کیا حکومت پاکستانیوں کو کرونا کی یلغار سے بچا پائے گی؟

بھارت کے بعد اب پاکستان میں بھی کرونا کا موذی وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے لیکن عمران خان کا نیا پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں حکومت وقت اپنے عوام کی قیمتی جانیں بچانے کےلیے فری ویکسینیشن فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہوتی نظر آتی ہے اور یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا پاکستانی عوام کو کرونا کے بڑے حملے سے بچایا جا سکے گا؟
یاد رہے کہ اب تر پاکستان میں تقریباً 15 لاکھ افراد کو ویکسین لگائی گئی ہے لیکن یہ پاکستان کی کُل آبادی کا بمشکل ایک فیصد لوگ ہیں۔ دوسری جانب اگر پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا جائزہ لیا جائے تو مارچ کے وسط میں آنے والی تیسری لہر پہلی دونوں لہروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک پاکستان میں کرونا وائرس کے مجموعی طور پر ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ متاثرین کی تشخیص ہوئی ہے جب کہ کُل اموات کی تعداد ساڑھے 16 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان نے دو فروری کو چین کی جانب سے امداد کی گئی سائنو فارم ویکیسن سے ملک میں ویکسینیشن کا عمل شروع کیا تھا اور پہلے مرحلے میں صرف ہیلتھ ورکرز کو ویکسین دی گئی جب کہ 15 فروری کے بعد سے 60 برس سے زیادہ عمر والے عام شہریوں کےلیے سلسلہ شروع کیا گیا۔ گزشتہ ماہ کے آخر میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور این سی او سی کے سربراہ اسد عمر نے اعلان کیا تھا کہ 50 برس سے زیادہ عمر والے شہری بھی ویکسینیشن کےلیے اپنا نام رجسٹر کرا سکتے ہیں اور اپریل میں انہوں نے بتایا کہ عید کے بعد ملک کے تمام شہریوں کےلیے ویکسینیشن شروع کر دی جائے گی۔ اسد عمر متعدد بار یہ کہہ چکے ہیں کہ حکومت کا ہدف ہے کہ وہ ملک میں 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد کی آبادی کے 70 فیصد کو ویکسین کی خوراکیں دے سکے، جو کہ دس کروڑ سے کچھ زیادہ تعداد بنتی ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ پاکستان کی 60 سے 70 فیصد بالغ آبادی کو ویکسین لگانے کا عمل سنہ 2023 کے اوائل میں ممکن ہو سکے گا۔ دوسری جانب ایک ارب سے زیادہ آبادی والا ملک انڈیا یہ ہدف سنہ 2022 کے آخر تک حاصل کرے گا جب کہ امریکہ اور یورپ اپنی مجموعی آبادی کے 70 فیصد حصے کو 2021 کے آخر تک ویکسین کی دونوں خوراکیں دینے میں کامیاب ہو جایئں گے۔
لیکن ان اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے جو سب سے اہم سوال ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا پاکستان کے پاس آبادی کی ضرورت کے مطابق ویکسین ہے اور ہے تو کتنی ہے؟ اس بظاہر سادہ سے سوال کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی جائے تو معلوم ہوگا کہ اس معاملے میں بڑی پیچیدگیاں ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان چین کی جانب سے فروری میں دی گئی 12 لاکھ خوراکوں کی مدد سے اپنا ویکسینشن پروگرام شروع کرنے میں کامیاب ہوا جب کہ 23 مارچ کو وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا کہ پاکستان چین سے سائنو فارم اور کانسینو ویکسین کی مزید ستر لاکھ خوراکیں خریدے گا۔
جب یہی سوال ڈاکٹر فیصل سلطان سے کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ 15 اپریل تک پاکستان کے پاس سائنو فارم کی 22 لاکھ خوراکیں پہنچ چکی ہیں جب کہ آنے والے کچھ دنوں میں لاکھوں مزید خوراکوں کے پہنچنے کا امکان ہے۔ انہوں نے مزید تصدیق کی کہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ترقی پذیر ممالک کےلیے ویکسین فراہمی کے کوویکس پروگرام کے تحت پاکستان کو پہلے مرحلے میں 30 جون تک ایک کروڑ چالیس لاکھ کے قریب ویکسین کی خوراکیں مل جائیں گی اور یہ ویکسین آکسفورڈ ایسٹرازینیکا ہوگی۔ گاوی کے منصوبے کے تحت تیسرے مرحلے میں پاکستان کو جون تک فائزر بائیو این ٹیک ویکسین کی ایک لاکھ خوراکیں جون تک موصول ہو جائیں گی۔ ویکسین کی کھیپ کی فراہمی کے حوالے سے گاوی کوویکس ویکسین الائنس نے بتایا کہ پاکستان میں یہ ویکسین اپریل تک پہنچ جانی تھی لیکن ویکسین بنانے کے عمل میں تعطل کے باعث اب یہ مئی تک فراہم کی جا سکے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ماہ اسد عمر نے کہا تھا کہ ویکسین کےلیے گاوی ہی ہمارا مرکزی سپلائر ہے اور ان کے مطابق پہلی کھیپ مارچ میں ہی متوقع تھی۔پاکستان میں حکام نے اپنی آبادی میں کتنے لوگوں کو ویکسین لگانے کا اہتمام کیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں ڈاکٹر فیصل سلطان نے بتایا کہ آنے والے مہینوں میں کوشش کی جائے گی کہ پانچ کروڑ سے زیادہ آبادی کو ویکسین کی خوراکیں دی جائیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہوگی کہ پاکستان کی آبادی میں اب کئی لوگوں میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد مدافعتی صلاحیت آ گئی ہے۔ ہمارا پانچ کروڑ آبادی کا ہدف آنے والے مہینوں کا ہے جب کہ ہماری کوشش ہے کہ اگلے سال ہم تمام بالغوں کو ویکسین لگا دیں۔
لیکن سوال یہ نہیں کہ پانچ کروڑ آبادی کےلیے بقیہ ویکسین آئے گی کہاں سے؟ اس سوال کا جواب ممکنہ طور پر صوبوں کے پاس ہے۔ مارچ کے آخر میں ڈاکٹر فیصل سلطان نے ٹوئٹر پر پیغام جاری کیا کہ وفاقی حکومت اپنی جانب سے ویکسین حاصل کرنے کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے لیکن صوبوں کو کھلی اجازت ہے کہ اگر وہ چاہیں تو ویکسین خود سے حاصل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ کسی بھی صوبے پر خود سے ویکسین حاصل کرنے کی کوئی ممانعت نہیں۔ لیکن ڈاکٹر فیصل سلطان کی ٹویٹ کے تین ہفتے گزرنے کے بعد بھی پاکستان میں اب تک کسی بھی صوبے نے خود سے ویکسین حاصل کرنے کےلیے آرڈر نہیں دیے۔
اگر پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے اور کرونا وائرس کی تیسری لہر میں سب سے متاثرہ صوبے کی بات کریں تو وزیر اعلٰی پنجاب عثمان بزدار نے سات اپریل کو اعلان کیا تھا کہ صوبائی حکومت نے دس لاکھ ویکسین حاصل کرنے کےلیے ڈیڑھ ارب روپے مختص کیے ہیں۔ لیکن پنجاب کے محکمہ صحت کے ایک اعلی افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر وزیر اعلیٰ کے اعلان کی نفی کرتے ہوئے بتایا کہ صوبائی بجٹ میں اب تک ویکسینز کےلیے کوئی رقم مختص نہیں کی گئی۔ ویکسین حاصل کرنے کےلیے معاملات ابھی تک صرف باتوں تک محدود ہیں۔ ان حالات میں اگر پاکستان میں بھی بھارت کی طرح کرونا وائرس کے حملوں میں شدت آتی ہے تو ایک سنگین صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔
