کیا سری لنکن مینجر کو تحریک لبیک والوں نے مارا؟


معلوم ہوا ہے کہ سیالکوٹ میں توہین مذہب کے الزام پر تشدد کے بعد جلا کر مار دئیے جانے والے سری لنکن فیکٹری مینیجر کے خلاف ہجوم کو مشتعل کرنے اور اکسانے میں تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان نے مرکزی کردار ادا کیا جن میں سے کئی فیکٹری کے ملازمین تھے۔
سیالکوٹ پولیس کے مطابق مارے جانے والے سری لنکن شہری کی شناخت پریانتھا کمارا کے نام سے ہوئی ہے جو کہ سیالکوٹ کی وزیر آباد روڈ پر ایک نجی فیکڑی میں بحثیت ایکسپورٹ مینجر خدمات انجام دے رہے تھے۔سیالکوٹ میں ہسپتال ذرائع کا کہنا تھا کہ ان کے پاس ایک انتہائی بری طرح جلی ہوئی لاش لائی گئی جبکہ شناخت ناممکن یو چکی تھی کیونکہ لاش تقریباً راکھ ہی بن چکی تھی۔
سوشل میڈیا پر اس واقعے کی کئی ویڈیوز شیئر کی گئی ہیں جن کے بارے میں دعویٰ ہے کہ وہ سیالکوٹ وزیر آباد روڈ کی ہیں۔ ان ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگانے والے مشتعل مظاہرین ایک نیم مردہ شخص کو گھسیٹتے ہوئے سڑک پر پھینکنے کے بعد اس پر ٹائر رکھتے ہیں اور پٹرول چھڑک کر آگ لگا دیتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جلتی ہوئی لاش کے اوپر کھڑے ہو کر لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگانے والے باریش نوجوانوں کا تعلق تحریک لبیک سے ہے۔ مظاہرین نے سری لنکن مینجر پر الزام لگایا گیا تھا کہ اسنے فیکٹری کے احاطے میں سے تحریک لبیک کا ایک پوسٹر اتار کر پیروں تلے روند دیا تھا جس میں آیات بھی لکھی ہوئی تھیں۔
سیالکوٹ پولیس کے مطابق واقعہ کے عینی شاہد محمد بشیر نے بتایا کہ صبح کے وقت فیکڑی میں یہ افواہ پھیل گئی تھی کہ پریانتھا کمارا نے توہین مذہب کی ہے۔ یہ افواہ تیزی سے پھیل گئی جس کے بعد تحریک لبیک سے ہمدردی رکھنے والے نوجوانوں کی جانب سے اکسائے جانے کے بعد فیکڑی ملازمین کی بڑی تعداد نے باہر نکل کر سڑک پر احتجاج شروع کر دیا۔ اسی احتجاج کے دوران یہ فیصلہ ہوا کہ مبینہ توہین مذہب کرنے والے مینجر کو نشان عبرت بنایا جائے چنانچہ لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگاتے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد دوبارہ فیکڑی کے اندر داخل ہو گئی اور پریا نتھا کمارا پر ڈنڈوں سے تشدد شروع کر دیا۔
ریسیکو 1122 کے ایک اہلکار نے بتایا کہ انھیں نے صبح 11:35 پر وزیر روڈ پر ہنگامہ آرائی کی کال آئی جس کے چند ہی منٹ بعد ٹیم موقع پر پہنچ گئی۔ لیکن وہ کہتے ہیں کہ جب ہم وہاں پہنچے تو تب تک پولیس کی نفری بہت کم تھی اور ہجوم بہت ذیادہ تھا۔
امدادی اہلکار کے مطابق ہم لوگ وردی میں تھے لیکن لوگ مشتعل تھے۔ ہمارے لیے ممکن نہیں تھا کہ ہم تشدد کا نشانہ بننے والے شخص کی کوئی مدد کر سکتے، ہجوم سخت مشتعل تھا اس لیے یہ بھی ممکن نہیں تھا کہ ہم کوئی مداخلت کرتے۔ اس دوران لوگ اس شخص کو تشدد کرتے ہوئے باہر سڑک پر لے آئے۔ امدادی کارکن کے مطابق جب اسے سڑک پر لایا گیا تو تب تک وہ ہلاک ہوچکا تھا۔ لیکن اسکے باوجود مشتعل لوگوں نے اس کو سڑک پر لا کر اس کے اوپر ٹائر رکھے اور پٹرول ڈال کر اسے نذر آتش کر دیا۔ اس دوران ہجوم میں شامل لوگ لبیک یا رسول اللہ کے نعرے لگاتے رہے۔ بتایا گیا یے کہ اس دوران پولیس فورس نے مداخلت کرنے کی کوشش کی مگر اس کی نفری بہت کم تھی جبکہ مشتعل لوگ بہت بڑی تعداد میں موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں:سرکاری اساتذہ کا پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا ، جھڑپ
ریسکیو 1122 کے امدادی کارکن کے مطابق ساڑھے بارہ بجے کے قریب ہم لوگ جلی ہوئی لاش ہسپتال پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔ موقعے کے ایک اور عینی شاہد کے مطابق فیکڑی ملازمین کا احتجاج بہت دیر جاری رہا اور اس میں اردگرد کے علاقوں کے لوگ بھی بڑی تعداد میں شامل ہو گے۔ تحریک لبیک سے وابستہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بھی اسی دوران مشتعل ہجوم کا حصہ بنی اور پھر مجمع کی قیادت سنبھال لی جسکے بعد فیکٹری مینیجر کو قتل کر دیا گیا۔

Back to top button