کیا شرپسند یوتھیوں کیخلاف گھیرا مزید تنگ ہونے والا ہے؟

سینئر صحافی مزمل سہروردی کا کہنا ہےکہ سوشل میڈیا پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور عدلیہ کے خلاف مہم پاکستان تحریک انصاف کے بیرون ملک مقیم کارکنان چلا رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کا بیرون ملک چیپٹر پاکستان میں پی ٹی آئی کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔نگران حکومت نے عدلیہ کو بدنام کرنے کے لیے چلائی جانے والی بدنیتی پر مبنی مہم کو روکنے کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس اقدام سے پی ٹی آئی پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گا۔
سینئر صحافی مزمل سہروردی کا مزیدکہنا ہے کہ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید کو ڈبل گیم کھیلنے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ سیاستدانوں کے ساتھ ڈبل گیم کھیلنے کے عادی تھے۔ اسی طرح سیاستدان بھی ان کے دور میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈبل گیم کھیلتے تھے۔ لیکن اب موجودہ اسٹیبلشمنٹ میں کسی بھی دوہرے کھیل کی قوت برداشت نہیں ہے۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر ڈبل گیم نہیں کھیلتے اور نہ ہی کسی کو بھی ڈبل گیم کھیلنے کی اجازت دیں گے۔مزمل سہروردی کے مطابق شیخ رشید، فواد چوہدری اور عثمان ڈار نے اسٹیبلشمنٹ سے معافی مانگی اور معافی ملنے کے بعد دوبارہ اسٹیبلشمنٹ کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دیا۔ جس کی وجہ سے انہیں اب مشکل حالات کا سامنا ہے۔
مزمل سہروردی کے مطابق عارف علوی، شیر افضل مروت، حامد خان اور بیرسٹر گوہر سمیت پی ٹی آئی کے تمام اہم رہنما ’بڑے ٹکڑے‘ کو چھیننے کے لیے گدھ کی طرح ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں۔مزمل سہروردی نے مزیدکہا کہ پی ٹی آئی کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے پاس ‘ پلان سی’ ہے۔ اس سے پہلے عمران خان کہتے تھے کہ ان کے پاس ’پلان بی‘ ہے، اور سب نے دیکھا کہ پی ٹی آئی اپنے ’پلان بی‘ پر عمل درآمد کے بعد سیاسی میدان سے ختم ہو گئی۔تاہم عمران خان کے ‘ پلان سی’ پر عملدرآمد کرتے ہوئے پی ٹی آئی نے عام انتخابات کو متنازعہ بنانے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے دو لابنگ فرموں کی خدمات حاصل کی ہیں۔مزمل سہروردی نے کہا کہ جب تک پی ٹی آئی ریاستی اداروں سے لڑنا بند نہیں کرتی تب تک تکلیف اٹھاتی رہے گی۔ پی ٹی آئی کو 8 فروری کے بعد مشکل وقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع بتاتے ہیں کہ ’’چلّہ‘‘ کاٹنے کے بعد شیخ رشید نے ایک نجی ٹی وی چینل کو جو انٹرویو دیا تھا۔ اس کی تمام تفصیلات سے جیل میں قید عمران خان کو آگاہ کردیا گیا تھا اور بانی پی ٹی آئی اس پر سخت ناراض تھے۔ اگرچہ شیخ رشید نے اپنے تئیں اس انٹرویو کو متوازن بنانے کی کوشش کی۔ دوران انٹرویو وہ نو مئی کے واقعات کی بظاہر مذمت کرتے رہے اور بتاتے رہے کہ کس طرح وہ عمران خان کو قائل کرتے تھے کہ اداروں کے خلاف بیان بازی نہ کریں اور دوسری جانب عمران خان سے اپنی دوستی کا دم بھی بھرتے رہے۔انہوں نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کوشش کی یعنی اسٹیبلشمنٹ کو بھی راضی کرلیا جائے اور عمران خان کو بھی ناراض نہ کیا جائے تاکہ الیکشن میں انہیں پی ٹی آئی کی بیساکھی دستیاب رہے۔ لیکن ان کی یہ ڈبل گیم بری طرح فلاپ ہوگئی۔
ذرائع کے مطابق عمران خان نے چند ہفتے پہلے ہی فیصلہ کرلیا تھا کہ اب شیخو سے جان چھڑانے کا وقت آگیا ہے۔ شیخ رشید کے انٹرویو کے بعض حصوں پر وہ سخت برہم تھے۔ رہی سہی کسر ان کے ساتھ ملاقات کرنے والے وکلا نے پوری کردی جو خود بھی نہیں چاہتے تھے کہ شیخ رشید کو اس بار راولپنڈی میں کھلا میدان فراہم کیا جائے۔ چنانچہ عمران خان نے شیخ رشید اور ان کے بھتیجے شیخ راشد کو سائیڈ کرکے اپنے امیدواران اتارنے کا گرین سگنل دیدیا۔ یوں اب الیکشن والے روز دونوں سیاسی یتیم چچا، بھتیجا جھولی پھیلاکر صدا لگارہے ہوں گے ’’ووٹ دے دو ، ووٹ دے دو‘‘۔
