کیا حمزہ پنجاب کی سیاست میں دوبارہ متحرک ہو پائیں گے ؟

مریم نواز کے سیاسی میدان میں متحرک ہونے کے بعد سیاسی گوشہ نشینی اختیار کرنے والے وزیر اعظم شہباز شریف کے صاحب زادے حمزہ شہباز کو نواز شریف نے دوبارہ کھل کر میدان میں آنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ حمزہ شہباز کے وفاقی حکومت کی جانب سے پبلک فیسیلیٹیشن یونٹ پنجاب کا سربراہ مقرر ہونے اور نواز شریف کے سیاسی میدان میں متحرک ہونے کے احکامات کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حمزہ شہباز کےلیے پنجاب میں اپنی صلاحیتوں کو منوانا ممکن ہے؟ مبصرین کے مطابق بطور جانشین مریم نواز کے وزیر اعلی پنجاب ہوتے ہوئے حمزہ شہباز کا اب خود کو منوانا نا ممکن تو نہیں تاہم سخت مشکل دکھائی دیتا ہے کیوں کہ نواز شریف کبھی بھی اپنی جانشین بیٹی پر حمزہ شہباز کو ترجیح نہیں دیں گے۔
اسلام آباد میں بغیر اجازت جلسہ کرنے پر 3 سال قید کا قانون تیار
تاہم حمزہ شہباز شریف کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ شریف خاندان میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس نے مقدمات کا سامنا نہ کیا ہو اور جیلیں نہ کاٹی ہوں لیکن شریف خاندان میں حمزہ شہباز وہ پہلے اور واحد شخص ہیں جنہوں نے سب سے زیادہ جیلیں کاٹیں اور سب سے زیادہ قربانی دی۔جنرل پرویز مشرف کے زمانے میں شریف خاندان کو سعودی عرب جلا وطن کیا گیا۔ شریف خاندان کے لیے وہ وقت یقیناً مشکل تھا لیکن حمزہ شہباز کے لیے زیادہ مشکل تھا۔ وہ جنرل مشرف کی ڈکٹیٹر شپ میں پاکستان میں تن تنہا تھے اور مشرف نہ صرف ان کے خاندان کی سیاست بلکہ کاروبار کا خاتمہ کرنے کے درپے تھا۔ان مشکل دنوں میں حمزہ شہباز نے نہ صرف کاروبار اور جائیداد کی نگرانی کی بلکہ بہادری سے جیل بھی کاٹی۔ نواز شریف اپنی تقریروں میں کہا کرتے تھے کہ حمزہ شہباز میرا جانشین ہے، حمزہ شہباز جب 2022 میں تقریباً ڈھائی ماہ کے لیے وزیر اعلیٰ بنے اور پھر وزرات اعلیٰ کا الیکشن دوبارہ ہار گئے تو نواز شریف، حمزہ شہباز کی سیاسی بصیرت کے اوپر کافی ناراض رہے۔اسی وجہ سے حمزہ شہباز ابھی تک پارٹی کے لیے کسی کام میں زیادہ ایکٹو بھی نظر نہیں آئے، لیکن اب دوبارہ نواز شریف نے حمزہ شہباز کو پنجاب کی سیاست میں متحرک ہونے کی ہدایت کی ہے۔ ایک حالیہ مشاورتی اجلاس کے دوران پارٹی کے صدر میاں نواز شریف نے حمزہ شہباز کو مخاطب ہو کر کہا کہ تمہیں دوبارہ اپنے آپ کو متحرک کرنا ہوگا۔’تمہارا متحرک ہونا پارٹی کے لیے بہت ضروری ہے، اس لیے اب تم پنجاب کے تمام اضلاع کے پارٹی نمائندوں سے ملاقاتیں کرو، ان اضلاع میں جاؤ جہاں پر ہمارا کارکن ناراض ہے، خصوصاً لاہور پر اپنی توجہ مرکوز کرو‘۔انہوں نے کہا کہ 2024 کے الیکشن میں ہمیں وہ رزلٹ نہیں ملے جو ن لیگ کو ماضی میں لاہور سے ملتے رہے ہیں، لہذا بلدیاتی الیکشن سے پہلے یونین کونسل تک پارٹی کے لوگوں سے ملاقاتیں کرو تاکے آنے والے بلدیاتی الیکشن میں ن لیگ پنجاب سے کامیاب ہوسکے۔
نواز شریف نے واضح ہدایت دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ حمزہ شہباز کا طرز سیاست مجھ سے مختلف ہے لیکن اس میں بندے کو قائل کرنے کی صلاحیت ہے۔ اگر حمزہ شہباز اور مریم نواز مل کر چیزوں کو دیکھیں گے تو یہ پارٹی کے لیے اچھا ہوگا۔
نواز شریف کی واضح ہدایات کے بعد عرصہ دراز سے گوشہ نشینی اختیار کرنے والے حمزہ شہباز کے دوبارہ سیاست میں متحرک ہونے کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں تاہم تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ پنجاب میں مریم نواز بطور وزیر اعلٰی پوری طرح متحرک ہیں اور انھیں اپنے والد اور پارٹی کے قائد میاں نواز شریف کی پوری رہنمائی اور تائید بھی حاصل ہے۔ مریم نواز کے ہوتے ہوئے پنجاب میں حمزہ شہباز شریف کا خود کو منوانا نا ممکن دکھائی دیتا ہے۔
مبصرین کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ مریم نواز کے پنجاب کی وزیراعلٰی بننے کے بعد سے مسلم لیگ ن کی سیاست کے اُفق سے حمزہ شہباز مکمل طور پر غائب رہے ہیں۔ انہوں نے چند لیگی رہنماؤں اور کارکنوں کی وفات پر اُن کے اہل خانہ سے تعزیت کے علاوہ اور کوئی عملی کام نہیں کیا۔ جن سرکاری تقریبات میں وہ نظر آئے بھی تو اُن کا چہرہ سپاٹ اور تاثرات سے عاری رہا۔وہ آخری مرتبہ ٹی وی سکرینوں کی زینت تب بنے جب نواز شریف کو پارٹی کا دوبارہ صدر منتخب کیا گیا۔ اس تقریب میں حمزہ شہباز وزیراعلٰی پنجاب مریم نواز کے ساتھ ایک ہی صوفے پر براجمان تھے، تاہم وہ زیادہ دیر خاموش ہی نظر آئے۔
سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ شہباز شریف کے وزیراعظم بننے کی وجہ سے حمزہ شہباز کا سیاسی راستہ رُکنا ایک لازمی امر تھا جبکہ دوسری پارٹی صدر نواز شریف کی جانب سےحالیہ ہدایات سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اب ایک مرتبہ پھر وہ پارٹی کے ارکان اسمبلی کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں اور پارٹی کے اندر اپنی پوزیشن بھی بہتر بنا سکتے ہیں۔‘
تجزیہ کاروں کے مطابق ’مسلم لیگ ن کی قیادت کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اپنی پارٹی کو سنبھالنے کی ہے۔ یہ بات تو طے ہے کہ نواز شریف عملی اقدامات سے یہ تاثر دے چکے ہیں کہ آگے جا کر پارٹی کی باگ دوڑ مریم نواز ہی سنبھالیں گی۔‘’ایسے میں حمزہ شہباز کا بیک فُٹ پر جانا ایک قدرتی عمل تھا کیونکہ اس سے پہلے وہ اپنے آپ کو تایا کا جانشین سمجھتے تھے، تاہم گذشتہ دہائی میں سب کچھ تبدیل ہو چکا ہے۔‘ تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق حمزہ شہباز کو کسی ایسی سرگرمی میں لانا کہ وہ پارٹی کے لیے مفید ثابت ہوں یہ ایک بہتر کوشش ہے۔‘تاہم مسلم لیگ ن کو اب تک یہ سبق حاصل ہو جانا چاہیے کہ اُن کا پرانا طرز ِسیاست بُری طرح پِٹ چکا ہے۔‘’نئے حالات کے مطابق اب نئے طریقوں کو ڈھونڈنا اور موروثیت سے باہر سوچنے سے ہی آنے والے وقت میں بہتری کے کچھ آثار ہو سکتے ہیں، تاہم مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ مسلم لیگ ن نے کچھ نہیں سیکھا۔‘مسلم لیگ ن اب بھی گھِسے پِٹے طریقے سے چل رہی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ پارٹی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے لیکن اس کے لیے ارکان اسمبلی کے کام کرنے سے زیادہ کسی بہتر بیانیے کی ضرورت ہے۔
