کیا جنرل فیض حمید کی تبدیلی کی تجویز زیر غور ہے

معروف صحافی اور تجزیہ کار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل فیض کے حوالے سے مریم نواز کے بیان کی نفی کر کے بڑی غلطی کی ہے جو انہیں بھگتنا پڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے مریم نواز شریف کے بیان پر جو ردعمل دیا، اس سے بہتر ردعمل بھی دیا جا سکتا تھا، ورنہ خاموش بھی رہا جا سکتا تھا، ان سے غلطی ہو چکی ہے، اب اس کو بھگتیں۔
یہ بات انہوں نے 24 نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ یاد رہے کہ چند روز پہلے صحافیوں نے شہباز شریف سے مریم کی جانب سے فیض حمید پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے سوال کیا تو انہوں نے کہا تھا کہ مریم کی باتوں کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہیے۔ جب میزبان نے نجم سیٹھی سے پوچھا کہ شہباز شریف کو مریم نواز کے جنرل فیض حمید بارے بیان سے لاتعلقی کا اعلان کیوں کرنا پڑا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز نے جو بات کی وہ کوئی نئی نہیں تھی۔ کچھ عرصے سے یہ بات چل رہی ہے اور نواز شریف کی جانب سے بھی یہی بڑا اعتراض تھا کہ عمران کی فراغت اور نئی حکومت آ جانے کے باوجود کچھ چینلز ابھی تک نیوٹرل نہیں ہوئے حالانکہ جی ایچ کیو نیوٹرل ہو چکا ہے، مریم نے بھی اسی جانب اشارہ کیا تھا اور یہی حقیقت بھی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے خیال میں جب مریم نواز کے بیان پر شہباز شریف سے ردعمل مانگا گیا تو اس کا جواب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ مریم نے جو بات کی ہے، یہ ماضی میں ایک حقیقت تھی اور اب بھی ہمیں شک ہے کہ ایسی کوئی چیز ہے۔ نجم کے بقول شہباز شریف کو کہنا چاہیئے تھا کہ اگر کچھ جنرلز اب بھی سیاست کر رہے ہیں تو ان کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ لیکن شہباز شریف اب اپنا موقف بھگتیں، غلطیاں تو پھر ہو ہی جاتی ہیں۔ یاد رہے کہ نواز شریف نے شہباز کو لندن طلب کرلیا ہے جہاں کچھ اہم فیصلے ہونے کا امکان ہے۔
خیال رہے کہ مریم کی جانب سے فیض حمید کی سیاست میں مسلسل مداخلت پر تنقید کے خلاف ردعمل دیتے ہوئے فواد چودھری نے کہا تھا کہ اب تو شہباز شریف نے بھی کہ دیا ہے کہ مریم نواز کی تقریروں کو سنجیدہ نہیں لینا چاہیے۔
یاد رہے کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید پر یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ عمران خان کے اقتدار سے رخصت ہو جانے کے باوجود دوبارہ انہیں واپس لانے کی خاطر درپردہ ان کی بھرپور مدد کر رہے ہیں۔ مریم نواز نے بھی اسی پیرائے میں فیض حمید بارے گفتگو کی تھی جسے شہباز شریف نے غیر سنجیدہ قرار دے دیا۔ دوسری طرف ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ عمران خان کی جانب سے آرمی چیف قمر باجوہ پر کھلے حملوں کے بعد جنرل فیض حمید کی بطور کور کمانڈر پشاور تبدیلی کا امکان پیدا ہوگیا تاکہ وہ عمران کے حق میں اپنے اختیارات اور وسائل کا غلط استعمال نہ کر پائیں۔
