کیا حکومت تحریک لبیک کا اسلام آباد لانگ مارچ روک پائے گی؟


حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کے مابین فرانسیسی سفیر کی ملک بدری سے متعلق وفاقی حکومت کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی پاسداری اور سعد رضوی کی رہائی کے مطالبات پر ہونے والے مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں جس کے بعد شروع ہونے والے ہنگاموں میں تین پولیس والوں کے جان سے جانے کی اطلاعات ہیں۔ دوسری جانب پولیس سےجھڑپوں میں تحریک لبیک کے درجنوں کارکنان کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تحریک لبیک کی جانب سے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کی کوششش کے دوران صورتحال انتہائی کشیدہ ہے جس کے باعث وزیر داخلہ شیخ رشید ہنگامی طور پر دبئی سے پاکستان واپس آگئے ہیں۔
لاہور میں تحریکِ لبیک کے ’لانگ مارچ‘ کے شرکا نے جمعے کی شام پولیس کے ساتھ خونی جھڑپوں کے بعد ہفتے کی صبح دوبارہ اسلام آباد کی جانب سفر شروع کیا ہے تاہم پولیس نے ایک بار پھر آنسو گیس کی شیلنگ کے ذریعے ان کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کی ہے۔اس لانگ مارچ کے شرکا ملک سے فرانسیسی سفیر کی بےدخلی کے معاہدے پر عملدرآمد اور تنظیم کے سربراہ سعد حسین رضوی کی رہائی کے مطالبات کر رہے ہیں۔تنظیم کی مرکزی شوریٰ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اگر اب یہ مارچ روکنے کی کوشش کی گئی تو ان کے پاس ’پلان بی بھی موجود ہے۔دوسری جانب ٹی ایل پی کے رہنما سعد رضوی کی نظر بندی کے معاملے پر وفاقی نظر ثانی بورڈ کا اجلاس بغیر کسی کارروائی کے ملتوی ہو گیا ہے۔ اس کے دوبارہ اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ تین رکنی نظر ثانی بورڈ سپریم کورٹ, لاہور ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ہوتا ہے۔اس سے قبل پنجاب کے وزیراعلیٰ کی جانب سے بتایا گیا تھا کہ صوبائی حکومت کی جانب سے وزیر قانون راجہ بشارت اور چوہدری ظہیرالدین مذاکرات کر رہے ہیں۔ عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ ملک میں امن و آشتی کے لیے سب کو مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم پھر ذرائع ابلاغ نے تحریک لبیک پاکستان کے ترجمان کے حوالے سے خبر دی تھی کہ پنجاب حکومت اور تنظیم کے درمیان لاہور میں مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ جھڑپوں کے بعد تحریکِ لبیک کی مرکزی شوریٰ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ اب بات چیت صرف اسی صورت میں ہو گی کہ جب لاہور میں قید تنظیم کے قائد سعد حسین رضوی کو رہا کر کے جلوس میں نہیں لایا جاتا اور اب وہی مذاکرات میں تنظیم کی نمائندگی کریں گے۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس وقت مارچ کے شرکا لاہور کے علاقے شاہدرہ چوک کے قریب موجود ہیں اور پولیس حکام کا کہنا ہے کہ انھیں لاہور کی حدود سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔آزادی چوک میں رات قیام کے بعد ہفتے کو علی الصبح جب کارکنوں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو پولیس کی جانب سے ان پر آنسو گیس پھینکی گئی۔ انتظامیہ کی جانب سے آزادی چوک کے آس پاس کے علاقے کو کنٹینر لگا کر بند بھی کیا گیا ہے۔ مظاہرین اور پولیس کے درمیان جمعے کی شام سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک کم از کم تین پولیس اہلکاروں کے جان سے جانے کی اطلاعات ہیں۔
لمحہ بہ لمحہ بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر دبئی میں پاک بھارت کرکٹ میں دیکھنے کی غرض سے جانے والے وزیر داخلہ شیخ رشید وطن واپس پہنچ گئے ہںں۔ تاہم دوسری جانب وزیراعظم عمران خان سعودی عرب روانہ ہو چکے ہیں۔ خیال رہے کہ تحریکِ لبیک کے کارکنوں نے اپنے مطالبات تسلیم کیے جانے کے لیے دی گئی ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد جمعے کو ملتان روڈ پر واقع اپنے مرکز سے ریلی کی صورت میں جب آگے بڑھنا شروع کیا تو ایم اے او کالج کے قریب پولیس نے انھیں روکنے کے لیے آنسو گیس کے گولے چلائے جبکہ اس دوران متعدد افراد کو گرفتار بھی کیا گیا۔ اس دوران ایم اے او کالج سے داتار دربار تک کا علاقہ جھڑپوں کا مرکز بنا رہا اور لاہور پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان جھڑپوں میں پولیس کے تین اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ لاہور پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اہلکار ٹی ایل پی کے کارکنوں کے پتھراؤ کا نشانہ بنے۔ ترجمان آپریشنز ونگ کے مطابق پتھراؤ سے متعدد اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں جنھیں ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ تاہم تحریک لبیک کا کہنا ہے کہ اس کے کارکنوں پر ان ہلاکتوں کا الزام بےبنیاد ہے اور یہ سپاہی پولیس ہی کی گاڑیوں تلے آکر کچلے گئے ہیں، واضح رہے کہ اس حوالے سے ایک آڈیو بھی وائرل ہے جس میں پولیس اہلکار یہ تسلیم کررہے ہیں کہ دراصل ان کی گاڑیوں کی زد میں آ کر پولیس جوانوں کی موت ہوئی ہے۔
دوسری جانب تحریک لبیک والوں کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے فائرنگ اور آنسو گیس شیلنگ کے باعث ان کے درجنوں کارکنوں کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ تحریک لبیک کے مارچ کو روکنے کے لیے لاہور اور اسلام آباد میں پولیس اور انتظامیہ نے متعدد شاہراہیں بند کر رکھی ہیں۔ حکام کی جانب سے موٹروے ایم ٹو پر لاہور کے قریب بابو صابو انٹرچینج کو بند رکھا گیا ہے، جبکہ اسلام آباد کے داخلی راستوں اور مرکزی شاہراہوں کو جزوی یا مکمل طور پر بند کرنے کے لیے کنٹینرز لگائے گئے ہیں۔اس کے علاوہ راولپنڈی کی مرکزی شاہراہ مری روڈ بھی متعدد جگہوں پر ٹریفک کے لیے بند ہے، جس سے دونوں شہروں کے رہائشیوں کو آمد ورفت میں کافی مشکلات پیش آ رہی ہیں۔

Back to top button