کیا حکومت اور اپوزیشن ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ اس وقت پاکستانی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ ناقابل برداشت مہنگائی ہے جس کی ذمہ داری صرف وزیر اعظم عمران خان کی حکومت پر ہی عائد نہیں ہوتی بلکہ ہماری اپوزیشن بھی اس میں برابر کے حصے دار ہے جس نے آج دن تک ہر عوام دشمن قانون سازی میں حکومتی سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے۔ لہذا یہ دونوں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ مہنگائی کے بڑھتے ہوئے طوفان نے کم آمدنی والے تن خواہ داروں اور دیہاڑی داروں کے چہروں کی مسکراہٹ چھین لی ہے۔ وہ بے نور آنکھوں کے ساتھ خلاؤں میں گھورتے نظر آتے ہیں۔ میں خلق خدا کے چہروں کی رونق چھیننے والے افراد واسباب کا سراغ لگانا چاہتا ہوں۔ عمران حکومت اور اس کے ترجمانوں کی فوج ظفر موج کا دعویٰ ہے کہ یہ رونق درحقیقت 2008 سے 2018 تک اقتدارمیں باریاں لینے والوں نے چھینی ہے۔
نصرت کے مطابق اپنے اسی موقف کو سچا ثابت کرنے کے لیے موجودہ حکومت نے پچھلے تین برسوں میں اپوزیشن کے تمام بڑے سیاستدانوں کا نیب کے ذریعے کڑا احتساب بھی کیا ہے، لیکن کوئی ایک بھی کیس ثابت نہیں ہو پایا۔ اقتدار میں آکر لٹیروں سے لوٹے ہوئے اربوں روپے نکلوانے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے عمران خان کسی ایک سیاستدانوں سے کوئی ایک پائی بھی نہیں نکلوا پائے۔ شریف خاندان کی کرپشن کے حوالے سے سنائی گئی حکومتی داستانیں بھی جھوٹی ثابت ہوئیں۔ ایسے میں یہ سوال اٹھانا لازمی ہے کہ عمران خان نے ماضی کی حکومتوں کو پاکستانیوں کی ہر مشکل کا ذمہ دار ٹھہرانے کے علاوہ بھی کچھ کیا ہے یا نہیں۔
دوسری جانب پاکستانی اپوزیشن بھی تاریخ کی اس نااہل اور ناکام ترین حکومت کو نکیل ڈالنے کے لیے کوئی موثر حکمت عملی نہیں بنا ہائی۔ پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت کا یہ موقف ہے کہ وہ موجودہ حکومت کو وقت سے پہلے اقتدار سے نکال کر معاشی ناکامی کا ڈھول اپنے گلے میں نہیں ڈالنا چاہتی۔ دوسری جانب عمران خان کو وزیراعظم بنانے والی فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی چپ سادھے بیٹھی ہے۔ لیکن اس ساری صورتحال کا خمیازہ پاکستانی عوام بھگت رہے ہیں۔ ماضی میں آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی وجہ خود کشی کرنے کو ترجیح دینے والی عمران خان حکومت پچھلے تین برسوں میں مسلسل آئی ایم ایف سے قرضے لے کر ان کا بوجھ پاکستانی عوام پر منتقل کرتی جا رہی ہے۔ حکومت چھ مہینے کی منت سماجت کے بعد آئی ایم ایف سے قرضے کی اگلی قسط میں لینے میں کامیاب تو ہو چکی ہے لیکن اس کا خمیازہ بھی عوام کو 800 ارب روپوں کے نئے ٹیکسوں کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔
نصرت جاوید کہتے ہیں کہ مجھے خدشہ ہے کہ حکومت صدارتی آرڈیننس کے ذریعے ان نئے ٹیکسوں کے اطلاق کا اعلان کرے گی۔ اس کے اجراء کے بعد اشیائے صرف کی قیمتوں میں گراں قدر اضافہ نظر آنا شروع ہو جائے گا۔ مگر ٹیکسوں میں اس اضافے کی منظوری قومی اسمبلی سے ہر صورت لینا ہوگی۔ جب یہ منظوری ہو گئی تو ہم محض شوکت ترین اور آئی ایم ایف ہی کو اپنی مشکلات کا ذمہ ٹھہرانے کے قابل نہیں رہیں گے۔ ہماری مشکلات کے قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے علاوہ اتحادی جماعتوں کی نشستوں پر بیٹھے تمام اراکین بھی وزیر اعظم عمران خان سمیت برابر کے ذمہ دار ہوں گے۔ آئی ایم ایف سے ہوئے معاہدے کا اطلاق روکنا فقط اسی صورت ممکن ہے اگر اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے والا ضمنی بجٹ قومی اسمبلی نامنظور کردے۔ مگر بقول نصرت کثیر تعداد میں اپوزیشن بنچوں پر بیٹھی سیاسی جماعتیں اس قابل نہیں۔ موجودہ اپوزیشن پچھلے تین برسوں سے عوام دشمن قانون سازی میں حکومت کی سہولت کار رہی ہیں۔ اس ضمن میں فقط دو واقعات یادر کھنا ہی کافی ہے۔ پہلا ایک اہم ریاستی ادارے کے سربراہ کی میعاد ملازمت کو باقاعدہ بنانے کے حوالے سے رونما ہوا تھا۔ اس کے بعد دس سے زیادہ قوانین کا پلندا بھی پارلیمان میں تفصیلی بحث کے بجائے تاریخی عجلت میں انگوٹھے لگانے سے ہوا تھا۔ اس کا جواز پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ سے نکلوانا تھا۔ لیکن ہم اس لسٹ میں آج بھی موجود ہیں۔
نصرت کہتے ہیں کہ حال ہی میں حکومت نے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس سے ایک ہی دن میں 33 قوانین منظور کروائے ہیں۔ یہ منظوری ممکن ہی نہ تھی اگر ”سیم پیج“ والی حقیقت یا گماں اپنی جگہ برقرار نہ ہوتے۔ مجھے خدشہ ہے کہ ہماری اپوزیشن عمران حکومت کو ضمنی بجٹ بآسانی منظور کروانے میں بھی کماحقہ مدد فراہم کرے گی کیونکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔
