کیا حکومت مخالف تحریک کے نتیجے میں قومی حکومت بنے گی؟

اگر کپتان حکومت کے اندرونی اختلافات بڑھتے ہیں یا اندرونی بغاوت ہو جاتی ہے اپوزیشن کا لانگ مارچ اور دھرنا اپنے عروج کو چھوتا ہے تو ایسے میں PTI کے ناراض گروپ، نواز لیگ کے مفاہمتی گروپ، ق لیگ اور پیپلز پارٹی پر مبنی ایک عارضی قومی حکومت بنائے جانے آنے کا امکان رد نہیں کیا جا سکتا۔
اس امکان کا اظہار سینئر صحافی اور اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے اپنے تازہ ترین تجزیے میں کیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ پلان اے نے جتنا چلنا تھا چل لیا، اب پلان بی کی باری ہے۔ اگر واقعی فوجی اسٹیبلشمنٹ سو فیصد نیوٹرل ہو جائے، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ہوں، دونوں میں سے کسی کو بھی اسٹیبلشمینٹ کی سپورٹ نہ ہو، تو ایسی محاذ آرائی میں اب لازماً حکومت کو بڑے دھچکے لگیں گے اور وہ ویسی مزاحمت نہیں کر پائے گی جیسی کہ پلان اے کے زمانے میں وہ طاقتور حلقوں کی حمایت کے باعث کرتی رہی ہے۔
اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ یہاں اب تک سب کچھ پلان اے کے مطابق ہو رہا تھا، وفاق اور تین صوبوں میں پی ٹی آئی اور اس کے اتحادیوں کی حکومت اور ایک صوبے میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہے، اب تک اسٹیبلشمنٹ اور حکومت ایک صفحے پر موجود تھے، خارجہ پالیسی اور معاشی پالیسی پر مکمل اتفاق رائے تھا، اپوزیشن میں سے مسلم لیگ ن قابل قبول نہیں تھی، جبکہ پیپلزپارٹی کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ چل رہا تھا۔
اب اگر یہ سب کچھ پلان اے کے مطابق ہو رہا تھا تو اس کا ’’پلان بی‘‘ کیا ہے ؟؟ سہیل وڑائچ یہ سوال اٹھاتے ہوئے خود ہی اس کا جواب دیتے ہیں اور کہتے ہیں ہیں کہ پلان بی میں اسٹیبلشمنٹ نیوٹرل ہو گئی ہے، اب حکومت کی ناکامیاں اور غلطیاں حکومت کے ہی کھاتے میں ڈالی جائیں گی، اور اسٹیبلشمنٹ کو ان کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا۔
حالیہ ضمنی انتخابات میں خاص طور پر یہ نظر آیا کہ اسٹیبلشمنٹ واقعی نیوٹرل رہی، چیف الیکشن کمشنر کے فیصلے میں بھی یہ صاف نظر آ رہا ہے کہ ان پر اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے کوئی دباؤ نہیں تھا اسی لیے انہوں نے آزادانہ، منصفانہ اور دلیرانہ فیصلہ کیا۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پلان اے کے مطابق حکومت کو اپنا 5 سالہ مینڈیٹ پورا کرنا تھا کیونکہ بار بار الیکشن سے عدم استحکام پیدا ہوتا ہے، فلسفہ یہ تھا کہ حکومت کو اپنے منصوبے اور کاموں کی تکمیل کا بھرپور موقع ملنا چاہیے، وہ اپنے منشور کے مطابق عمل کرے اور لوگوں کیلیے فلاحی منصوبے بنائے۔ لیکن اب اگر اسٹیبلشمنٹ کی حکومت کو 5 سال پورے کروانے کی خواہش کے برعکس حالات پیدا ہو جائیں تو پھر پلان بی پر عملدرآمد شروع ہو جاتا ہے۔
پلان اے کے آغاز میں کپتسن حکومت پر تنقید کو ریاست پر تنقید کے مترادف سمجھا جاتا تھا مگر اب پلان بی کے تحت حکومت اور ریاست الگ الگ ہیں، حکومت پر تنقید کی جا سکتی ہے ریاست پر نہیں، گویا فوجی اسٹیبلشمنٹ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ حکومت پر تنقید کرنے کی اجازت ہے اور اس تنقید سے حکومت اور ریاست دونوں کو سبق سیکھنا چاہئے۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ پلان بی کا کچھ حصہ پلان اے سے ملتا جلتا ہے۔ ابھی تک ن لیگ کے حوالے سے اسٹیبلشمینٹ میں مکمل قبولیت پیدا نہیں ہوئی لیکن حمزہ شہباز شریف کی رہائی سے ایک بار پھر مصالحت اور مفاہمت کی سیاست زور پکڑے گی، حمزہ شہباز اور شہباز شریف جیل کاٹنے کے باوجود اپنے مفاہمانہ بیانیے پر قائم ہیں حکومت پر غصہ اور ناراضی کے باوجود وہ اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی پر آمادہ نہیں ہوئے اس لیے پلان بی میں ن لیگ کے مفاہمانہ موقف کے لیے گنجائش موجود ہے ،ویسے بھی پلان اے کا پوسٹ مارٹم کرنے والوں کا کہنا ہے کہ پنجاب اور مرکز دونوں کا اقتدار پی ٹی آئی کو دے کر فاش غلطی کی گئی، اس سے نہ صرف سیاسی توازن ختم ہوا بلکہ وفاق اور صوبائی دونوں سطحوں پر نوآموز سیاست دانوں کو اقتدار دے کر ایک ناکام تجربہ کیا گیا۔
پلان اے پر جب بھی بحث مباحثہ ہوتا ہے اس کی غلطیوں اور خامیوں پر بات ہوتی ہے، خاص طور پر یہ نوٹ بھی کیا جاتا ہے کہ دو جماعتی نظام کی دونوں جماعتیں پیپلز پارٹی اور نون لیگ اتنی تجربہ کار ہو گئی تھیں کہ دونوں ملک کے پہیے کو کامیابی سے آگے دھکیل لیتی تھیں، ان کے پاس تجربہ کار لوگوں کی ٹیم اور ویژن تھا اپنے اپنے انداز میں وہ حکومت چلا لیتی تھیں اس بار پلان اے کے مطابق جن کو حکومت ملی ہے وہ ناتجربہ کار ہیں اور ان سے حکومت چل نہیں پا رہی ۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ جب پلان اے پر زور وشور سے عمل جاری تھا تو حکومتی غلطیوں کی ذمہ داری بھی اسٹیبلشمنٹ پر ڈالی جا رہی تھی۔ لیکن پھر اس پلان کی سب سے بڑی کمزوری اس وقت آشکار ہوئی جب گوجرانوالہ کے جلسہ عام میں دیوار کے ساتھ لگائے جانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف نے باقاعدہ دو جرنیلوں کے نام لیکر ان کو موجودہ سیاسی و معاشی حالات کا ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ یہی وہ صورت حال تھی جس میں اس ضرورت کا احساس کیا گیا کہ اسٹیبلشمنٹ کو نیوٹرل رول ادا کرنا چاہیے وگرنہ وہ اسی طرح سیاسی طور پر مطعون ہوتی رہے گی۔ چنانچہ پلان بی کے تحت آہستہ آہستہ اسٹیبلشمنٹ نے اپنے آپ کو نیوٹرل بنانا شروع کر دیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس بریفنگ میں فوج کے نیوٹرل ہونے پر نہ صرف زور دیا بلکہ اصرار کیا۔ سہیل وڑائچ کے خیال میں تازہ حالات میں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ واقعی آہستہ آہستہ یہ تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔ لیکن اب تک پلان اے اور پلان بی میں موجودہ حکومت کی میعاد کے حوالے سے مماثلت پائی جاتی ہے، دونوں پلانز کے مطابق موجودہ حکومت کو اپنی پانچ سالہ میعاد پوری کرنی چاہئے۔ پلان اے میں ناگزیر حالات کے حوالے سے کوئی قیاس آرائی یا منصوبہ بندی نہیں تھی، پلان بی میں ناگزیر صورتحال پر لازماً مکالمہ ہوا ہو گا اور اندازہ یہ ہے کہ اگر حکومت کے اندرونی اختلافات بڑھتے ہیں یا اندرونی بغاوت ہوتی ہے اپوزیشن کا دبائو بڑھتا ہے لانگ مارچ اور دھرنا اپنے عروج کو چھوتا ہے تو ایسے میں مصالحتی یا قومی حکومت بن سکتی ہے یہ قومی مصالحتی حکومت نا پائیدار ہو گی اور اس پر بہت اعتراض اٹھیں گے، عمران خان کے حامی ایک طاقتور اپوزیشن کے طور پر سامنے آسکتے ہیں مگر پلان بی کے حامیوں کا خیال ہے کہ صورتحال کا اصلی حل تو نئے انتخابات ہی ہوں گےالبتہ قومی مصالحتی حکومت ایک عارضی اقدام ہو گا اس حکومت میں PTI کا ناراض گروپ ن لیگ مفاہمتی گروپ، ق لیگ اور پیپلز پارٹی شامل ہو سکتے ہیں۔
پلان بی کے مفروضوں اور منصوبوں کی باتیں اس لیے بھی ہو رہی ہیں کہ باوجود کوششوں کے ہماری معاشی نمو، نواز شریف دور کے مقابلے میں آدھی بھی نہیں ہے۔ جی ایس پی پلس کے حوالے سے ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ اگر پاکستان کے بین الاقوامی معاملات ٹھیک نہ ہوئے تو یہ سہولت ختم ہو سکتی ہے ۔فیٹف کے حوالے سے بھی سردست کوئی کامیابی نظر نہیں آ رہی۔
سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ خان صاحب کے 5سال پورے ہوں یا نہ ہوں صاف لگ رہا ہے کہ معاشی حوالے سے ان سے کوئی کارنامہ سرزد نہیں ہونے جا رہا ۔ملک معاشی طور پر قرضوں کا محتاج اور پسماندہ ہی رہے گا ۔بدقسمتی یہ ہے کہ خان صاحب اور ان کے وزیر خزانہ کے پاس کوئی ایسا خواب بھی نہیں ہے جسے دکھا کر لوگوں کو مطمئن کرسکیں ۔ ان حالات میں پلان اے نے جتنا چلنا تھا چل لیا اب پلان بی کی باری ہے۔ اب اگر واقعی اسٹیبلشمنٹ سو فیصد نیوٹرل ہو جائے، حکومت اور اپوزیشن آمنے سامنے ہوں، دونوں میں سے کسی کو بھی کسی طاقت کی سپورٹ نہ ہو، ایسی محاذ آرائی ہو گئی تو لازماً حکومت کو دھچکے لگیں گے اور وہ ویسی مزاحمت نہیں کرسکے گی جیسی پلان اے کے زمانے میں کرتی رہی ہے۔
البتہ حکومت کے لیے اچھا شگون یہ ہے کہ پلان بی میں بھی حکومت کو اتارنے میں مدد دینے کا کوئی منصوبہ شامل نہیں بلکہ حکومت کو پورا وقت دینے کا عندیہ ہے اپوزیشن پلان بی پر خوش ہو سکتی ہے کہ اسی کی وجہ سے ضمنی انتخاب میں دھاندلی بے نقاب ہوئی، اسی وجہ سے پورے حلقے میں ری پولنگ کا اعلان ہوا ۔حمزہ شہباز شریف کی رہائی کو بھی اسی کھاتے میں ڈالا جاسکتا ہے، یوں ایک نیا دور شروع ہے دیکھنا یہ ہو گا کہ اس میں اپوزیشن اپنے کارڈز کیسے کھیلتی ہے ؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button