کیا زبیر کی لیک ویڈیوز لیگی قیادت کو وارننگ ہے؟

https://youtu.be/E68JIXRuwAM
مسلم لیگ نون کے ترجمان محمد زبیر کی نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد نون لیگی حلقے الزام لگا رہے ہیں کہ اس حرکت کے پیچھے ریاستی اور حکومتی عناصر کا ہاتھ ہے جو مریم نواز کی جانب سے جج ارشد ملک کی ایک اور ویڈیو جاری کیے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پیشی کے دوران مریم نواز شریف نے عدالت سے مہلت مانگتے ہوئے بتایا تھا کہ انہوں نے اپنا وکیل بدل لیا ہے جس کے ذریعے وہ اپنے کیس میں کچھ نئے شواہد پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس کے چند روز بعد لندن میں مسلم لیگی کارکن ناصر بٹ نے معروف صحافی اظہر جاوید سے انٹرویو کے دوران اعلان کیا تھا کہ وہ مستقبل قریب میں نواز شریف کو سزا سنانے والے مرحوم جج ارشد ملک کی ایک اور ویڈیو جاری کرنے جا رہے ہیں جو تھرتھلی مچا دے گی۔ ناصر بٹ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ ارشد ملک نے رائیونڈ میں نواز شریف کی رہائش گاہ پر جا کر باقاعدہ ان سے معافی مانگی تھی۔
خیال رہے کہ دو برس پہلے مریم نواز نے جج ارشد ملک کی گفتگو کی ایک ویڈیو جاری کی تھی جو کہ ناصر بٹ نے خفیہ طریقے سے ریکارڈ کی تھی۔ اس گفتگو میں انہوں نے اقرار کیا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا دینے کا فیصلہ انہوں نے بلیک میل ہوکر اور دباؤ میں آ کر دیا تھا جس پر وہ شرمندہ ہیں۔
لہذا مسلم لیگی حلقوں کا خیال ہے کہ زبیر کی جاری کردہ ویڈیوز حکومتی اور ریاستی عناصر کی کارروائی ہے جس کا بنیادی مقصد نون لیگ کی قیادت کو وارننگ دینا بھی ہو سکتا ہے کہ اگر ان کی جانب سے کوئی ویڈیو جاری کی گئی تو جواب میں نون لیگی رہنماوں کی مزید ویڈیوز بھی لیک ہو سکتی ہیں۔ محمد زبیر کی تردید کے برعکس حکومتی ذرائع کا اصرار ہے کہ لیگی ترجمان کی ویڈیوز اصلی ہیں اور انہیں تب فلمایا گیا تھا جب وہ گورنر سندھ ہوا کرتے تھے۔
بتایا جاتا ہے کہ محمد زبیر کی نازیبا ویڈیو جاری ہونے کے بعد اپوزیشن کے کئی رنگین مزاج رہنما ایک انجانے خوف کا شکار ہیں اور نہایت محتاط ہو چکے ہیں۔ زبیر کی تردید کے باوجود منظر عام پر آنے والی ویڈیوز نے ٹوئٹر کے ٹاپ ٹرینڈ میں جگہ بنائی۔ ملک کے مختلف حلقوں میں اب بھی اس ویڈیو پر بحث چل رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ویڈیو نہ صرف زبیر کے لیے ایک پیغام ہے بلکہ یہ نواز شریف اور مریم نواز شریف کے لیے بھی ایک پیغام ہے کیونکہ زبیر ان کے ترجمان ہیں۔
مسلم لیگ کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید کا کہنا ہے کہ کسی کی ایسی جعلی ویڈیو بنا کر چلانا ایک گھٹیا ترین حرکت ہے۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ کچھ لوگ اس حد تک گر سکتے ہیں۔ اس ویڈیو کے ذریعے حزب اختلاف کی جماعتوں کو پیغام دیا گیا ہے کہ اگر وہ ہمارے عزائم کی راہ میں حائل ہوئے تو ان کی بھی اسی طرح جعلی ویڈیوز منظر عام پر لائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے پیغامات 2018 کے الیکشن سے پہلے بھی دیے گئے تھے۔ پرویز رشید نے مطالبہ کیا کہ اس ویڈیو کو منظرعام پر لانے والے ذمہ داران پر مقدمہ چلایا جائے اور ان کو سزا دی جائے۔ سابق ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا نے بھی اسے سیاستدانوں کو بدنام کرنے کی سازش قرار دیا۔ دوسری جانب لیگی رہنما رانا ثنا اللہ خان نے کہا ہے کہ جن لوگوں نے محمد زبیر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ڈالی ہیں انھیں اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ویڈیوز کی فرانزک رپورٹ بھی سامنے لانی چاہیے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
جب ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے ایک سینیئر اہلکار سے پوچھا گیا کہ کیا ان کے خیال میں زبیر کی ویڈیوز اصلی ہیں یا نقلی، تو اسکا کہنا تھا کہ وہ فرانزک رپورٹ کے بغیر حتمی رائے نہیں دے سکتے لیکن بظاہر یہ ویڈیوز اصلی لگتی ہیں۔ جب پوچھا گیا کہ کیا وہ یہ پتہ لگا سکتے ہیں کہ زبیر کی ویڈیوز سب سے پہلے کس نے پوسٹ کیں، تو ایف آئی اے اہلکار نے کہا کہ "ہمارے پاس فی الحال ایسی کوئی ٹیکنالوجی موجود نہیں ہے”۔ تاہم ایک بات طے ہے کہ محمد زبیر کی ویڈیوز باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خفیہ کیمروں سے بنائی گئیں جن میں زیادہ تر آواری ہوٹل کے کمروں میں فلمائی گئی ہیں۔
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نگہت داد کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ایسے قوانین موجود ہیں جن کی تحت آپ نجی زندگی کے معاملات کا تحفظ کر سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سائبر کرائم کے انسداد کے لیے بنائے جانے والے قانون کی شق 20 اور 21 کے تحت کوئی بھی متاثرہ شخص متعلقہ اداروں سے رجوع کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آئین کی آرٹیکل 14 بھی آپ کی نجی زندگی کے معاملات کے مکمل تحفظ کی ضمانت دیتی ہے۔ جب کہ پاکستان پینل کوڈ کی کچھ شقوں کا اطلاق بھی اس معاملے پر ہو سکتا ہے۔ نگہت داد کا کہنا تھا کہ اس طرح کی قابل اعتراض ویڈیو کو اپ لوڈ کرنے کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ 2016 میں جب ہم نے اپنی ہیلپ لائن قائم کی تھی تو ہمیں 16 سے تیس تک ایسی شکایت آتی تھیں جن میں بلیک میلنگ، قابل اعتراض تصاویر یا آپ سے پوچھے بغیر آپ کے مواد کو اپ لوڈ کرنا شامل تھا۔ لیکن اب اس میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کرونا کے دوران ان معاملات میں بڑی تیزی آئی ہے اور اب ہمیں اوسطا 400 سے 500 کے قریب شکایات ماہانہ موصول ہو رہی ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کے علم میں نہیں کہ آیا ایسا کوئی میکنزم ہے یا نہیں جس کے ذریعےسوشل میڈیا پر سب سے پہلے کوئی ویڈیو یا قابل اعتراض تصاویر اپ لوڈ کرنے والے شخص کا پتہ لگایا جا سکے۔ لیکن میرے خیال میں حکومت کے پاس یقیناً ایسا کوئی میکنزم ہوگا جس کے تحت وہ یہ معلوم کر سکے کہ کوئی بھی قابل اعتراض ویڈیو یا تصویر یا کوئی اور مواد سب سے پہلے کس نے اپ لوڈ کیا۔

Back to top button