی ہے۔
لیاقت علی خان نے جناح کو اپنے استعفے کی مختصر عبارت میں یہ واضح کردیا تھا کہ وزیر اعظم کی بیوی خلا میں نہیں رہ سکتی۔ اسے قوم کی زندگی میں اپنا مناسب مقام بنانا ہوتا ہے لیکن آپ ہم دونوں کے حوالے سے جو منفی رائے قائم کرچکے ہیں، اسے جان لینے کے بعد یہ بات انتہائی شرمناک اور مشکل ہو جاتی ہے کہ ہم دونوں اپنے عہدے سے چمٹے رہیں۔ تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ چونکہ محمد علی بانی پاکستان تھے اس لئے وہ اپنے ارد گرد ان لوگوں کو رکھنے میں حق بجانب تھے کہ جن کے ساتھ وہ کمفرٹیبل محسوس کریں اور لیاقت علی خان جان گئے تھے کہ قائد اور ان کی ہمیشرہ کو ان سے مسئلہ ہے لہذا انہیں عزت بچاتے ہوئے عہدہ چھوڑ دینا چاہیے۔ تاہم جناح نے لیاقت علی خان کا استعفی قبول نہیں کیا تھا اور وہ ستمبر 1948 میں ان کی وفات کے بعد بھی 1951 تک وزیراعظم کے منصب پر فائز رہے۔
پروفیسر لانگ کے مطابق بیگم رعنا لیاقت علی خان نے اپنی سحر انگیز شخصیت کی وجہ سے نوزائیدہ مملکت کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں بہت جلد اپنا الگ مقام پیدا کر لیا تھا۔ بیگم رعنا نے مہاجرین کی آباد کاری اور خواتین کے حوالے سے سے بہت تھوڑے عرصے میں اس قدر شاندار انداز میں کام کیا کہ ہر جگہ ان کی واہ واہ ہونے لگی۔ کہا جاتا ہے کہ رعنا لیاقت علی خان کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ مس فاطمہ جناح ان سے حسد کرنے لگی تھیں حالانکہ فاطمہ جناح کی بطور بانی پاکستان کی ہمشیرہ کی قدرومنزلت میں کوئی کمی نہیں آئی تھی۔ فاطمہ جناح پر یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی کو لیاقت علی خان اور ان کی اہلیہ بیگم رعنا سے بدظن کیا۔ کہا جاتا ہے کہ بیگم رعنا اور فاطمہ جناح میں اس قدر اختلافات تھی کہ گورنر ہاؤس میں ہونے والی ایک تقریب میں جب وزیراعظم کے آئی ڈی سی نے بیگم رعنا سے درخواست کی کہ وہ فاطمہ جناح کے ساتھ آکر بیٹھیں تو انہوں نے یہ کہہ کر درخواست رد کر دی کہ میں تو اکثر ان سے ملتی جلتی رہتی ہوں لہٰذا دیگر خواتین کو مس جناح کے ساتھ بیٹھنے کا موقع فراہم کیا جائے۔
بہرحال جب قائد اعظم کو لیاقت علی خان کا استعفی موصول ہوا تو انہیں سخت دھچکا لگا۔ کہا جاتا ہے کہ قائد نے فوری طور پر لیاقت علی خان سے فون پر رابطہ کیا اور انہیں ملاقات کے لیے بلوا لیا۔ محمد علی جناح نے بطور گورنر جنرل لیاقت علی خان کا استعفے قبول کرنے سے واضح انکار کر دیا دوسری جانب لیاقت علی خان بضد تھے کہ ان کے اور ان کی بیوی کے حوالے سے قائد اور ان کی ہمشیرہ کے خیالات جاننے کے بعد وہ عہدے سے چمٹے رہنا مناسب نہیں سمجھتے۔ اس پر قائد اعظم نے کہا کہ انہوں نے رعنا لیاقت علی خان کو جو کچھ بھی کہا وہ ایک باپ کی حیثیت سے کہا اور ان کا مقصد ان کی دل آزاری یا بےعزتی کرنا ہرگز نہیں تھا بلکہ ایک شفیق باپ کی طرح اپنی ناسمجھ بیٹی کو سمجھانے بجھانے کی ایک کوشش تھی۔ قائد اعظم نے لیاقت علی خان سے درخواست کی کہ ہمیں اپنے عشروں پرانے دوستانہ تعلقات کو اپنی اہلیہ یا بہن کی وجہ سے خراب نہیں کرنا چاہیے۔ یہ سب باتیں سن کر لیاقت علی خان قائل ہوگئے اور اپنا استعفیٰ واپس لے لیا۔
قائداعظم اور لیاقت علی خان کی مبینہ مخاصمت کے ثبوت میں پروفیسر لانگ نے لیاقت علی خان کی اہلیہ رعنا لیاقت علی خان کی قائداعظم سے متعلق ایک تحریر بھی ثبوت کے طور پر پیش کی جس میں رعنا لیاقت لکھتی ہیں کہ قائداعظم اپنے اردگرد موجود تمام سیاسی رہنماؤں سے کہیں بلند مرتبہ اور عظیم شخصیت تھے۔ اس سب کے باوجود قائداعظم ایک عام انسان بھی تھے۔ ان کی آنکھیں انتہائی تیز تھی وہ کسی کی بھی آنکھوں میں دیکھ کر یہ جان لیتے تھے کہ یہ شخص کس قدر مخلص اور ایماندار ہے۔ رعنا لکھتی ہیں کہ ان سب خوبیوں کے باوجود قائداعظم بہت سی باتیں دل میں چھپا کر رکھنے اور شک کرنے کی عادت میں بھی مبتلا تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ زندگی میں بہت زیادہ دوست نہ بنا سکے۔
قائداعظم اور لیاقت علی خان کے مابین اختلافات کو اس وقت مزید ہوا ملی جب قائد کی وفات کے بعد محترمہ فاطمہ جناح نے ریڈیو پر قوم سے خطاب کیا تو ان کی بہت سی باتوں کو سنسر کر دیا گیا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے محمد علی جناح اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کے مابین سب اچھا نہ تھا اور اسی وجہ سے سے پراسرار حالات میں قائد اعظم کی موت کا الزام بھی لیاقت علی خان پر لگایا جاتا ہے۔ بعد ازاں 1951 میں لیاقت علی خان کو راولپنڈی میں ایک جلسے سے خطاب کے دوران گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔
